ملک شدید خشک سالی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی ایڈوائزری کمیٹی نے اپریل میں پانی کی 43 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا ہے۔ ارسا پانی کی قلت کا جائزہ لینے کیلئے ماہانہ بنیادوں پر صورتحال کی نگرانی کرے گا۔ قلت کی اتنی بڑی مقدار نہری بہاؤ کو صرف پینے کے پانی کی ضروریات تک محدود کر دے گی، جس سے زرعی زمینیں بنجر رہ جائیں گی۔
مارچ کے تیسرے ہفتے میں، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے خشک سالی کا الرٹ جاری کیا۔ الرٹ میں بارش کی تشویشناک صورتحال کا انکشاف کیا گیا۔ ملک میں معمول سے 40فیصد کم بارش ہوئی۔ سندھ 62فیصد معمول سے کم بارش کے ساتھ خشک ترین صوبہ رہا۔ جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں یکم ستمبر 2024سے 21مارچ 2025 کے درمیان معمول سے بالترتیب 38فیصد اور 52 فیصد کم بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، دریائے سندھ اور جہلم کے کیچمنٹ علاقوں میں برفباری بھی معمول کے 49.7انچ کے مقابلے میں مایوس کن طور پر 26.8 انچ کم رہی۔
اگلی سہ ماہی کا موسمی منظرنامہ بھی تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے یہ عذاب جلد ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ معمول سے کم بارش اپریل میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ مٹی میں نمی کی کمی کو مزید شدید کر سکتی ہے۔ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، موسمی حالات اس موسم کے دوران ہیٹ ویو (شدید گرمی کی لہر) کے امکان کی نشاندہی کر رہے ہیں، خاص طور پر جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں۔
اگرچہ تمام صوبے خشک سالی کا شکار ہیں، لیکن سندھ، جو دریائے سندھ کے نچلے حصے میں واقع ہے، بدترین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ سکھر بیراج، جو سندھ کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، 1991 کے پانی کے معاہدے کے تحت اپنے مختص کردہ حصے سے نصف سے بھی کم پانی وصول کر رہا ہے۔ محکمہ آبپاشی کسانوں کو خریف کی بوائی میں تاخیر کرنے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول کو چھو چکا ہے۔ سندھ میں خریف کی بوائی جلد شروع ہوتی ہے اور اپریل کے پہلے ہفتے میں پانی کی مانگ 40,000 کیوسک تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ بہاؤ 20,000 کیوسک سے بھی کم ہے۔ اگر اپریل کے وسط تک صورتحال بہتر نہ ہوئی تو کپاس، گنے، آم، کیلے اور سبزیوں کی پیداوار خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس کے برعکس، پنجاب کو زیر زمین پانی کی فراوانی اور خریف کی تاخیر سے بوائی کا فائدہ حاصل ہے۔
اگرچہ یہ سال کوئی غیررواجی نہیں ہے۔ گزشتہ دس سال میں سے پانچ برس کے دوران، تربیلا ڈیم مارچ کے تیسرے ہفتے میں ڈیڈ لیول تک پہنچ گیا تھا۔ یہ رجحان خشک سالی کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ مون سون کے 8-10 ہفتوں کے علاوہ، دریائے سندھ کو مناسب بہاؤ نہیں ملتا۔ یہ کوٹری بیراج سے نیچے بہاؤ کے گرتے ہوئے رجحان کی وضاحت کرتا ہے۔ گزشتہ 25 سال کے دریا کے بہاؤ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 12 سال کے دوران، کوٹری بیراج سے نیچے بہاؤ 10 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) سے بھی کم تھا، جس پر 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا۔ کوٹری بیراج سے نیچے اوسط سالانہ بہاؤ 1976-1998 کے دوران 40.69 ایم اے ایف سے 1999-2022کے دوران صرف 14 ایم اے ایف تک ڈرامائی طور پر کم ہو گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار کوٹری بیراج سے نیچے اضافی بہاؤ کے اس کثرت سے کیے جانے والے دعوے کو مسترد کرتے ہیں، جسے اکثر دریائے سندھ پر نئے ذخائر اور نہروں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
زمینی صورتحال ایک بنیادی تبدیلی پر غور کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹPakistan's Water Economy, Running Dry، خبردار کرتی ہے کہ گلیشیرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں، آنے والی دہائیوں میں دریائے سندھ کے طاس میں پانی کے بہاؤ میں 30سے 40فیصد کمی کا امکان ہے۔ نئے ڈیموں اور نہروں کی تعمیر پر انحصار کرنے کا موجودہ طریقہ کار قلیل وسائل کے ضیاع کا نتیجہ ہوگا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز میگا انفراسٹرکچر منصوبوںکیلئے اپنے جنون سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ نئی آبی تعمیرات زیادہ پانی کا مطالبہ کرتی ہیں، جو کہ انڈس طاس میں دستیاب نہیں ہے۔
دریائے سندھ کے طاس میں پانی کی اتنی بڑی قلت کے درمیان نئی نہروں کیلئے ضد کرنا اور کئی ملین ایکڑ پر کارپوریٹ فارمنگ کے ایک پرجوش منصوبے پر پیش رفت کرنا کسی بھی لحاظ سے قابلِ عمل نہیں۔ ہماری توجہ آبی وسائل کے تحفظ کی طرف منتقل کی جانی چاہیے۔ ہماری غیر معمولی طور پر زیادہ پانی کی ضائع ہونے والی مقدار، فرسودہ زرعی طریقے، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کا غلط انتخاب اور ناقص بیج، زرعی ادویات اور کھاد کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی فی یونٹ پانی اور زمینی پیداواری صلاحیت اس خطے میں سب سے کم ہے۔ بہتر طریقوں کے ذریعے اپنی فصل کی فی ایکڑ اور فی کیوسک پیداوار بڑھانےکےلئےاس امر کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
نئے ذخائر اور پانی موڑنے کے منصوبے نہ صرف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے غلط ترجیح ہیں بلکہ یہ متنازعہ منصوبے صوبوں کے درمیان تناؤ کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ پہلے سے ہی غیر مستحکم سیاسی عدم استحکام نے وفاقی اکائیوں کے درمیان تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ پانی کی تقسیم بالائی اور زیریں صوبوں کے درمیان گہرے عدم اعتماد کے بوجھ کے ساتھ ایک متنازعہ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایک پرآشوب آبی محاذ کو سنبھالنےکیلئے زیادہ ہم آہنگی اور دانشمندانہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔