’’آپ یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا /ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے" غلام محمد قاصرسے معذرت کے ساتھ ہم صرف "تم" کی جگہ "آپ" کی ترمیم لائے ہیں۔ ہم کسی لفظی ترمیم سے زیادہ کا استحقاق نہیں رکھتے، اس میں بھی کسی کھردرے پن کو ریشمی لفاظی میں بدل سکتے ہیں یا کسی کڑوے لفظ کو شیریں ہی بنائیں گے، ورنہ کہاں جائیں گے؟اڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزمِ ناز سے کہ قبلہ نے دعوتِ میثاقِ جمہوریت دی ہے۔ اگر یہ دعوت بزمِ ناز میں دی ہے تو یقیناً تحریک انصاف کو دی ہوگی کیونکہ پیپلزپارٹی تو ایوان میں پہلے ہی ہم نوالہ ہے۔ اچھا، وزیراعظم نے یہ دعوتِ میثاقِ جمہوریت گر پی ٹی آئی کو دی ہے تو یہ دعوتِ ارادت ہونے سے رہی، دعوتِ شیراز ہی ہوگی۔ یعنی جو جمہوری پکوان مابدولت کے پاس ہوگا وہی عنائت ہوگا۔ اس کے علاوہ کچھ اور دینا محال ہوگا نا ، دینے والوں کیلئے بھی اور لینے والوں کیلئے بھی۔ اس سے قبل کہ صریر خامہ کچھ اور بولیاں بولے یا آہ و بکا کی بازگشت ہو، محض اک نِکی جئی گَل پوچھنی تھی جس زندان خانہ میں مقبول صاحب موجود ہیں اس کی سربراہانہ سرگرمیاں کس کے دست مبارک میں ہیں؟ ایسے میں میثاقِ جمہوریت تو ممکن نہ ہوگا تاہم میثاقِ اطاعت یا میثاقِ عبودیت ممکن ہے۔ میثاقِ جمہوریت تو اصل میں میثاقِ عشق ہے! اب کیا کریں اپنے ہاں تو جمہوریت کو بھی اپنے کچھ دوست ہنی ٹریپ ہی سمجھتے ہیں مگر ہم نہیں۔ جمہوریت پر سے خدشات کے سائے اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ایک عام آدمی ، ایک عام سے دکاندار، عام تاجر اور عام صنعتکار کو عدالت، بیوروکریسی اور کسی اشرافیہ کے اشرف کے حضور ووٹرز سے ترقی دے کر انسان کا درجہ نہیں دے دیا جاتا۔ بقول افتخار عارف: ہوا بھی ہو گئی میثاق تیرگی میں فریق/ کوئی چراغ نہ اب رہگزر میں رکھا جائے۔ چراغ رکھے بغیر گزارا نہیں۔ جمہوریت کو باغبان دیں کوئی سائبان دیں کہ گلشن کا کاروبار چلے۔ بقول ایک وفاقی وزیر اگر وزیراعظم واقعی دعوتِ میثاقِ جمہوریت کے متمنی ہیں تو بےنظیر بھٹو اور شریف و عمران کی دستخط شدہ میثاق جمہوریت کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے مقید سابق وزیراعظم تک کا راستہ ہموار کرنا ہوگا۔ جمہوریت بانسری بجانے کیلئے بانس درکار ہوگا۔ یہ بھی ذہن نشین رہے، ہر شہر دوسرے شہر کے سنگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر انسانی زنجیر بنا کر کھڑا ہے، سارے سبزے اور سب شادابیاں دھول ہو رہی ہیں۔ ہر جانب رئیل اسٹیٹ کا کاروبار انسانوں کے گرد دیواریں چُن رہا ہے جیسے آمریت انسانیت کو انارکلی کی طرح دیواروں میں چننے کے درپے ہوتی ہے۔ عام آدمی کے گرد چالانوں اور جرمانوں سے گھیرا تنگ کر کے اسے بھی "پلاٹ کاری" پر مجبور نہ کیا جائے۔ کہ آج بھی ملین دو ملین کے کاروبار سے کئیوں کوملازمت اور کئی گھروں کے چولہے کو توانائی مل سکتی ہے ،گویا ایسی زنجیر اور ایسی عمارت سازی کی ضرورت ہے کہ روزگار کے کھلے دریچے ملیں ۔ کوئی ایک ارب کے پلاٹ رکھنے والا بھی گر کارخانہ یا تجارت کا روایتی در وا نہیں کرتا وہ ذخیرہ اندوز تو ہو سکتا ہے خانہ ساز و چارہ ساز نہیں۔ لیکن حکومت کب اس پر سوچے گی کب کرم ہوگا ؟ آئینی ترامیم ضرور کریں کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے، سانس لیتا ہے، سانس لینے دیتا ہے مگر تغیر سے قبل کچھ ایسی چھان پھٹک ضروری ہے حقیقی ضیا کے باب کھلیں کسی آمر ضیاء الحق کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو۔ آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کیلئے، مائیکرو فنانس، مائیکرو اکنامکس ، اسمال انڈسٹری اور امام بزنس کیلئے قانون سازی ضروری ہے صرف جرمانے لاگو کرنے کیلئے نہیں۔ عادلوں، قانون سازوں اور انتظامیہ کی بھاری بھرکم تنخواہوں کا مقصد اور مطلب یہ نہیں کہ وہ عام آدمی پر جرمانے اور چالان ہی نافذ کریں اور خزانے بھریں۔ مانا کہ کچھ سخت اصلاحات کو نافذ کرنا ناگزیر ہو چکا اور یہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔ لیکن سارا قصور اور بوجھ عام آدمی ہی سہے ؟ یہ بھی مانا کہ پاکستان کو مسلسل بجٹ خسارے کے چکر سے باہر نکالنا ہے، تو این ایف سی ایوارڈ کی تنظیم نو، سبسڈیز کو معقول بنانا ہوگا لیکن ، کیا وفاقی حکومت کا حجم کم کرنا اور بھاری رقوم مع رشوت کلچر کو فروغ دینے والے عادلوں، بیوروکریسی اور شوگراور گندم مافیا کو نہیں پوچھنا ؟ کنٹریبیوٹری پنشن اسکیموں کی طرف منتقلی جیسی اصلاحات پاکستان کے مسلسل خسارے کو ایک پائیدار مالیاتی سرپلس میں تبدیل کرنا بہرحال ضروری ہے۔ مگر احتیاط بھی ضروری ہے... سبسڈیز اور حکومت کا حجم پر اخراجات کو کم کرنے کیلئے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ 1.186ٹریلین روپے کا سبسڈی بل بہت بڑا ہے، اور یہ بنیادی طور پر بجلی کے شعبے میں گردشی قرض کی ادائیگی کی طرف جاتا ہے۔ یہ سبسڈی بل پائیدار نہیں ہے یہ کھپت کو سبسڈی ہے۔ہمیں اپنے برآمدی شعبے کیلئے ہدف شدہ معاونت فراہم کرنا ہے جیسے مسابقتی قیمتوں پر بجلی اور گیس فراہم کرنا تاکہ برآمدی آمدنی میں اضافہ ہو۔ حکومت کو بھی اس کے حجم کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے چلانے کیلئے درکار 971 بلین روپے کی بھاری رقم کو کم کیا جا سکے۔ 18ویں ترمیم کے تحت تحلیل ہونے والی وزارتوں کیلئے فنڈنگ مکمل طور پر بند کر دی جانی چاہیے اور انکی ذمہ داریاں صوبائی حکومتوں کو دیں۔ نقصان میں چلنے والے ریاستی ملکیت والے اداروں کی نجکاری یا بندش ایک فوری ترجیح ہونی چاہیے کہ انہیں چلانے پر خرچ ہونے والے سالانہ اربوں روپے کی بچت ہو۔ ٹیکس کے پیسے صرف عوامی خدمات کی مالی اعانت پر خرچ کریں نہ کہ ایسے اداروں پر ضائع کیے جائیں جو کبھی کوئی منافع نہیں دیں گے!آئی ایم ایف نے جو ڈھنڈورا پیٹا ہے وہ کسی سیاسی حریف کی جمہور دشمنی ہے نہ محض عام آدمی کا شاخسانہ، خود ہی سوچ لیجئے یہ رپورٹ کن کا شاخسانہ ہے؟ وہ رپورٹ کہ جسے بیان کرنے میں مجھ سے عام آدمی کو بھی شرم آئے کہ میرے اشرافیہ پر کوئی حرف نہ آئے کہ وہ سب میرے صاحب ہیں۔جب تک حقیقی جمہوریت نہیں ہوگی ، اعتماد نہیں ہوگا، عام آدمی کا اعتماد بحال نہ ہوا تو معاشی بحالی ممکن نہیں چاہے آپ کسی ایم ڈی، جی ایم یا سی ای او کو ایک ملین سے تین ملین تک ماہانہ دیتے جائیے... قبلہ ! دیکھ لیجئے سب کہ دیواروں سے ٹکراتی جمہوری اذاں میں ہم کہاں ہیں؟