صاحبانِ نامدار و سامعین ذی وقار!
میری چند مختصرگزار شات کا موضوع صاحبِ کتاب، کتاب صاحب اور صاحبانِ اقتدار ہیں۔ صاحبِ کتاب جناب حسین نقی اسم با مسمّیٰ ہیں۔ حضرت امام حسین ؓکی جرأتِ انکار اور حضرت امام نقی ؒ کے تحمل و برداشت ان کی شخصیت میں جھلکتے نظر آتے ہیں بنو امیّہ تھے یا بنو عباس، امام ہمیشہ حق اور سچ کا پرچم بلند کرتے رہے ۔حسین نقی صحافی ہیں مگر آج کے زمانے میں وہ پیپلز پارٹی ،فوج اور مذہبی جماعتوں کے بارے میں مزاحمتی آواز بنے رہے اور اس جرم کے نتیجے میں دارورسن کو بھی چوم کر برداشت کرتے رہے۔تقابل مناسب تو نہیں ہوتا مگر سمجھنے اور سمجھانےکیلئے کہنے دیجئے کہ حسین نقی آج کے منہاج برنا اور آج کے نثار عثمانی ہیں جو اصول، جمہوریت اور حقیقت ہو وہ اسے کہنے سے کبھی نہیں گھبراتے، بھٹو کو پوری طاقتِ اقتدار کے دوران ٹوکنا ان کی شانِ خود داری کی زندہ روایت ہے۔ فرانس میں ہوتے تو ژاں پال سارتر کا درجہ پاتے کہ اس نے الجزائر کی خانہ جنگی میں سچ کا ساتھ دیا اور صدر ڈیگال کو جھکنا پڑاتھا۔ حسین نقی کوئی خاتون ہوتے تو سیمون ڈی بوار کے ہم پلّہ عزت پاتے جس نے عورت کی آزادی اور برابری کیلئے لافانی اور انمٹ تاریخی کردار ادا کیا، برطانیہ میں ہوتے تو اپنے خیالات کی وجہ سے برٹرینڈرسل کہلاتے کہ رسل کو اسکے نظریات کی وجہ سے ملک بدر ہونا پڑا تو حسین نقی کو اپنے خیالات کی وجہ سے کراچی بدر ہونا پڑا تھا ۔ آج کے زمانے میں حسین نقی غنیمت ہیں کہ اب لفظ کی حرمت اور اظہار کی آزادی کی چند ہی نشانیاں باقی ہیں۔
کتاب صاحب، ’’مجھ سے جو ہو سکا‘‘ انکے پیدائشی وطن لکھنؤ اور رہائشی وطن پنجاب کے اشتراک کا خوبصورت مجموعہ ہے ،اس میں لکھنوی اردو کی لطافت وباریکیوں اور پنجاب کے خالص پن کا دلکش امتزاج ہے۔حسین نقی نے اپنی کتاب میں جدید اظہار خیال و نقد کے ذریعے تاریخ، سیاست اور معاشرت کا جائزہ پیش کیا ہے لکھنؤ کی زندگی، اپنے آباؤ اجداد اور انکے خیالات و تاثرات سے قیام پاکستان کے اسباب کی کئی نئی جہات سامنے آئی ہیں۔ کتاب صاحب ’’مجھ سے جو ہو سکا‘‘ حسین نقی کا نثری دیوان ہے جس کا ہر جملہ اپنی جگہ ایک پوری غزل ہے اس غزل کا ہر ہر لفظ ہندوستان اور پاکستان کی شخصیات، واقعات اور حادثات کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ یہ کتاب واقعی ’’کتاب صاحب ‘‘کہلانے کی مستحق ہے کہ یہ ایک سچے، ایمان دار اور روشن خیال کی روئیداد ہے جس میں اپنے چاہنے والے قابلِ احترام والد کی پالیسیوں سے اختلاف کی جرأت بھی ہے اور ظالم آمروں کیخلاف سڑکوں پر نکلنے کی صلاحیت بھی ۔صاحب کتاب اور کتاب صاحب کے بعد اب اقتدار صاحب کی بات ہو جائے۔ حسین نقی اور اسٹیج پر تشریف فرما افراد نے ہمیشہ جمہوری آزادیوں، جمہوری روّیوں، انسانی آزادیوں اور حسنِ اخلاق کی تلقین کی ہے۔ آج کے نازک حالات اور بدلتی ہوئی صورتحال کا تاریخ کے تناظر میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ آج سے 116 سال پہلے جب ہندوستان پر برطانیہ کا راج تھا تو 1909 ء میں پہلی بار مقامی باشندوں سے یہ وعدہ کیا گیا کہ اب آپ غلام نہیں رہیںگے بلکہ آپ ہی کی نمائندہ حکومت آپ پر حکمرانی کرئیگی، اس تاریخی اعلان کو منٹو مارلے اصلاحات کے نام سے جانا جاتا ہے، ان اصلاحات کے نتیجے میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مانئیکو نے 8 سال بعد یعنی 1917 ء میں یہ واضح سرکاری حکمنامہ جاری کیا کہ اب ہندوستان میں مقامی منتخب حکومتیں بنائی جائینگی گویا آج سے 108سال پہلے اس خطّےکو جمہوریت کی چاٹ لگادی گئی تھی۔ 1919ء میں آزادی کی خواہش کچلنے کیلئے رولٹ ایکٹ نافذ کیا گیا جسے عرف عام میں سیاہ قانون کہا جاتا ہے، اس قانون کے نفاذ پر قائداعظم محمد علی جناح نے اسے کالا قانون قرار دیتے ہوئے قانون ساز اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا۔ قائد اعظم تو پرامن آئینی اور قانونی جدوجہد کے قائل تھے اسلئے استعفے کو احتجاج کا ذریعہ بنایا جبکہ مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ یعنی عدم تعاون کی تحریک چلا دی آج سے6 10 سال پہلے اس قانون کے نفاذ پر پنجاب میں شدید احتجاج ہوا ،لاہور کے بریڈلا ہال سے کانگریس کے صدر ستیہ پال کی قیادت میں جلوس نکلا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اس تشدد سے ستیہ پال جاں بحق ہو گیا (یاد رہے کہ ستیہ پال نے اپنی والدہ گلاب دیوی کی یاد میں فیروز پور روڈ پر ٹی بی کا گلاب دیوی اسپتال بنایا اسکا سنگِ بنیاد مہاتما گاندھی نے رکھا وہ یادگاری کتبہ ابھی تک اسپتال میں موجود ہے) ستیہ پال کے جاں بحق ہونے پر امرتسر کانگریس کے رہنما سیف الدین کچلو نے احتجاجی کال دی جس کو روکنے کیلئے جلیانوالہ باغ کا تاریخی سانحہ رونما ہوا جس میںساڑھے 3سو افراد کو سرعام گولیاں ماری گئیں۔ لاہور اور امرتسر کے سانحات کے بعد جب پنجاب میں غصّہ اور احتجاج کی لہر دوڑنے لگی تو مزید خوف پیدا کرنے کیلئے گوجرانوالہ شہر پر بمباری کی گئی، کالے قانون اور اسکے خلاف احتجاج نے ہی بھگت سنگھ اور اُسکے ساتھیوں میں آزادی کا جذبہ بھڑکایا اور انہوں نے لاہور، دہلی اور لندن تک مزاحمتی کارروائیاں کرکے ہندوستان کے جذبۂ آزادی کو تاریخ کےصفحات پر سنہری الفاظ میں کندہ کروا دیا۔
آج سے 106سال پہلے نافذ کئے گئے رولٹ ایکٹ کے سیاہ قانون میں پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری، وکیل کا حق ختم کرنے، بغیر مقدمہ دو سال جیل میں قید رکھنے اور سر عام یا کھلے ٹرائل کی بجائے خفیہ ٹرائل کی اجازت دی گئی تھی، محدود آزادیوں اور غلامی کے طوق پہنے ہونے کے باوجود اس وقت پنجاب میں احتجاج ابل پڑا تھا اور پھر برطانوی حکومت کو بتدریج آزادیاں اور حقوق دینا پڑے یہی وُہ مزاحمت تھی جسکے نتیجے میں 1935ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ نافذ ہوا اور پھر بتدریج 1919ء کے کالے قوانین کے ردّعمل میں ہی اگست 1947ء کا سورج طلوع ہوا جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں کو آزادی ملی۔
جناب صاحب !!
اس تاریخ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج سے 106 سال پہلے اگر غلام ہندوستان میں جمہوری آزادیوں کو محدود کرنے پر اس قدر احتجاج ہوا تو آج کی آزاد اور باخبر دنیا میں انسانی آزادیوں پر پابندی کے سخت اور تباہ کن نتائج نکلیں گے ۔116 سال سے اس خطّے کے لوگ جمہوری خواب میں زندہ ہیں دو قدم آگے جاتے ہیں تو دو قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ خواب ٹوٹ رہا ہے اقتدار میں موجود سیاسی قیادتیں جمہوریت کا سرنڈر کرتی جا رہی ہیں۔آئین میں کی گئی ترامیم 1973ء کے متفقہ آئین کی روح کے منافی ہیں 1973 ء کا آئین قومی، مذہبی سیاسی اور غیر سیاسی آرا کے اتفاق کا نام ہے ،کیا 26 ویں یا 27 ویں ترمیم پر قومی اتفاق رائے حاصل کیا گیا ہے، کیا 106سال کی جدوجہد کے بعد ہم نے دوبارہ 1919ء میں واپس جانا ہے؟ کیا پھر سے رولٹ ایکٹ آنے ہیں اور کیا پھر سے ایک نیا دائرے کا سفر شروع ہونا ہے؟ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو معلوم نہیں ہو رہا کہ عدلیہ کی آزادی، پارلیمان کی خودمختاری اور سویلین حقوق کا بتدریج سرنڈرہورہا؟
عمران، آصف زرداری اور نواز شریف کا سیاسی کھیل کچھ بھی ہو اصل میں تو ان تبدیلیوں سے عام آدمی کی آزادیاں ہی ختم ہو رہی ہیں عمران خان کا دور سویلین آزادیوں کیلئے خطرناک تھا انہوں نے اپنی جمہوری Spaceسرنڈر کی مگر عمران سے اختلاف کے باوجود یہ یادرکھنا ہوگا کہ ایک سیاسی لیڈر کی پھانسی پر عمل اور رد عمل نے ملک اور جمہوریت کے 46سال کھا لئے ہیں کہیں اس طرح کی ایک اور ٹریجڈی سیاہ بادلوں کو سدا کیلئے ہمارے اوپر اکٹھا نہ کردے....
(یہ تقریر الحمرا ہال میں لاہور کے معروف صحافی حسین نقی کی کتاب کی رونمائی پر کی گئی اسٹیج پر سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر فرحت اللہ بابر، فرخ سہیل گوئندی، ربیعہ باجوہ اور سلمان عابد موجود تھے)