آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: صدقۂ فطر کس کے ذمے لازم ہے؟ اور اس سال صدقۂ فطر کی مقدار کیا ہے؟ کوئی شخص پاکستان سے باہر ہو اور بچے پاکستان میں تو وہ کس ملک کے اعتبار سے صدقۂ فطر ادا کرے گا؟
جواب: جس مسلمان عاقل بالغ مرد یا عورت کے پاس ضروری اسباب اور قرض سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ صدقۂ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے پونے دو کلو گندم ہے ۔ کھجور، جو اور کشمش کے حساب سے ساڑھے تین کلو کھجور، جَو اور کشمش ہے، چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے۔
اگر ان اشیاء کی قیمت ادا کرنی ہو تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہو، وہاں کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔ لہٰذا اگر گھر کا سربراہ بیرون ملک میں مقیم ہے اور عید الفطر بھی وہیں کرے گا تو اس پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقۂ فطر اسی ملک کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا، خواہ یہ قیمت اسی ملک میں مستحق کو دی جائےیا اس کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔
البتہ بیرون ملک میں مقیم شخص کی بیوی اور بالغ بچے پاکستان میں ہوں تو بیوی اور بالغ بچوں پر اپنے صدقۂ فطر کی ادائیگی پاکستان کے نرخ کے مطابق لازم ہوگی، لہٰذا وہ خود پاکستان میں پاکستان کی قیمت کے حساب سے دے سکتے ہیں، اور اگر مذکورہ شخص ان کی طرف سے ادا کرنا چاہتا ہے تو ایسی قیمت لگانا بہتر ہے جس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہو، یعنی پاکستان اور بیرون ملک میں سے جہاں ان اشیاء کی قیمت زیادہ ہو، وہاں کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کرنا بہتر ہوگا۔ (رد المحتار، ج:2، ص: 355، ط:سعید)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk