تفہیم المسائل
سوال: ہمارے یہاں اکثر ملازمین اندرونِ سندھ یا پنجاب سے آئے ہوئے لوگ ہیں جن کو ادارے کی طرف سے قیام وطعام کی سہولت حاصل ہے، اکثر ملازمین نماز وروزہ کے پابند نہیں ہوتے۔ رمضان المبارک میں کچھ مزید ملازمین رکھے جاتے ہیں۔
سارا سال کی طرح ماہِ رمضان میں بھی ملازمین کو صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں ہم اُنہیں صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا دے کر کسی گناہ کے مرتکب تو نہیں ہورہے ؟
جواب: رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان عاقل وبالغ پر فرض ہیں، ﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ:’’ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنا فرض کیاگیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ گنتی کے چند دنوں میں، پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا مسافر ہو (اور روزے نہ رکھے )تو دوسرے دنوں میں عدد (پوراکرنا ) لازم ہے ،(البقرہ:183-184)‘‘۔
مسافر، حاملہ عورت اورایسا مریض جو روزے نہ رکھ سکتاہو یا روزے رکھنے سے مرض بڑھنے کا اندیشہ ہو، کے سوا کسی دوسرے شخص کو بلاعذر روزہ چھوڑنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، اگر آپ کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین پر اس حوالے سے کوئی پابندی نہیں یا کام کی نوعیت ایسی نہیں کہ جو روزہ یا نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ ہوتو ملازمین کے روزہ ونماز ترک کرنے کا وبال خود اُنہی پر ہے، مگر آپ کی شرعی ذمہ داری ہے کہ انہیں صوم وصلوٰۃ کی پابندی کی تلقین کریں اور دین دار ملازمین کی خصوصی حوصلہ افزائی کریں اور دین دار ملازمین کو ترجیح دیں۔
آپ کے ادارے کی طرف سے اُن ملازمین کے لئے سحری وافطار بشمول رات کے کھانے کا انتظام ہونا چاہئے، ناشتہ یا دوپہر کے کھانے کا نہیں کیونکہ اُن کے روزہ نہ رکھنے کے سبب دوپہر کا کھانا مہیا کرنا اُن کے گناہ پر معاونت شمار ہوگا اور ﷲ عزّوجلّ کا فرمان ہے: ترجمہ:’’اورتم نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مددکرو اور گناہ اورظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، (المائدہ:2)‘‘۔
اگر اُن کا روزے نہ رکھنا اِس سبب سے ہے کہ اُن کا کام سخت محنت و مُشقّت والا ہے، تو یہ ہوسکتا ہے کہ ’’َتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ‘‘(نیکی پر معاونت ) پر عمل کرتے ہوئے ملازمین کو دِن کے اوقات میں سہولت اور رعایت دے سکتے ہیں، جس پر آپ عنداللہ ماجور ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ترجمہ: ’’جو آدمی (ماہِ رمضان المبارک میں) اپنے خادم کے کام میں تخفیف کرے گا، اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی دے دے گا ‘‘۔( مشکوٰۃ ، ص:174)
علامہ علاؤالدین حصکفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ روزہ دار کے لئے ایسا کام کرنا جائز نہیں ہے، جس سے اُسے (روزہ رکھنے میں) کمزوری محسوس ہو، پس نانبائی آدھا دن روٹی لگائے اور باقی دن آرام کرے، (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد3، ص:357)‘‘۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com