آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ٹیکس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ دورِ نبویؐ اور خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں ٹیکس کی کیا حیثیت تھی؟ کیا عوام سے جبراً ان کی طاقت سے زیادہ ٹیکس لینا شرعاً جائز ہے؟ اگر حکومت ان کی آمدن سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرتی ہے تو کیا حکومت کو نہ دیا جائے؟ کیا ہر ایک کو حکومتوں کے ظالمانہ اقدام کو بھی من و عن ماننا پڑے گا؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرمائیں؟
جواب: کسی بھی ریاست و مملکت کو ملک کا نظم چلانے کے لیے، مستحقین کی امداد، سڑکوں، پلوں اور تعلیمی و رفاہی اداروں کی تعمیر، بڑی نہروں کا انتظام، سرحدوں کی حفاظت وملکی دفاع کا انتظام، فوجیوں اور سرکاری ملازمین کے مشاہرات اور دیگر ہمہ جہت جائز اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، ان وسائل کو پورا کرنے کے لیے نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے مبارک عہد اور ان کے بعد کے روشن ادوار میں بیت المال کا مربوط نظام قائم تھا اور اس میں مختلف قسم کے اموال جمع کیے جاتے تھے، مثلاً:1.’’خُمسِ غنائم‘‘ یعنی کفار سے بذریعہ جنگ حاصل ہونے والے مال کے چار حصے (80 فیصد) مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بعد باقی پانچواں حصہ (20 فیصد)۔2.’’ مالِ فئی‘‘ یعنی وہ مال جو کسی مسلح جدو جہد کے بغیر دشمن سے حاصل ہو۔3.’’خُمسِ معادن‘‘یعنی مختلف قسم کی کانوں سے نکلنے والی اشیاء میں سے پانچواں حصہ۔4.’’خُمسِ رکاز ‘‘ یعنی زمین سے برآمد ہونے والے قدیم خزانوں کا پانچواں حصہ۔5.غیر مسلموں کی زمینوں سے حاصل شدہ خراج اور ان کا جزیہ اور ان سے حاصل شدہ تجارتی ٹیکس اور وہ اموال جو غیر مسلموں سے ان کی رضامندی کے ساتھ مصالحانہ طور پر حاصل ہوں۔6.’’ضوائع‘‘ یعنی لا وارث مال، لاوارث شخص کی میراث وغیرہ۔7.’’زکوٰۃ و عشر‘‘ یعنی صاحبِ حیثیت مسلمانوں کے ظاہری اموال کی زکوٰۃ اور باغات و زرعی زمینوں کی پیداوار کا دسواں/بیسواں حصہ وغیرہ۔
ان میں سے آخر الذکر مال تو صرف زکوٰۃ کے مستحقین پر ہی صرف کیا جاتا تھا، جب کہ ابتدائی چھ مدات دیگر ہمہ جہت مصارف میں صرف ہوتی تھیں۔ قناعت و سادگی کا دور تھا، ریاستی نظم چلانے کے لیے ضروریات کا اس قدر تنوع بھی نہیں تھا، اور وسائل و مصارف میں ایسا عدمِ توازن بھی نہیں کہ اضافی ذرائع و وسائل کی طرف توجہ دی جائے، رسول اللہ ﷺ کے پاکیزہ و مبارک دور میں جب کبھی ہنگامی اجتماعی ضرورت درپیش ہوتی، رسول اللہ ﷺ تعاون کی ترغیب دیتے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بڑھ چڑھ کر اپنے اموال پیش کردیتے تھے، ایثار و قربانی اور سچائی کا غلبہ تھا، خود فاقوں سے رہ کر اپنی جمع پونجی مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات کے لیے پیش کردیا کرتے تھے، غزوۂ تبوک کی تیاری، فاقہ زدہ نو مسلم وفود کی آمد اور دیگر مواقع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعاون و ایثار کے واقعات سیرت کی کتابوں میں معروف ہیں۔
لیکن بعد کے ادوار میں مذکورہ اَسباب و وسائل بتدریج کم ہوتے گئے، یہاں تک اس دور میں ان میں سے بعض بالکل ناپید ہوگئے، جب کہ ریاست کی ضروریات اور اخراجات طبعی و فطری تدریج کے تحت پہلے سے کہیں بڑھ گئے، دوسری طرف چندے کی ترغیب دے کر ملک اور ریاست کا نظام چلانا تقریباً متعذر ہوچکا ہے، لہٰذا ریاستی و ملکی انتظامی مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے متاخرین فقہائے کرام نے ضرورت کے موقع پر مسلمان رعایا سے بقدرِ ضرورت ٹیکس لینے کی اجازت دی ہے، کیوں کہ اگر حکومت ٹیکس نہ لے تو فلاحی مملکت کا پورا نظام خطرے میں پڑ جائے گا، اس لیے امورِ مملکت چلانے کی خاطرحکومت کے لیے بقدرِ ضرورت اور رعایا کی حیثیت کو مدِ نظر رکھ کر ٹیکس لینے کی گنجائش نکلتی ہے۔
اس صورت میں ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اس کا تعلق مفادِ عامہ اور اجتماعی مصالح سے ہے، اور عدمِ ادائیگی کی صورت میں ضررِ عوام ہے۔ بہرحال اگر کسی شخص کو حکومت کے قائم کردہ ٹیکس کے نظام یا اس کی مقدار پر کوئی تحفظ ہو یا اس سلسلے میں کوئی شکایت ہو تو اسے متعلقہ اداروں سے رجوع کرلینا چاہیے۔
جمہوری ریاستوں میں فردِ واحد اپنی خواہش کے تحت ٹیکس کی شرح طے نہیں کرسکتا، اس کے لیے ادارے، قواعد و ضوابط اور کمیٹیاں مقرر ہوتی ہیں، اس لیے ریاست کی ضروریات کے واقعی اِدراک کے بغیر بیک جنبشِ قلم کسی نظام کو ظالمانہ قرار دینا اسی طرح درست طرزِ عمل نہیں ہے، جیسے کسی ظالمانہ اقدام کی تائید کرنا۔
بایں ہمہ اگر واقعتاً ٹیکس کی شرح ناقابلِ تحمل ہو تو مشاہدہ یہ ہے کہ ٹیکس نہ دینے کی تدبیریں اختیار کرنے میں عام طور پر جھوٹ اور دھوکا دہی سے کام لیا جاتا ہے، پکڑے جانے کی صورت میں مالی سزاؤں کے ساتھ ساتھ قید و بند کی صعوبتوں اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، جب کہ اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
رہی بات کہ کسی حکومت کا کون سا اقدام ظالمانہ ہے کون سا نہیں؟ ظاہر ہے یہ کوئی ایک فرد طے نہیں کرسکتا، ممکن ہے ایک شخص کسی نظام کو ظالمانہ کہے، جب کہ دوسرا اسے معیاری اور قابلِ تقلید قرار دے۔ ہمارے ہاں الحمد للہ، ایک متفقہ آئین موجود ہے، جس میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، اسمبلی سے منظور ہونے والے قوانین کی جانچ کے لیے عدلیہ اور اسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ کی صورت میں ادارے قائم ہیں، کسی قانون کے بارے میں کسی بھی شہری کو تحفظ ہو تو اسے متعلقہ اداروں سے اپیل کرنے کا حق ہے، اس لیے مذکورہ مسئلے سے متعلق بھی آئین و قانون کے ماہرین سے رجوع کرنا مناسب ہوگا۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk