پاکستان روس کے ساتھ مل کر انسولین کی مقامی پیداوار شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے خزانہ ہارون اختر کی زیر صدارت جمعرات کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کا اجلاس ہوا جس میں انسولین کی مقامی سطح پر پیداوار کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے پاکستان کے روس کے ساتھ مل کر اس اقدام کو اٹھانے کے فیصلے کو ’ایک نئے دور کی بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی مشترکہ منصوبے کے مرکز میں ہوگی۔
ہارون اختر نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ناصرف مریضوں کی انسولین تک رسائی کو بہتر بنائے گا بلکہ پاکستان اور روس کے درمیان کاروبار اور سائنسی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انسولین کو مرحلہ وار تیار کیا جائے گا اور بڑے پیمانے پر پیداوار اگلے 3 سالوں میں شروع ہونے کی امید ہے۔
ہارون اختر نے بتایا کہ معاہدے میں جامع ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے، جس سے مقامی مہارت کو بتدریج انسولین مینوفیکچرنگ بڑھانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ شراکت داری روس کے ساتھ وسیع تر اقتصادی تعلقات کے دروازے کھولتے ہوئے ضروری ادویات میں خود انحصاری کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ دوا ساز کمپنیوں کو اس اقدام کی کامیابی اور پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت ریگولیٹری شرائط کی تعمیل کرنی ہوگی۔
اس منصوبے سے ذیابیطس کے لاکھوں مریضوں کے لیے انسولین کی دستیابی کو بہتر بنانے کے علاوہ فارماسیوٹیکل سیکٹر میں تحقیق کے مواقع، کاروباری تعاون اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملنے کی امید ہے۔