رابطے کے شوقین پاکستان کے ہر،ان پڑھ دیہاتی،شہری، عورت ،مرد اور بچے بوڑھے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اوراس کے اندر اسکے ایسے ایسے مددگارہیں کہ وہ بغیر آواز کے اس سے دل کی ہر بات کرلیتے ہیں اور سن لیتے ہیں۔۔۔ اک دل نے کہی،اک دل نے سنی،وہ چاہیں تلاوت اور نعت سنیں،اپنے لئے مجازی خدا تلاش کریں یا راوی،ستلج یا جہلم یا سیالکوٹ کے سیلابی ریلے کی آواز سنیں۔ آپ انکے پسندیدہ لیڈر کو جیل میں بھیج دیں، جلاوطن کر دیں یا سولی پر چڑھا دیں یا اس کی تصویراور آوازکو گم کردیں وہ کہیں نہ کہیں،کسی نہ کسی طرح اس سے رابطہ کر لیتے ہیں۔ان میں سے جوپڑھنے لکھنے کیلئے درس گاہ جاتے ہیں ان کے سمجھ داراستاد سمجھاتے ہیں اگر منظور شدہ لفظوں کے کوٹے میں لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھتے رہو گےتوباقی لوگوں کی طرح مشکلیں نہیں دیکھو گے۔
ایسے سبق کے بعد ان سے پوچھیں کہ آپ اپنے ملک میں کتنے صوبے چاہتے ہیں؟ تو وہ کہیں گے مائی باپ! جتنے آپ ہمیں دے سکتے ہیں اور ہماری پھٹی ہوئی جھولی میں آسکتے ہیں دے دیں مگر اس میں صاف پانی ہو،تھوڑا سا سبزہ ہو،روشنی ہو اور میری ماں ہو بس! لیکن کبھی کبھارکوئی اسے نئے پاکستان کا نقشہ دکھا کر،ہمارے دستورپر لیکچر دے کر ماضی کی ایسی ادھوری کوششوں کی بات کرے تو ممکن ہے کہ اس کے بابا یا دادا کی یاد داشت میں اردو سندھی لسانی فسادات نہ بھی ہوں،پکا قلعہ آپریشن کی تلخیاں نہ بھی ہوں تو انہیں حیدر آباد کی دیواروں پر لکھا یہ نعرہ نہ بھولا ہو گا "مظلوم مہاجروں کی امداد کے لئے میر سپاہ جنرل ٹکا خان حیدر آباد پہنچ گئے" گویا کچھ لوگ چاہتے تھے کہ ضیا الحق والا جولائی کچھ برس آجائے دوسری طرف بھٹو چاہتے تھے کہ مچھیروں کی بستی مائی کولاچی پاکستان کا دارالحکومت بن کر جو عروس البلاد بنی ہےاور اب کروڑوں افراد کے لئے روزگار،ٹھکانے اورترقی کی امید بن رہی ہے اس میں دیہی سندھ کو شریک کرنے کے لئے "کوٹہ سسٹم " کچھ برسوں کے لئے مقرر کر دیا جائے تاہم بروقت اس سسٹم کو ختم نہ کرنے سے ایک دیوار مستقل یہاں کھڑی ہوگئی،بے شک اب کراچی کے چار ضلع بنا دئیے گئے ہیں بلدیاتی نظام بھی قائم ہےمگر باہمی عدم اعتماد بہت زیادہ ہے ماجرا یہ ہے کہ ہم "اتفاق رائے" کی باتیں بہت کرتے ہیں مگر جمہوریت کی بنیاد مضبوط والے اداروں( پارلیمنٹ ،سیاسی جماعتیں، عدلیہ) کو تقویت دینے والے اختلاف رائے کو ملک دشمنی خیال کرتے ہیں۔میری رائے میں جہاں جہاں ہمیں آئینی راستہ مل سکتا ہے وہاں وہاں تو صوبے بناتے جائیں جیسے پنجاب کےتین صوبے ۔ایک ترقی یافتہ اور خوشحال صوبہ جو لاہور،فیصل آباد، سیالکوٹ،گوجرانوالہ پر مشتمل ہو، دوسرا سرائیکی صوبہ ملتان،بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان علاقوں پر مشتمل اور تیسرا احمد ندیم قاسمی ،فتح محمد ملک اور محمد اظہارالحق کا پوٹھوہار۔ اس احتیاط کے ساتھ کہ وہاں کے شہریوں میں تعاون اور رواداری باقی رہے۔ پہلے دو تہائی پاکستان یعنی پنجاب میں یہ تجربہ کرلیں پھر قدم بہ قدم آگے چلیں…
٭٭٭٭
صوبہ سندھ کے محمد سعید ہیں جو1968ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے بی اے آنرز کرنے گئے تھے مگر وہاں سے مشکل دنوں میں واپس آنا پڑا اور پھر کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی مقابلے کا امتحان پاس کرکےکسٹمز میں چلے گئے بعد میں بھی اہم ذمہ داریاں نباہتے رہے انہوں نے ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات کی ایک حیرت انگیز کتاب مرتب کی ہے جو 1947 کے یکم اگست سے لے کر 31 دسمبر تک کے ڈان،پاکستان ٹائمز،سول اینڈ ملٹری گزٹ اورڈیلی گزٹ کے تراشوں کوحوالوں اوراشارئیے کے ساتھ یکجا کرکے ہمارے آپ کے لئے اور بعض ضدی بچوں کے لئے آئینہ بنا دیا ہے جو نہ صرف خود کو یا اپنی جماعت یا عزیزوں کو بھی"اڑا" دینا چاہتے ہیں۔ کچھ اقتباسات دیکھئے:
مسلم لیگ اسمبلی پارٹی کے انتخابات میں خواجہ ناظم الدین نے انتالیس کے مقابلے پر 75ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ حسین شہید سہروردی کو شکست دے دی۔۔پاکستان کے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے کہا ہے کہ ڈھاکہ کو پاکستان کا دارالحکومت قرار دیا جا سکتا ہے کم ازکم ایک سیزن کیلئے۔۔نواب آف بھوپال اپنے مشیر سر ظفر اللہ خان کے ساتھ کراچی آئے جناب قائد اعظم اور جناب وزیر اعظم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا،رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کریں یا انڈیا سے ابھی فیصلہ نہیں کر سکے۔۔متحدہ پنجاب کی تینوں سنٹرل جیلیں لاہور،ملتان منٹگمری اب پاکستان کا حصہ ہیں،ایسٹ پنجاب میں اس وقت کوئی جیل نہیں۔۔ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر نےپاکستان ٹائمز میں ایک مضمون میں تجویز دی ہے کہ صوبہ سرحد کو "پٹھانستان"،بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا جائے ہر صوبے میں خود مختار ریجن بنائے جائیں جیسے سرحد میں پختون اور ہزارہ ریجن،پنجاب میں لاہور، راولپنڈی اور ملتان ریجن۔۔
صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم پیرالٰہی بخش نے قائد اعظم کے نام کاخطبہ امیر الملت کے طور پر پڑھا اور تمام آئمہ کو ہدایت کی کہ ہر نماز جمعہ میں ایسا کیا جائے۔۔بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ اے کے فضل الحق نے وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین سے آخری بار کہا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کریں۔۔سندھ کے وزیر اعلیٰ محمد ایوب کھوڑو نے سندھ اور بلوچستان کے ادغام کی تجویز پیش کی ہے۔
٭٭٭٭
قمر رضا شہزاد کی غزل کا ایک شعر سن لیجئے:
وہی کہانی،وہی قصہ گو ، وہی کردار
سو کون دیکھے تماشہ کوئی نیا بھی تو ہو