• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردی اور شادی دو ایسی آفات ہیں جو پاکستان میں بغیر اجازت، بغیر پیشگی اطلاع اور پورے لوازمات کے ساتھ نازل ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سردی کمبل مانگتی ہے اور شادی سلامی۔ دونوں صورتوں میں دینے والا کانپتا ہی رہتا ہے۔ہمارے ہاں شادی اگر سردی میں نہ ہو تو لوگ شکوک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں:’’لگتا ہے جلدی میں کچھ گڑبڑ ہے۔‘‘جیسے شادی نہیں، ایف آئی آر درج ہو رہی ہو۔سردیوں کی شادی کا پہلا حملہ دعوت نامے سے ہوتا ہے۔ جیسے ہی لفافہ کھلتا ہے، اندر سے کارڈ نہیں بلکہ نمونیا جھانکتا نظر آتا ہے۔ تاریخ پڑھ کر ہی انسان کو چھینک آ جاتی ہے۔ مقام وہی روایتی،فلاں شادی ہال، کھلے میدان کے ساتھ۔بارات میں جانے سے پہلے مرد حضرات الماری کے سامنے یوں کھڑے ہوتے ہیں جیسے امتحان دینے جا رہے ہوں۔ ایک طرف شلوار قمیض جو شادی کے قابل ہے مگر سردی کے خلاف غدار، دوسری طرف کوٹ جو سردی روک لیتا ہے مگر شادی کا مزہ خراب کر دیتا ہے۔ آخرکار فیصلہ وہی ہوتا ہے جو ہر بار ہوتا ہے:’’اوپر سے کوٹ، نیچے سے دعا!‘‘سردی اور شادی کا آپس میں وہی تعلق ہے جو پنکھے اور لوڈشیڈنگ کا، یا وعدوں اور الیکشن کا۔ یعنی دونوں جب آتے ہیں تو انسان کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں شادیوں کا باقاعدہ سیزن وہی سمجھا جاتا ہے جس میں سانس لینے سے بھاپ نکلتی ہو اور ہاتھ جیب میں ڈالے بغیر بات کرنا ناممکن ہو۔جون، جولائی میں اگر کوئی شادی کر لے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ یا تو دلہن بہت پیاری ہے یا دلہا کو ڈاکٹر نے پسینہ بہانے کا مشورہ دیا ہے۔ ورنہ اصل شادیاں تو سردیوں میں ہی ہوتی ہیں، جب قورمے میں سے بھاپ اور دلہن کے زیور میں سے چمک برابر نکل رہی ہو۔ سردی میں شادی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ باراتیوں کو پسینہ نہیں آتا، اور سب سے بڑا نقصان یہ کہ باراتیوں کو نمونیا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ باراتی جو صرف ’’شادی کا سوٹ‘‘ رکھتا ہے، جو ہر موسم میں ایک ہی جذبے سے پہنا جاتا ہے۔ اوپر سے شلوار قمیض، نیچے سے رضائی کی کمی پوری کرنے کیلئے جرابیں، اور سر پر وہی ٹوپی جو پچھلی تین شادیوں میں بھی دیکھی جا چکی ہو۔ دلہن کی حالت اس سے بھی زیادہ قابلِ رحم ہوتی ہے۔ سردی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود، اور دلہن صاحبہ آدھی آستین کے لباس میں یوں کھڑی ہوتی ہیں جیسے کسی نے فیشن شو کو مری کے مال روڈ پر منتقل کر دیا ہو۔ دلہن کو بتایا جاتا ہے کہ’’بیٹا! بس تھوڑی دیر کی بات ہے، فوٹو سیشن کے بعد شال اوڑھا دیں گے‘‘، مگر فوٹو سیشن ایسا ہوتا ہے جو لگتا ہے شادی کے بعد بھی جاری رہے گا۔سردی میں شادی کا ایک اور دلچسپ پہلو کھانا ہے۔ گرمیوں میں لوگ پلیٹ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، سردیوں میں لوگ پلیٹ اٹھا کر فیصلہ کرتے ہیں۔ قورمہ، نہاری، بریانی، حلیم.. .. سب کچھ اس انداز میں کھایا جاتا ہے جیسے اگلی شادی کا کوئی یقین نہیں۔ خاص طور پر بزرگ حضرات نہاری کے سامنے یوں بیٹھتے ہیں جیسے پچاس سال کی دشمنی نبھانے آئے ہوں۔ اور پھر وہ لازمی مکالمے’’بھئی! سردی میں شادی کا اپنا مزہ ہے۔‘‘،’’ہاں ہاں، گرمی میں تو دلہا بھی پگھل جاتا ہے۔‘‘حالانکہ سچ یہ ہے کہ سردی میں دلہا نہیں پگھلتا، بلکہ جم جاتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب سلامی کا لفافہ کھول کر اندر کا حال معلوم ہو جائے۔سردی کی شادیوں میں سب سے زیادہ فائدہ شادی ہال والوں کا ہوتا ہے۔ ہیٹر اتنے رکھے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے شادی نہیں اسٹیل ملز کا افتتاح ہو رہا ہے۔ ایک طرف لوگ سردی سے کانپ رہے ہوتے ہیں، دوسری طرف ہیٹر سے ایسے پسینے آ رہے ہوتے ہیں کہ کوٹ اتارنے کا دل کرتا ہے، مگر اتار بھی نہیں سکتے کیونکہ نیچے وہی قمیض ہے جسے’’تقریباً استری شدہ‘‘کہا جا سکتا ہے۔شادیوں میں بچوں کا حال تو اور بھی دلچسپ ہوتا ہے۔ ایک بچہ جیکٹ، سویٹر، مفلر اور ٹوپی پہن کر بھی کانپ رہا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا بچہ آئس کریم کھا رہا ہوتا ہے، کیونکہ’’امی نے کہا تھا شادی میں سب کچھ فری ہوتا ہے‘‘۔سردی اور شادی میں ایک قدرِ مشترک اور بھی ہے: دونوں اچانک آتی ہیں اور انسان کو بے تیاری میں پکڑ لیتی ہیں۔ سردی میں کمبل نہیں ملتا، اور شادی میں پارکنگ۔ دونوں صورتوں میں انسان خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔پھر وہ رشتے دار جو صرف سردیوں کی شادیوں میں نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک شادی ایک بہترین موقع ہے’’کوٹ دکھانے‘‘کا۔ ایک صاحب پورا وقت یہی بتاتے رہتے ہیں کہ یہ کوٹ انہوں نے کب، کہاں اور کتنے کا لیا تھا، اور یہ بھی کہ اب اس کی قیمت کتنی ہو چکی ہے۔آخر میں شادی ختم ہوتی ہے، بارات رخصت ہوتی ہے، اور سردی بدستور موجود رہتی ہے۔ لوگ گھروں کو واپس جا کر یہی کہتے ہیں:’’شادی بہت اچھی تھی، بس ذرا سردی زیادہ تھی۔‘‘حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سردی کم نہیں تھی، ہم زیادہ خوش فہم تھے۔یوں سردی اور شادی مل کر ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ زندگی میں کچھ چیزیں وقت پر آئیں تو نعمت لگتی ہیں، اور وقت سے زیادہ رک جائیں تو آزمائش بن جاتی ہیں۔اور پھر بھی... اگلی سردیوں میں ہم سب کسی نئی شادی میں ضرور ملیں گے، اسی قورمے، اسی نہاری، اور اسی جملے کے ساتھ:’’بھئی! سردی میں شادی کا اپنا ہی مزہ ہے!‘‘

تازہ ترین