• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کی خستہ حال پبلک سروسز کی بحالی کا بوجھ امیروں کو اٹھانا ہوگا، چانسلر ریچل ریوز

برطانیہ کی چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ملک کی خستہ حال پبلک سروسز کو بہتر بنانے کے لیے برطانیہ کے امیر طبقے کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی حالیہ خزانہ جاتی بجٹ میں 26 ارب پاؤنڈ کے اضافی ٹیکس کو درست اور ضروری فیصلہ قرار دیا۔

ریچل ریوز نے کہا کہ بجٹ میں اسکولوں، اسپتالوں، توانائی کے نئے منصوبوں اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ پیداواری صلاحیت میں کمی کے بعد حکومت کو اخراجات میں کٹوتی کرنی چاہیے۔

چانسلر ریوز نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا، اس لیے وہ عوامی خدمات میں کٹوتی کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ یہ بجٹ منصفانہ اور ضروری فیصلوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کم سرمایہ کاری ملک کی کمزور معاشی نمو کو مزید نقصان پہنچائے گی۔ ہم کمزور معاشی ترقی کے مسئلے سے کبھی نہیں نکل پائیں گے جب تک معیشت میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔

بجٹ کے بعد ریوز کو آفس فار بجٹ ریسپانسیبلٹی (OBR) کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس نے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ چانسلر نے بہتر معاشی پیشگوئیوں کی بنیاد پر انکم ٹیکس میں اضافے کا منصوبہ ترک کیا۔ OBR کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان پیشگوئیوں کا علم پہلے ہی تھا۔ تاہم چانسلر کا کہنا ہے کہ پبلک سروسز اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اور مضبوط سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید