• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سودا منسوخ ہونے کی صورت میں بیعانہ کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میرے پاس بیرون ملک مقیم اپنے بھائی اور بہن کی طرف سے وراثتی جائیداد فروخت کرنے کا پاور آف اٹارنی ہے، میں نے (ٹوکن منی) فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اور بیعانہ وصول کرلیا ہے، خریدار بیلنس کی ادائیگی میں تاخیر کر رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سودا منسوخ ہو جائے گا؛ کیوں کہ اسے دیا گیا وقت ختم ہو گیا ہے۔ 

مذکورہ بالا صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، براہ کرم مشورہ دیں کہ کیا میرے بینک اکاؤنٹ میں موجود ٹوکن منی پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے، جب کہ ڈیل مکمل نہیں ہوتی اور ڈیل کینسل ہونے پر ٹوکن رقم واپس کی جائے گی۔ میری زکوٰۃ کی مدت یکم رمضان سے شروع ہوتی ہے۔

جواب: اگر مذکورہ سودا شرائط کے مطابق انجام نہ پانے کی وجہ سے منسوخ ہوجائے تو بیعانہ پر زکوٰۃ کی ادائیگی آپ کے ذمے نہیں ہوگی، اس لیے کہ بیعانہ مجموعی قیمت ہی کا حصہ ہوتا ہے، اور یہ رقم مکمل طور پر آپ کی ملکیت میں نہیں ہے۔ البتہ اگر سودا منسوخ نہیں ہوتا تو یہ رقم ہو یا اس رقم کے ساتھ دیگر قابلِ زکوٰۃ اموال، نصاب کو پہنچتے ہوں تو اس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید