• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چارلس ڈارون نے کہا تھا کہ جب انسان فطرت کو چیلنج کرتا ہے تو فطرت اپنا انتقام لیتی ہے۔ یہ انتقام کبھی وباؤں کی صورت میں، کبھی قحط کی شکل میں اور کبھی طوفانوں اور سیلابوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب بھی اسی نظریے کی عملی تصویر ہے۔ ہماری بے تحاشا آبادی، غیر منصوبہ بند شہری ترقی، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی نکاسیٔ آب کے راستوں پر تجاوزات نے فطرت کے توازن کو بُری طرح متاثر کیا، اور نتیجہ وہی ہے جو ڈارون نے بیان کیا تھا: فطرت نے اپنے طریقے سے توازن قائم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں سیلاب محض بارش یا گلیشیر کے پگھلنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور ریاستی غفلت کا عکاس ہے۔دنیا مان رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بارشوں کے پیٹرن بدل دیے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری حکومتوں نے اس حقیقت کو کبھی سنجیدگی سے لیا؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ حکمران دہائیوں تک کرپشن میں مصروف رہے، ترقیاتی بجٹ میں خورد برد ہوتی رہی، اور وہ وسائل جو ماحولیات اور قدرتی آفات سے بچاؤ پر خرچ ہونے چاہئیں تھے، ذاتی خزانے بھرنے میں صرف ہوئے۔ پاکستان جیسے ملک میں جنگلات کاٹ کر زمین بیچنے یا کنکریٹ کے جنگل کھڑے کرنے کا جنون جاری رہا۔ لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہر، جنہیں قدرت نے درختوں اور سبز میدانوں کی نعمت عطا کی تھی، آج وہ کنکریٹ اور دھوئیں کی چادروں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ قدرتی نکاسیٔ آب کے راستے تجاوزات کی نذر ہو گئے اور شہری نالے کوڑے کے ڈھیروں میں دفن ہو گئے۔ یہ سب ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بارش کا ایک سلسلہ آتا ہے اور لاکھوں لوگ در بدر ہو جاتے ہیں۔مسئلہ صرف شہروں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقے بھی اسی غفلت کا شکار ہیں۔ دریا کے کناروں پر غیر قانونی بستیاں، ناقص بند، کمزور ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنیکی محدود صلاحیت تباہی کو دوگنا کر دیتے ہیں۔سن 1988ء سے 2022ء تک متعدد سیلاب آئے جو سب کے سب عالمی المیہ تھے، لیکن کیا ان تمام سیلابوں کے بعد بھی ہم نے کوئی سنجیدہ سبق سیکھا؟ ایک جامع پالیسی، طویل مدتی منصوبہ بندی، یا انسٹیٹیوشنل ریفارمز کیں ؟ اسکا جواب ہے نہیں ! ہر بار تباہی کے بعد وقتی امداد، میڈیا پر اعلانات اور چند ارب کے پیکیجز بانٹنے کو حل سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ آبادی کا بے تحاشا پھیلاؤ بھی اس بحران کی جڑ ہے۔ وسائل محدود ہیں لیکن آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈارون کی اس تھیوری کے مطابق جب انسان فطرت کے اصولوں کو چیلنج کرتا ہے تو فطرت اپنا توازن بحال کرنے کیلئے ردعمل دیتی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا دباؤ زمین، پانی، جنگلات اور شہروں پر بڑھ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فطرت نے اپنے طریقے سے توازن قائم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ کالم لکھتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ پاکستان کے سیلابی بحران کو محض ’قدرتی آفت‘ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک انسانی ساختہ آفت ہے۔ ہماری ریاستی بے حسی، ادارہ جاتی کرپشن، جنگلات کی کٹائی، غیر منصوبہ بند شہری ترقی، اور ماحولیات سے لاتعلقی اس المیے کی اصل وجوہ ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنی سمت درست نہ کی تو آنیوالی نسلیں شاید ہمیں معاف نہ کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیلاب کو محض ریلیف کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ’’قومی سلامتی کے بحران‘‘کے طور پر لیا جائے۔ جنگلات کی بحالی، نئے ڈیم اور ذخائر، شہری نکاسیٔ آب کے نظام کی بحالی، تجاوزات کا خاتمہ اور آبادی کے کنٹرول کے سنجیدہ اقدامات کیے بغیر ہم بار بار وہی المناک منظر دیکھتے رہیں گے جس میں بچے بے گھری کی ماری کشتیوں پر سوار ہیں، مائیں سڑکوں پر بیٹھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا رہی ہیں، اور ہم سب یہ کہتے رہتے ہیں کہ ’یہ قدرت کا امتحان ہے‘۔ نہیں، یہ ہماری اپنی غلطیوں کی سزا ہے۔محسن نقوی کا نگران وزیراعلیٰ کا دور مختصر تھا، لیکن قدرتی آفات سے بچاؤ کے باب میں اُن کا کردار ایک نمایاں حوالہ بن سکتا ہے۔ عموماً نگران حکومتیں صرف کاغذی کارروائی یا الیکشن کے انعقاد تک محدود سمجھی جاتی ہیں، لیکن انہوںنے اس روایت کو توڑا۔ جب محکمۂ موسمیات نے دریاؤں میں پانی بڑھنے اور غیر معمولی بارشوں کی پیش گوئی کی تو یہ خبر محض ایک فائل کی حد تک نہ رہی۔ انہوں نے فوری طور پر اجلاس بلائے، ضلعی انتظامیہ کو متحرک کیا اور سب سے بڑھ کر عوام کو اعتماد میں لیا۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ نگران حکومت نے میڈیا کے ذریعے لوگوں کو کھلے الفاظ میں خبردار کیا کہ دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں خطرے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دریاؤں کے قریب رہنے واکے ہزاروں خاندانوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ گنڈا سنگھ بارڈر کے قریب کے دیہات ہمیشہ سے سیلاب کی زد میں رہے ہیں۔ وہاں کے لوگ ہر مون سون میں اپنے دل تھام لیتے ہیں کہ نہ جانے اس بار پانی کس طرف سے حملہ آور ہو گا۔ لیکن پچھلے برسوں میں ایک انوکھا منظر دیکھا گیا۔ سیلابی پانی کے خطرے سے پہلے ہی ایک شخص خود گاؤں گاؤں نکلا، کھیتوں کے کنارے کھڑا ہوا اور بلند آواز میں کہا: میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ یہ شخص موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے۔ اسپیکر نے اپنی ذاتی حیثیت میں کئی کام کیے۔ اُس نے سرکاری مشینری کیساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کو بھی متحرک کیا۔ ٹریکٹر، ٹرالیوں اور کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ کئی عورتوں اور بچوں کو اُس نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر خود محفوظ جگہوں تک منتقل کیا۔ یہ منظر نامہ واضح کرتا ہے کہ بروقت فیصلے، فیلڈ میں قیادت اور عوام کیساتھ عملی موجودگی بحران کو کم کرنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات اگائو، نئے ڈیم اور ذخائر، شہری نکاسیٔ آب کے نظام کی بحالی، تجاوزات کا خاتمہ، اور آبادی کے کنٹرول کے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر ہم بار بار وہی المناک مناظر دیکھتے رہیں گے، اور قدرت کی طرف سے انتقام کی یہ لہر ہر نسل پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔

تازہ ترین