• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسجد کی تعمیر کی صورت میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا حکم

تفہیم المسائل

سوال: ایک جامع مسجد جہاں جمعہ کی نماز بھی اداکی جاتی ہے، شہید کرکے ازسرنو تعمیر کی جارہی ہے، نماز پنجگانہ کے لیے متبادل جگہ موجود ہے، جبکہ نماز جمعہ کے لیے مسجد کے ساتھ ہی ایک کشادہ جگہ موجود ہے، جہاں ٹیکسی کا اسٹاپ ہے، یہ شارع عام نہیں ہے ،مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ان کی خریدی ہوئی ہے، کیا اس جگہ پر نمازِ جمعہ ٹینٹ لگاکر اداکی جاسکتی ہے ؟ (عبداللہ ، جاتی سجاول، سندھ)

جواب: مسجد کی تعمیر کے دوران آپ مذکورہ بالا مقام پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا اہتمام کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ راستہ یا کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو، اذنِ عام (یعنی ہر خاص و عام کو آنے کی اجازت )ہو ،صحتِ جمعہ کے لیے کسی جگہ کا باقاعدہ مسجد ہونا اور اس میں پنج وقتہ نماز کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ جمعہ قائم کرنے کے لیے جو شرائط ہیں، جیسے: اس جگہ کا شہر یا مضافاتِ شہر میں ہونا وغیرہ کافی ہیں، آپ نے لکھا کہ وہ جگہ مسجد سے متصل ہے اور مسجد میں جمعہ پہلے سے قائم ہے، تو اب عارضی طورپر مسجد کی تعمیر تک وہاں جمعہ اداکرسکتے ہیں ،شیخ ابراہیم بن محمد حلبی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور (جمعہ کے لیے)جامع مسجد ہونا شرط نہیں،اسی لیے فقہاء ِ کرام کا فنائے شہر میں موجود عید گاہ میں جمعہ پڑھنے کے جائز ہونے پر اجماع ہے ،(غُنیَۃُ الْمُسْتَملی،صفحہ:551)‘‘۔

امام اہلسنّت امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ سے ایک بڑے گھر میں پڑھے گئے جمعہ کے متعلق سوال پوچھا گیا، آپ نے جواب میں لکھا: ’’جمعہ کے لیے مسجد شرط نہیں، مکان میں بھی ہو سکتا ہے، جبکہ شرائطِ جمعہ پائے جائیں اور اذنِ عام دے دیا جائے۔ لوگوں کو اطلاعِ عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو، تو اگر صورت یہ تھی ، وہ لوگ مصیب (یعنی درستی پر)ہوئے،(فتاویٰ رضویہ، جلد08، صفحہ460 ) ‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید