• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماڈل ٹائون ایف بلاک میں دوست کا گھر تلاش کرتے ہوئے جب میں نے بائیں جانب کو ٹرن لیا تو کچھ یوں محسوس ہوا جیسے موٹر سائیکل کو میرا موڑ کاٹنے کا فیصلہ کچھ زیادہ پسند نہیں آیا۔ کیونکہ ان لمحوں میں مجھے اس ’’شیطانی چرخے‘‘ کو قابو رکھنے میں خاصی دُشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک بار پھر یوں لگا جیسے موٹر سائیکل کا پائوں بھاری ہو گیا ہے اس بار میں نے چیک کرنے کیلئے نیچے اُتر کر اسے سٹینڈ پر کھڑا کیا اور اگلا ٹائر ٹوہ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ پنکچر ہو چکا ہے۔اب کیا کیا جائے؟ میں نے رفیق نشست دوست سے کہا ’’اس خوبصورت بستی میں میں نے زندگی کے قریباً پندرہ برس گزارے ہیں اور میں جانتا ہوں قرب و جوار میں موٹر سائیکلوں کی کوئی دکان نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو آج جمعہ ہے۔‘‘حامد نے کہا ’’اسے گھسیٹ کر بس سٹاپ تک لے جاتے ہیں پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔‘‘بس سٹاپ بھی کچھ اتنا نزدیک نہیں تھا۔ چنانچہ ایک گھوڑے کی طاقت کے مالک (100CC) اس موٹر سائیکل کو چند قدم گھسیٹنے کے بعد میرا سانس پھول گیا اور میں نے محسوس کیا کہ اس گھوڑے کے مقابلے میں میں ایک لاغر گھوڑا ہوں۔ اتنے میں ایک کار میرے قریب آ کر رُکی۔ اس میں مکیش بیٹھا تھا اور وہ میری طرف دیکھ کر دانت نکال رہا تھا۔ مکیش کا اصل نام جاوید تھا مگر وہ بچپن میں مکیش کے گانے ہوبہو مکیش کی آواز میں دوستوں کو سنایا کرتا تھا جس سے اس کا نام مکیش پڑ گیا تھا۔ ’’تم میرے ساتھ بیٹھو یہاں قریب ہی ایک سائیکلوں کی دکان ہے جو موٹر سائیکلوں کے پنکچر بھی لگاتا ہے۔

ذرا دیکھتے ہیں وہ دکان آج کھلی بھی ہے یا نہیں؟‘‘ مکیش نے کہا۔دکان بند تھی۔البتہ ایک لڑکا ایک سائیکل میں پمپ سے ہوا بھر رہا تھا۔ لڑکے نے بتایا کہ اسکے پاس کھوکھے کی چابی تو ہے لیکن جمعہ کی نماز کا وقت چونکہ قریب ہے اس کے پاس پکا پنکچر لگانے کا وقت نہیں ہے کیونکہ اس کیلئے بھٹی گرم کرنا پڑے گی، البتہ وہ کچا پنکچر لگا دے گا۔اس نے ہمیں مشورہ دیا کہ یہ عارضی پنکچر لگوانے کے بعد ہم وقت ضائع کیے بغیر سی بلاک میں واقع موٹر سائیکل کی دکان سے پکا پنکچر لگوا لیں، کیونکہ اس صورت میں یہ کسی بھی وقت دوبارہ پنکچر ہو سکتا ہے۔ موٹر سائیکل میں سائیکل کا پنکچر لگوانے کے بعد میں نے دوست کو جلدی سے بیٹھنے کیلئے کہا اور پھر میں نے موٹر سائیکل کا رُخ فل سپیڈ پر سی بلاک کی طرف موڑ دیا۔ میں جلد سے جلد وہاں پہنچنا چاہتا تھا کہ عارضی پنکچر کہیں راستے ہی میں نہ اُکھڑ جائے اور یوں ہمیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔راستے میں شک پڑنے پر میں نے ایک جگہ موٹر سائیکل کو کھڑا کیا اور اگلے پہیے کی ہوا چیک کی اور مجھے بڑی خوش گوار سی حیرت ہوئی کہ ہوا اپنی پوری مقدار میں موجود تھی۔سی بلاک میں پنکچر کی دکان کھلی تھی میں نے وہاں بریک لگائی اور ایک بار پھر ہوا چیک کی تو وہ ٹھیک تھی۔ چنانچہ میں نے دوست سے کہا یہ دکاندار مصروف ہے آگے کسی دوسری دکان سے پنکچر لگوا لیں گے۔اور پھر موٹر سائیکل کا رُخ فیروز پور روڈ کی طرف پھیر دیا۔ راستے میں پنکچر کی دو ایک دکانیں کھلی تھیں۔ جلدی تھی چنانچہ میں اسی طرح چلتا ہوا اپنے گھر ونڈسر پارک پہنچ گیا۔ میں نے سوچا پکا پنکچر کل لگوا لیں گے۔

اگلے روز صبح گھر سے نکلتے وقت میں نے اگلا ٹائر چیک کیا اور مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ابھی تک ہوا کی پوری مقدار اس میں موجود ہے۔ تاہم میں نے فیصلہ کیا کہ راستے میں کسی سے پکا پنکچر لگوا لیا جائے تاکہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، لیکن یکے بعد دیگرے کی فوری مصروفیات کے باعث میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اس دوران میں کئی دکانوں کے سامنے سے بھی گزرا مگر اپنی شدید مصروفیات کی وجہ سے پنکچر نہ لگوا سکا۔ تاہم اس تمام عرصے میں میرے دل کو ایک دھڑکا سا لگا رہا کہ کہیں یہ چلتے چلتے اچانک پنکچر نہ ہو جائے۔ چنانچہ شام کو جب میں بخیریت گھر پہنچ گیا تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ دل میں تہیہ کیا کہ صبح اُٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ ایک گھوڑے کی طاقت کے مالک اس موٹر سائیکل کا پکا پنکچر لگوائوں گا۔مگر جب اگلی صبح بھی میںنے ٹائر کو صحیح حالت میں پایا تو میرے اندر ایک نئی خوداعتمادی پیدا ہوئی اور میں نے سوچا کہ کچا پنکچر بھی کوئی ایسی کچی چیز نہیں ہے اس ضمن میں مزید تقویت مجھے اپنے بعض دوستوں کی طرف سے حاصل ہوئی جنہوں نے مجھے یقین دلایا کہ کچے پنکچر اور پکے پنکچر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اصل چیز مستری کی مہارت ہے اگر پنکچر لگانے والا ماہر ہو تو کچا پنکچر بھی لوہے کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے اور اگر وہ اناڑی ہو تو پکا پنکچر بھی عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تم بے فکر ہو کر موٹر سائیکل چلائو خطرے کی کوئی بات نہیں۔ چنانچہ میں نے اپنے ذہن کے سارے خدشات جھٹک دیے اور یہ فیصلہ کیا کہ پکا پنکچر لگوانے پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں اور پھر میں پورے اعتماد سے پورے شہر میں موٹر سائیکل پر دندناتا رہا۔جب اگلے روز شہر سے گیارہ میل دور ایک ویران جگہ پر موٹر سائیکل کا کچا پنکچر اچانک اُکھڑ گیا تو مجھے شدید غصہ آیا اور آج کئی دن گزرنے کے بعد بھی میں اس کوفت کا سوچتا ہوں جو اس واقعہ کی وجہ سے مجھے اُٹھانا پڑی۔ تو ایک بار پھر جھنجھلا اُٹھتا ہوں۔ یہ اسی کوفت کا نتیجہ ہے کہ میں یہ تمام واقعہ اپنے تمام دوستوں کو اس تفصیل کے ساتھ سناتا ہوں مگر وہ بیچ ہی میں بور ہو جاتے ہیں اور باسیاں لینے لگتے ہیں۔ بس ایک دوست ایسا تھا جس نے یہ واقعہ پوری دلچسپی سے سنا اور پھر آخر میں ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔

یہ واقعہ صرف تمہارے ساتھ پیش نہیں آیا یار! پوری قوم کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ جب کبھی گاڑی کا کوئی پہیہ پنکچر ہوتا ہے مارشل لا کا کچا پنکچر لگا لیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ٹائر میں ہوا کی پوری مقدار برقرار رہنے اور دوستوں کی طرف سے حوصلہ افزا مشوروں کے نتیجے میں ڈرائیور میں خود اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے اور کچے پنکچر کو پکے پنکچر کا متبادل سمجھنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ خیر چھوڑو یہ بتائو پھر تم نے موٹر سائیکل کا کیا کیا؟کرنا کیا تھا میں نے کہا مجھے قریباً تین میل تک اسے گھسیٹنا پڑا مگر موٹر سائیکلوں کی کوئی دکان پرنظر نہ پڑی یہاں بھی سائیکلوں ہی کی ایک دکان دکھائی دی جہاں مستری نے کچا پنکچر لگایا اور مجھے ہدایت کی کہ اولیں فرصت میں پکا پنکچر لگوا لوں۔پھر تم نے پکا پنکچر لگوایا کہ نہیں؟ دوست نے پوچھا۔ایک دو دن میں انشاء اللہ لگوا لوں گا۔ میں نے جواب دیا ویسے موٹر سائیکل ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ میں نے متعدد بار اس کی ہوا چیک کی ہے سب ٹھیک ہے اور پھر یار یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ ہر بار کوئی تلخ تجربہ ہی ہو مجھے تو یہ مستری پہلے مستری سے بہتر لگا ہے اصل چیز تو مہارت ہے نا میرے خیال میں اب کچا پنکچر چل جائے گا۔

تازہ ترین