• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میری تنخواہ سے ہر مہینے بچت دو سے تین لاکھ کے درمیان ہو جاتی ہے اور سال کی کل بچت 25 سے 30 لاکھ کے درمیان ہو جائے گی، اب مجھ پر کتنی زکوٰۃ واجب ہے اور کب کتنی زکوٰۃ دینی ہو گی ؟

جواب: جس مسلمان عاقل بالغ شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقد رقم (جو بنیادی ضرورت سے زائد ہو) یا مالِ تجارت موجود ہو یا ان چاروں چیزوں میں سے کسی بھی دو یا زائد کا مجموعہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو اور وہ شخص اتنا مقروض بھی نہ ہو کہ قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر رقم باقی نہ رہےتو ایسا شخص صاحبِ نصاب شمار ہوتا ہے ، اور سال کی جس تاریخ کو بھی صاحبِ نصاب ہو، قمری اعتبار سے اس پر سال مکمل ہونے کی صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ 

 مذکورہ تفصیل کی روشنی میں اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں اور ہر سال زکوٰۃ دیتے ہیں تو دیگر اموال کی زکوٰۃ نکالتے وقت آپ اپنی بچت کی زکوٰۃ بھی ادا کریں گے۔ 

اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہیں، ابھی بچت کی رقم جمع کرنا شروع کی ہے تو جب پہلی مرتبہ صاحبِ نصاب بنیں گے، اس وقت سے سال مکمل ہونے پر بھی آپ صاحبِ نصاب برقرار رہے تو آپ زکوٰۃ ادا کریں گے۔ 

سال پورا ہونے پر جتنی رقم بنیادی ضرورت اور قرض وغیرہ سے زائد ہو، اسی طرح سونا چاندی یا مالِ تجارت آپ کی ملکیت میں ہو تو سب کی مجموعی مالیت لگا کر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید