آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: جب لوگ عمرے پر جاتے ہیں تو اکثر نمازیں کعبۃ اللہ یا مسجدِ نبوی میں پڑھتے ہیں، اور ایسی صورت میں پوری نماز پڑھتے ہیں مع سنتوں اور نوافل کے، آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر کعبۃ اللہ اور مسجد نبویؐ کے علاوہ دیگر جگہوں میں یا اکیلے نماز پڑھنی ہو تو کیا وہ قصر نماز پڑھی جائے گی؟ دیگر یہ کہ مسجد نبویؐ میں اکثر لوگ اپنی الگ جماعت بنا کر نماز پڑھتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں غیرمقامی قصر نماز پڑھے گا یا پوری نماز مع سنّت اورنفل پڑھے گا؟
جواب: اگر کوئی شخص شرعی مسافتِ سفر یعنی اڑتالیس میل (سوا ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ مسافت کی نیت وارادے سے سفر کرے تو اپنے شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد وہ شرعاً مسافر شمار ہوتا ہے، پھر جس شہر میں وہ جارہا ہے، اگر وہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو وہاں بھی مسافر ہوگا، اور مسافر جب انفرادی طور پر نماز ادا کرے یا امامت کرے یا کسی مسافر امام کی اقتدا میں نماز ادا کرے تو وہ چار رکعت والی فرض نماز کو دو رکعت پڑھے گا۔ البتہ اگر کسی مقیم امام کی اقتدا میں نماز پڑھے گا تو پوری نماز پڑھے گا۔
لہٰذا جو لوگ پاکستان وغیرہ سے عمرہ کے لیے جاتے ہیں تو اگر ان کی نیت مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی ہو تو وہ وہاں مسافر ہوں گے، ایسی صورت میں اگر مقیم امام کی اقتدا میں نماز ادا کریں (خواہ وہ امامِ حرم ہوں یا کسی اور مسجد یا مصلّے کے امام یا ویسے ہی کسی مقیم کی اقتدا میں نماز ادا کریں) تو مکمل نماز ادا کریں گے، البتہ مسافرانفرادی طور پر نماز ادا کرے یا امامت کرے تو قصر ( چار رکعت والی فرض نماز کو دو رکعت ادا ) کرے گا۔
جہاں تک مسافر کے لیے سنن و نوافل کا حکم ہے تو فجر کی سنتیں بہر حال ادا کرنی چاہییں، خواہ سفر جاری ہو یا کسی جگہ پڑاؤ ہو، اس لیے کہ احادیث میں فجر کی سنتوں کی بہت تاکید آئی ہے۔ فجر کے علاوہ دیگر سنتوں کا حکم یہ ہے کہ اگر مسافر کا کسی جگہ قیام ہو تو وہاں سنتیں اور نوافل بھی ادا کرنے چاہییں، بالخصوص حرم میں تو ان کا اہتمام کرنا چاہیے، وہاں اعمال کا ثواب کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے، تاہم سنتوں اور نوافل میں قصر نہیں ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، 2/ 138-141، ط: دار الکتاب الاسلامی )اور اگر مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں لگاتار پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت ہو تو آدمی مقیم شمار ہوگا، ایسی صورت میں بہرحال فرض ، سنن اور نفل نمازیں مکمل ادا کرنی ہوں گی۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk