• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہر النساء نے اپنے چینل کا اصل نام بتادیا، وضاحت بھی دیدی

اسکرین گریب
اسکرین گریب

پنجاب میں سیلاب کی کوریج کے دوران خاتون رپورٹر مہر النساء کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی۔

 رپورٹر کشتی پر بیٹھ کر صورتحال بیان کر رہی تھی کہ اچانک خوف کے عالم میں بول اٹھی کہ بہت ڈر لگ رہا ہے، کبھی یہ اِس طرف جھکتی ہے کبھی اُس طرف، بیلنس نہیں ہو رہا ہم سے، بس آپ ہمارے لیے دعا کریں گائز۔

یہ غیر روایتی رپورٹنگ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور کئی صارفین نے سمجھا کہ یہ بی بی سی اردو کی نمائندہ ہیں، تاہم جلد ہی وضاحت سامنے آئی کہ مہر النساء کسی عالمی ادارے کے لیے نہیں بلکہ بھائی بھائی چینل (BBC) نامی ایک مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لیے رپورٹنگ کر رہی تھیں۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو نے باضابطہ وضاحت جاری کی اور کہا کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ پاکستان میں بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی (BBC Urdu News Punjab TV) کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کام کر رہا ہے، جس کا بی بی سی سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے اس چینل یا اس کے نمائندوں کو اپنے نام کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔

بی بی سی نے عوام کو متنبہ کیا کہ کسی بھی مواد پر یقین کرنے سے پہلے اسے بی بی سی کے آفیشل پلیٹ فارمز سے ضرور تصدیق کریں۔

دوسری جانب وائرل رپورٹر مہر النساء نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہم نے بی بی سی کی نقل کی ہے، ایسا نہیں ہے، ان کے بی بی سی کا مطلب برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (British Broadcasting Corporation) ہے، جبکہ ہمارا مطلب بھائی بھائی چینل (Bhai Bhai Channel) ہے، ہم کوئی مقابلہ نہیں کر رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے یوٹیوب اور ٹک ٹاک چینلز کو بی بی سی کی جانب سے کاپی رائٹ اسٹرائیک کے بعد بند کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری محنت ہے، ایک چھوٹا سا لاہور بیسڈ چینل ہے، ہم بی بی سی سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے چینلز کو بحال کردیں۔

مہر النساء نے اس سے قبل ایرانی صدر کے لاہور کے دورے کی رپورٹنگ کے دوران بھی سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کی تھی۔

دلچسپ و عجیب سے مزید