حکومت کی موثر معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ کاروباری سیشن میں ہنڈریڈ انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے نتیجے میں انڈیکس ایک لاکھ 39ہزار کی اہم حد عبور کر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ اور مالی استحکام کے لیے کی گئی پالیسیاں مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت رہا ہے۔
بہرحال، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اس وقت تاریخی تیزی کا رجحان جاری ہے اور مسلسل کئی ہفتوں سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سے انڈیکس تقریباً ہر روز ہی ایک نئی حد عبور کر رہا ہے۔ حالاں کہ پاکستان کے معاشی اشاریے مجموعی طور پر اطمینان بخش نہیں، تاہم 2024-25میں ملکی اسٹاک ایکس چینج نے اپنی تاریخ ساز کارکردگی کی بِنا پر بھرپور توجّہ حاصل کی اور اس عرصے میں مارکیٹ قوانین بہتر سے بہتر کیے گئے۔ واضح رہے، گرانی اور ذرائع آمدنی کے محدود ہونے کے باوجود روزانہ اربوں روپے کا کاروبار کرنے والی اسٹاک مارکیٹ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس لاکھ افراد وابستہ ہیں۔
بہرکیف، بعض معاشی تجزیہ کاروں کے نزدیک اسٹاک مارکیٹ کی بے مثال کارکردگی اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی، جب تک عام آدمی کو اس کے ثمرات نہ ملیں۔ جیسا کہ یکم جنوری 2024ءکو 62ہزار451سے انڈیکس کا شروع ہونے والا سفر تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ35ہزار 686پر بند ہوا، جس سے سرمایہ کاروں کو 55ارب کا فائدہ اور مارکیٹ سرمائے کا مجموعی حجم15ہز ار767ارب روپے ریکارڈ ہوا۔
چوں کہ موجودہ معاشی نظام میں اسٹاک ایکس چینج، اقتصادی استحکام جانچنے کا موثر ذریعہ ہے اور بیش تر خامیوں کے باوجود اسے ملکی معیشت میں نمایاں مقام حاصل ہے، تو آئیے جانتے ہیں کہ پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ، ہزار سے ایک لاکھ پوائنٹس سے زائد انڈیکس اور کروڑوں سے کھربوں روپے سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ کیوں کرممکن ہوا؟ ذیل میں تفصیلی جائزہ پیشِ خدمت ہے۔
صنعتوں کے قیام کے لیے سرمایہ ضروری ہے اور یہ عموماً دوطریقوں سے حاصل کیا جاتا ہے، ایک طریقہ نفع و نقصان کی بنیاد پر اور دوسرا قرض سے۔ جدید صنعتی دَور میں مصنوعات کی وسیع پیمانے پر تیاری کے لیے بڑے یونٹ قائم کیے جاتے ہیں اور ان صنعتی یونٹس کے قیام کے لیے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چوں کہ ایک یا چند افراد ایک بڑے صنعتی یونٹ کے لیے مالی وسائل فراہم نہیں کرسکتے، لہٰذا جوائنٹ اسٹاک کمپنی کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے، جس کے کئی حصّے دار ہوتے ہیں۔ کمپنی کے ادا شدہ سرمائے کی اکائی کو حصص (شیئرز) کہا جاتا ہے۔
یہ حصص دار (شیئرہولڈر) کمپنی کے نفع و نقصان میں شریک ہوتے ہیں۔ تاہم، پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں حصّے داروں کی تعداد کم ہوتی ہے، اس لیے قانونی تقاضے بھی کم ہوتے ہیں، جب کہ پبلک لمیٹڈ کمپنی کے بہت سے حصّے دار ہوتے ہیں۔ اس کمپنی کے حصص عوام کے لیے بھی پیش کیے جاتے ہیں اور اس کے قانونی تقاضے زیادہ ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ حکومت پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کو عوام تک وسعت دینے کے ضمن میں متعدد ترغیبات بھی دیتی ہے، تاکہ ایک طرف صنعت کاری کو فروغ ملے تو دوسری طرف عوام کو موقع کہ وہ اپنی بچتوں سے مختلف صنعتوں کے حصص خرید کر ان کے نفعے اور ترقی میں شریک ہوسکیں۔ نیز، سرمایہ داروں کو یہ سہولت حاصل ہوکہ وہ جب چاہیں، کمپنی کے حصص خرید یا بیچ سکیں۔ غرض، حکومت، اس طرح کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس کے لیے اسٹاک ایکس چینج کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر اسٹاک ایکس چینج درج شدہ پبلک لمیٹڈ کمپنیز کے حصص کی خریدوفروخت کے لیے مارکیٹ فراہم کرتا ہے۔ اسٹاک ایکس چینج یا اسٹاک مارکیٹ میں اسٹاک بروکرز کی تنظیم طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق شیئرز کا کاروبار کرتی ہے۔ اس کاروبار میں مہارت، تجربے سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا اس کام سے منسلک افراد کا محتاط، چوکس اور تیز فہم ہونے کے ساتھ مارکیٹ میں رجسٹرڈ کمپنیز کے معاملات، مقامی، قومی اور عالمی سیاست، معاشی حالات اور امن و امان کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
اسٹاک ایکس چینج کے عالمی سطح پر قیام کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ جب نیویارک کے اسٹاک ایکس چینج کی بنیاد رکھی گئی، تو ایکس چینجز کی ایک عالمی برادری پہلے ہی سے وجود میں آچکی تھی۔ یعنی پہلے اسٹاک ایکس چینج کی بنیاد ایمسٹرڈیم میں 1602ء میں رکھ دی گئی تھی۔ بعد ازاں، لندن اور جرمنی میں فرینکفرٹ کے اسٹاک ایکس چینج قائم کیے گئے۔
تاہم، ایمسٹرڈیم کو پہلا سرکاری اسٹاک ایکس چینج اور ڈچ ایسٹ انڈیا کو آئی پی او جاری کرنے والی دنیا کی پہلی کمپنی کہا جاتا ہے۔ 1773میں لندن اور 1792ء میں نیو یارک اسٹاک ایکس چینج کی بنیاد رکھی گئی۔1875 ءممبئی میں برصغیر کی پہلی اسٹاک مارکیٹ قائم ہوئی۔ 1934ء میں لاہور اسٹاک مارکیٹ قائم کی گئی، جسے بعد ازاں، دہلی اسٹاک مارکیٹ میں ضم کردیا گیا۔
ہندوستان کی تقسیم کے بعد معرضِ وجود میں آنے والی نئی مملکت، پاکستان میں اسٹاک ایکس چینج کا آغاز 18ستمبر1947ء کو اُس وقت کے دارالحکومت کراچی سے ہوا۔ ابتدا میں پانچ کمپنیز لسٹڈ تھیں، جن کا ادا شدہ سرمایہ 37ملین ڈالر (3کروڑ70لاکھ) روپے اور90اراکین میں سے صرف دس ہی فعال تھے۔ 1950ء تک 15کمپنیز اور سرمایہ (لسٹڈ کیپیٹل) گیارہ کروڑ73لاکھ روپے تھا۔
جنوری 2016ء میں کراچی اسٹاک ایکس چینج کے انضمام سے آخری ہفتے تک کُل سرمایہ کاری کی مالیت69 کھرب50ارب85کروڑ 21لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ 1956ء میں پاکستان کی دوسری اسٹاک مارکیٹ، سابق مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکا میں قائم ہوئی۔ 1970ءمیں صوبوں کے قیام کے بعد11مئی 1971ء کو لاہور اسٹاک ایکس چینج قائم ہوا، جہاں ابتدائی طور پر 83کمپنیز لسٹڈ تھیں۔ 1992ء میں لاہور اسٹاک ایکس چینج نئی عمارت میں منتقل ہوا، تو یہاں کاروباری سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ اکتوبر1989ء میں ملک کی چوتھی اسٹاک ایکس چینج اسلام آباد میں قائم کرنے کا فیصلہ ہوا اور 10اگست 1992ء کو اس کا افتتاح ہوا۔
اُس زمانے میں اسلام آباد اسٹاک مارکیٹ کے صدر امان اللہ خان تھے۔ نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت کے دوران 30نومبر2015ء کو مسابقتی کمیشن نے ملک کی تینوں اسٹاک ایکس چینج کے انضمام کی منظوری دی۔ جس کے بعد پاکستان کی اسٹاک مارکیٹس (کراچی، لاہور اور اسلام آباد) کو ملا کر 11جنوری 2016 کو پاکستان اسٹاک ایکس چینج (PSX) کی بنیاد رکھی گئی۔
اس انضمام کا مقصد مارکیٹ میں کارکردگی اور شفّافیت کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کو ایک متحد پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ ابتدائی طور پر پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں لگ بھگ 100بروکرز کو سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے اور پہلے کاروباری ہفتے میں پاکستان اسٹاک کا مجموعی سرمایہ 65کھرب68ارب 82کروڑ51لاکھ 13 ہزار ریکارڈ کیا گیا۔
ابتدائی برسوں سے اب تک اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیاں
پاکستان کی پہلی کراچی اسٹاک مارکیٹ نے78برس قبل کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا، تو دسمبر1949ء میں ابتدائی کمپنیز میں محمدی اسٹیم شپ، حبیب بینک، کراچی الیکٹرک، حیدرآباد الیکٹرک، اورینٹ ائرویز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، مسلم کمرشل بینک، ڈھاکا الیکٹرک اور ولیکا ٹیکسٹائل مل وغیرہ کے شیئرز کا کاروبار ہوتا تھا۔
ملک کے ابتدائی برسوں میں نجی اور سرکاری سیکٹر کے درمیان تعاون کی وجہ سے60ء کی دہائی تک معیشت دھیرے دھیرے صحت مندانداز میں آگے بڑھتی رہی، تاہم 1970ء کا عشرہ معیشت کے لیے مشکل ترین رہا۔ سقوطِ ڈھاکا کے بعد60کمپنیز کے مارکیٹ سے انخلاء اور 18کمپنیز قومیانے کے بعد70فی صد معیشت حکومت اور 30فی صد نجی شعبے کے کنٹرول میں آگئی۔ 1990ء تک کراچی اسٹاک محدود مارکیٹ تھی، حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر غیرملکی سرمایہ کاروں کو کراچی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں تھی۔ حالاں کہ اسٹاک کے کاروبار میں سرمایہ کار، انڈیکس کے گھٹنے اور بڑھنے ہی سے منافع اور نقصان اٹھاتے ہیں۔
جس کمپنی کے شئیرز زیادہ خریدے جائیں، ان کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور جس کے زیاد بیچے جائیں، اُس کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ زیادہ کمپنیز کے شئیرز کی قیمت بڑھنے سے انڈیکس میں تیزی دیکھنے میں آتی ہے اور کاروبار کم ہونے یا شیئر بیچنے سے انڈیکس گر کرمندی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس اُتار چڑھائو ہی میں کوئی کماتا ہے، کوئی گنواتا ہے۔ پہلے انڈیکس کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں مارکیٹ میں کروڑوں کا خسارہ ہوتا تھا، لیکن آج یہ خسارہ اربوں روپوں میں ہوتا ہے۔
پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ میں سب سے پہلی نمایاں کاروباری سرگرمی میاں نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت 1990ء سے1993ء میں شروع ہوئی۔ 1990ء میں میاں نواز شریف پہلی مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو1991ء میں اسٹاک مارکیٹ غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھول دی گئی، سرمایہ کاری اور شیئرز کے منافعے سے حد ختم کرکے نجی ملکیت اور تجارتی بینک قائم کرنے اور پاکستانیوں کو غیرملکی اکائونٹ کھولنے کی اجازت دے دی گئی، جس کے بعد سے اسٹاک مارکیٹ میں کمپنیز اور سرمائے میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔
دسمبر1991ءتک 100انڈیکس 762پوائنٹس پر تھا۔ 1992ء میں پہلی مرتبہ 1000پوائنٹس کو عبور کیا، جولائی1992ء میں 100انڈیکس1400کی حد عبور کرچکا تھا، لیکن2اگست1992ء کو بتدریج گر کر 1286اعشاریہ 27پر آگیا اور جنوری1993ء تک 1224 اعشاریہ 10تک رہا۔ تاہم، بعدازاں مارکیٹ میں نئی تیزی بے نظیر بھٹو کے زیرِقیادت حکومت میں دیکھنے میں آئی۔ 19دسمبر 1993 میں انڈیکس نے 30پوائنٹس اضافے کے ساتھ تاریخ میں پہلی مرتبہ 2000 پوائنٹس کی حد عبور کی۔ مارکیٹ بند ہوتے وقت انڈیکس 2028پر تھا۔ 4جنوری 1994کو انڈیکس، 74اعشاریہ 84پوائنٹس کے اضافے کے بعد پہلی مرتبہ 2200پر پہنچا، جب کہ 22مارچ 1994ء کو کراچی اسٹاک میں 100انڈیکس 2661 اعشاریہ تین کی ریکارڈ حد پر پہنچنے کے بعد بتدریج نیچے جانے لگا۔
اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو 2002ء کے آخری مہینوں میں انڈیکس میں اضافہ ہوا اور2300کی حد عبور کرگیا۔ لاہور اسٹاک 379انڈیکس پر بند ہوا۔ 9دسمبر 2002کو پہلے کاروباری دن100انڈیکس بڑھ کر پہلی مرتبہ 2400اور 18دسمبر2002ء کو 2500کی حد عبور کرگیا، 31دسمبر 2002ء کو پہلی مرتبہ 27001پر پہنچا۔ 9جنوری2003ء میں 51پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی مرتبہ 2800کی حد عبور کرتے ہوئے 2829پر اور 15جنوری 2003ء کو 2900کی حد عبور کرتے ہوئے 2950 پر پہنچا۔
16مئی 2003ء میں 100انڈیکس نے 24اعشاریہ 68پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی مرتبہ تین ہزار کی حد پار کی اور مارکیٹ3003.3پر بند ہوئی۔ 8جولائی 2003ء کو 27پوائنٹس اضافے کے ساتھ 3500اور یکم اگست 2003ء کو 86 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 4000پوائنٹس کی حد عبور کرتے ہوئے 4019 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 12ستمبر2003ء کو کراچی اسٹاک نے4600 کی حد عبور کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا اور حصص کی مالیت 10کھرب 20ارب روپے ہوگئی، جب کہ لاہور اسٹاک میں انڈیکس 2774 کی حد پر تھا۔
29 مارچ2004 ء کو اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 5000کی حد عبور کی اور حصص کی مالیت 13کھرب روپے سے زائد ہوگئی۔ 15اپریل 2004ء کو کراچی اسٹاک میں پہلی مرتبہ 5500اور لاہور میں 3100 کی حد عبور ہوئی۔ تاہم، پھر مارکیٹ کچھ دن اتار چڑھائو کا شکار ہوئی اور اسی دوران 21اپریل کو مندی کا نیا ریکارڈ بنا۔
اس دن کراچی میں 159پوائنٹس اور لاہور میں 113پوائنٹس گر گئے۔ مارکیٹ کے اتار چڑھائو سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ 15دسمبر2004 کو 58پوائنٹس اضافے کے ساتھ انڈیکس نے 5800اور 23دسمبر کو پہلی مرتبہ چھے ہزار کی حد عبور کی۔ 14مارچ2005ء و ہ تاریخی دن تھا، جب پہلی مرتبہ 100انڈیکس نے400پوائنٹس کے اضافے سے دس ہزار کی حد عبور کی اور مارکیٹ میں سرمایہ 27کھرب 36ارب 94کروڑ 56لاکھ روپے سے تجاوز کرگیا۔
تاہم،17مارچ سے کراچی اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہونے لگی اور26مارچ تک انڈیکس گر کر 8000پوائنٹس پر پہنچ گیا۔اس دوران کھربوں روپے سے زائد کا خسارہ ہوا۔کاروباری نقصان سے پریشان متاثرین نے ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ شروع کردی۔اس شدید مندی سے اسلام آباد اور لاہور اسٹاک کے انضمام کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔
دس ماہ بعد 16جنوری2006ءکو انڈیکس نے آگے بڑھتے ہوئے دوبارہ دس ہزار کی حد عبور کی۔13اپریل100 انڈیکس68 اعشاریہ پانچ پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 12ہزار کی حد عبورکیا، جس کے بعد حسبِ معمول مارکیٹ میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور 15جون کو کراچی اسٹاک میں بدترین مندی کے سبب 100انڈیکس گرکر 8766 پوائنٹس پر آگیا۔یہ مارکیٹ کی 58 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی مندی تھی، جس میں 548پوائنٹس کی کمی سے سرمایہ کاروں کو ڈیڑھ کھرب کا خسارہ ہوا۔
مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر بے یقینی کی فضا چھاگئی۔ اگلے چند ماہ مارکیٹ پھر اوپر، نیچے ہوتے ہوئے آگے بڑھتی رہی، بالآخر 5جون 2007ءکو کراچی اسٹاک نے 13000کی حد عبور کرلی۔ نیز، اسی برس کراچی اسٹاک مارکیٹ میں شیئر کی مالیت45کھرب روپے اور کمپنیز کی تعداد658 ہوگئی۔3اکتوبر2007ء کو انڈیکس نے پہلی بار 14000کی حد عبور کی۔تاہم،2007ء کے آخری چھے ماہ سیاسی افراتفری سے بھرپور رہے ۔27دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعدملک بھر میں امن وامان کی صورتِ حال انتہائی سنگین ہوگئی، سہ روزہ سوگ کے بعد 31دسمبر 2007ء کو کراچی اسٹاک میں شدید مندی کا رحجان رہا۔
18 فروری 2008ء کے عام انتخابات کے بعدکاروبار میں پھر بہتری دیکھی گئی اور26فروری 2008ءکو109پوائنٹس اضافے کے ساتھ پہلی مرتبہ 15000 کی حد عبور ہوئی ،لیکن پھر اس کے بعد مارکیٹ بے یقینی کا شکار ہوگئی۔27اگست تک100انڈیکس گر کر9144پر آگیا۔مزید خسارے سے بچنے کےلیے 100انڈیکس 9000پر منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،تاہم ساڑھے تین ماہ بعد سیکوریٹی و ایکس چینج کمیشن کے احکامات پر 15دسمبر کو انجمادختم کردیا گیا۔ مجموعی طور پر 2008ءاسٹاک مارکیٹ کے لیے بہت بُرا سال ثابت ہوا۔ تاہم، ساڑھے چار سال بعد 2 نومبر2012ءکو ایک بار پھر کراچی اسٹاک نے نیا ریکارڈ بنایااور 100انڈیکس میں16000کی حد عبور ہوئی۔
2013ءکاروباری لحاظ سے اسٹاک ایکس چینج کا خوش گوار سال تھا۔ اس سال کراچی اسٹاک ایکس چینج کو ایشیا کی بہترین اور دنیا میں دوسرے نمبر پر مارکیٹ قرار دیا گیا۔ 22فروری 2013ء کو 100انڈیکس نے پہلی مرتبہ 18000 کی حد عبور کی۔ 2013ء میں پاکستان مسلم لیگ نون نے تیسری مرتبہ انتخابی کام یابی حاصل کی، تو 13مئی 2013ء کو کراچی اسٹاک مارکیٹ 329پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی مرتبہ 20ہزار کی حد پار کر کے20245پر پہنچی، 13دسمبر 2013ء کو 185پوائنٹس کے اضافے سے پہلی مرتبہ25100کی حد اور17 جولائی 2014ء کو 401پوائنٹس اضافے کے ساتھ پہلی مرتبہ 30ہزار کی سطح پر پہنچ گئی۔11 جنوری 2016ء لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے انضمام سے بننے والی پاکستان اسٹاک ایکس چینج نے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ مارکیٹ میں 100انڈیکس پہلے روز 32320اعشاریہ دو صفر پر بند ہوا۔
12اگست2016ءکو پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 100انڈیکس نے پہلی مرتبہ 40ہزار اور 8مئی2017کو پہلی مرتبہ پچاس ہزار کی حد عبور کی اور 50939 اعشاریہ 9پر مارکیٹ بند ہوئی۔ 28نومبر2023 ء کو 100 انڈیکس نے پہلی مرتبہ 919پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ60 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کی اور 60700پر مارکیٹ بند ہوئی۔ 9اپریل 2024ء کو 695پوائنٹس اضافے کے ساتھ 100انڈیکس 70ہزار پوائنٹس پر تھا۔ 21جون کو انڈیکس نے 80ہزار کی حد، جب کہ28 اکتوبر کو 202پوائنٹس کے اضافے سے 90ہزار کی حد عبور کی۔ 28نومبر پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا یادگار دن تھا، جب 814پوائنٹس کے اضافے سے 100انڈیکس نے ایک لاکھ پوائنٹس کی حد عبور کی۔
مارکیٹ بند ہونے تک 100انڈیکس ایک لاکھ 83 پر موجود تھا۔ 11دسمبر 2024ء کو 100انڈیکس 1913اعشاریہ 57اضافے کے ساتھ 110810اعشاریہ 22کی تاریخی سطح پر بند ہو اور 3جون 2025ء کو 1573پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 20ہزار کی تاریخی حد پہلی مرتبہ عبور کی گئی۔ 2جولائی 2025ء کو پاکستان اسٹاک ایکس چینج نے تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پہلی بار 130,000پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرلی۔ 14جولائی 2025ء کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے 1360000 کی حد عبور کی۔ اور امید کی جارہی ہے کہ رواں برس کے آخر تک انڈیکس ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ہوجائے گا۔