تفہیم المسائل
سوال: کیا زکوٰۃ کی طرح صدقۂ فطر بھی صاحبِ نصاب پر واجب ہے، یا ہر مسلمان پر واجب ہے؟ موجودہ مہنگائی کے دور میں مشاہدہ ہے کہ بعض سفید پوش گھرانے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو صدقۂ فطر اداکرنے کے لئے رقم نہیں رکھتے، تو کیا ایسے لوگوں پر بھی صدقۂ فطر واجب ہوگا؟ اگر واجب ہے تو کیا بعد میں رقم آنے پر اُن پر اُس کی قضا لازم ہوگی؟
جواب: صدقۂ فطر کا نصاب بھی وہی ہے، جو زکوٰۃ کا ہے یعنی جس شخص کے پاس 48ء87 گرام سونا یا36ء 612گرام چاندی یا اُس کے مساوی رقم موجود ہو، اُس پر صدقۂ فطر واجب ہے۔
صدقۂ فطر کے وجوب کے لئے نصاب پر سال گزرنا یا سال بھرصاحبِ نصاب رہنا شرط نہیں کیونکہ صدقۂ فطر شخص پر واجب ہوتا ہے مال پر نہیں۔ ہر صاحبِ نصاب پر اس کی زیرِ کفالت افراد کاصدقۂ فطر ادا کرنا بھی واجب ہے۔
صدقۂ فطر نمازِ عید سے قبل اداکرنا افضل ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس عید الفطر کے دن یعنی یکم شوال المکرّم کو وقتی ضرورت سے زائد کم ازکم زکوٰۃ کے نصاب کے برابر رقم نہیں ہے، تو اُس پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہوگا اور نہ ہی اُس پر بعد میں اُس کی قضا واجب ہوگی۔ ہاں! اگر عیدالفطر یعنی یکم شوال المکرم کو صاحبِ نصاب ہوتے ہوئے فطرہ ادا نہ کیا ہوتا تو جب تک اُسے ادا نہ کیا جاتا، ساقط نہیں ہوتا۔
سوال: رمضان المبارک میں کچھ مخیر حضرات ہماری مسجد میں افطاری کے لئے نقدرقم دیتے ہیں اور بعد المغرب کھانے کے لئے دیگوں کا اہتمام کرتے ہیں، آخری عشرہ میں معتکفین کے لئے بھی یہ اہتمام ہوتا ہے۔
مسجد کمیٹی اُس رقم سے افطار کا اہتمام کرتی ہے۔ مسجد کمیٹی نے یہ اہتمام کر رکھا ہے کہ ہر فرد کے لئے علیحدہ علیحدہ پلاسٹک کے برتنوں میں دیا جاتا ہے۔ دکاندار، ریڑھی والے، ہوٹل اور ہرطبقہ کے لوگ شربت اور افطار وغیرہ شاپنگ بیگ میں ڈال کر لے جاتے ہیں، اسی طرح کچھ لوگ مغرب کے بعد اور سحری کا کھانا بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔
کیا افطار کا یہ سامان لوگ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں؟۔ مسجد کمیٹی ممبران اور مسجد کا عملہ جو مسجد میں ہر وقت حاضر رہتاہے ،کیا یہ تمام لوگ افطاروسحر میں مسجد میں کھاسکتے ہیں اور اپنے گھروں پر پارسل لے جاسکتے ہیں ؟(محمد حسین ،کراچی)
جواب:صورتِ مسئولہ میں محلے کے عطیہ دینے والے اہلِ خیر حضرات کی طرف سے یہ انتظام اگر نفلی خیرات کی رقم سے کیا جارہا ہے تو یہ جائز ہے، اس سے کسی بھی روزے دار کو افطار کرایاجاسکتا ہے اور وہ چاہے تو گھر بھی لے کر جاسکتا ہے، کیونکہ چندہ دینے والوں کے لئے یہ معہود ومعروف ہے اور ان کا سکوت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس پر راضی ہیں۔
افطار کے لئے دی جانے والی رقم کا مصرف (یعنی روزے داروں کو افطار کرانا) مُتعین ہے ،لیکن افراد مُتعین نہیں ہوتے۔ لہٰذا کسی بھی روزے دار کو اس سے افطار کرایاجاسکتا ہے۔
چونکہ نفلی صدقہ کے لئے لینے والے کا مستحقِ زکوٰۃ یعنی فقیر ومسکین ہونا ضروری نہیں ہے، اس لئے کسی بھی روزے دار کو افطار کرایا جاسکتا ہے اور وہ افطار کرسکتا ہے، خواہ انتظامیہ کا رکن ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر عطیہ دینے والوں کی طرف سے کوئی شرط عائد نہیں ہے، تو لوگ ساتھ بھی لے جاسکتے ہیں اور معتکفین کو بھی کھلایاجاسکتا ہے۔
تاہم عطیہ دینے والوں کو یہ بتا دیاجائے کہ وہ اس مدد میں زکوٰۃ، فطرہ، فدیہ، نذر اور کفارہ کی رقوم نہ دیں ،کیوں کہ صدقات ِ واجبہ کے مصارف مُتعین ہیں اوران رقوم کے خرچ کرنے کے لئے شرعی شرائط کی پابندی لازم ہے۔
ان رقوم سے صرف مالکانہ بنیاد پر فقراء ومساکین کو نقد رقم یا کھانا وغیرہ دیا جاسکتا ہے، صرف اباحت کافی نہیں ہے۔ اس کو معتکفین یا غیر مستحقِ زکوٰۃ دکانداروں پر صرف نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انتظامیہ کے لوگ اسے خود کھاسکتے ہیں یا گھر لے جاسکتے ہیں۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com