برطانوی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے میٹ پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اتوار کو ہونے والے ’القدس مارچ‘ پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس حوالے سے شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد مارچ کے موقع پر شدید بدامنی سے بچنا ہے۔
برطانوی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سخت شرائط کے ساتھ کسی ایک جگہ کھڑے رہ کر احتجاج کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب مارچ کی منتظم تنظیم اسلامی ہیومن رائٹس کمیشن کے کمشنر فیصل بودی نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس پابندی کو اظہارِ رائے کے لیے بہت برا دن قرار دیا ہے۔
کمشنر فیصل بودی کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ گزشتہ 40 برسوں سے پُرامن طور پر منعقد ہوتا آ رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ کی تصویر اٹھائیں گے تو بودی نے جواب دیا ’خوشی سے‘، میں آیت اللّٰہ کی تصویر اٹھانا کیئر اسٹارمر یا ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اٹھانے سے زیادہ پسند کروں گا، وہ اصولوں کے پابند، دیانت دار اور انصاف کے لیے کھڑے ہونے والے انسان تھے۔
میٹ پولیس کے پبلک آرڈر کے ذمے دار اسسٹنٹ کمشنر ایڈ ایڈیلیکن نے کہا ہے کہ یہ پابندی ’القدس مارچ‘ اور اس سے منسلک کسی بھی جوابی احتجاجی مارچ پر لاگو ہو گی اور بدھ کے روز شام 4 بجے سے نافذ ہو کر 1 ماہ تک برقرار رہے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ القدس مارچ خاص طور پر متنازع ہے کیونکہ اس کی ابتداء ایران میں ہوئی تھی اور لندن میں اسے اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جاتا ہے جو ایرانی حکومت کی حمایت کرنے والی ایک تنظیم ہے۔
میٹ پولیس کے سابق چیف سپرنٹنڈنٹ دل بابو نے کہا ہے کہ یہ بہت ہی سنجیدہ فیصلہ ہے لیکن یہ یقیناً پولیس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا ہو گا اور میرے خیال میں ہمیں پولیس پر اعتماد کرنا چاہیے۔