پروفیسر خالد اقبال جیلانی
آج رمضان کا آخری جمعہ ہو سکتا ہے۔ یہ ماہِ مبارک ہم سے رخصت ہوا چاہتا ہے، یہ ایک نئی زندگی کی نوید سناتے ہوئے زندگی کے نئے اہداف مقرر کرتے ہوئے، شاہراہ ِ زندگی پرنئے نئے راستے کھولتے ہوئے ہم سے رخصتی چاہتا ہے۔ وہ مہینہ جس میں ایک نفل فرض کے برابر ثواب پاتا اور ایک فرض ستّر فرض کے درجے تک جاپہنچتا ہو۔
رمضان کے آخری عشرے میں جو جہنم سے آزادی کا ہے، جس میں بندوں پر بے انتہا بارانِ رحمت ہوتی ہے، جس میں لیلۃالقدر جیسی رات ہے جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، جس میں اللہ کے بندےاعتکاف کرکے قرب خداوندی حاصل کر تے اور اپنی خطاؤں کو معاف کرانے میں مشغول ہوں تو اس کی قدر ومنزلت کا کیا کہنا۔
رمضان کا یہ آخری جمعہ جب اس آخری عشرے میں آئے تو پھر اس کی فضیلت و برکت اور رحمت و مغفرت کا کیا کہنا۔ یوں بھی جمعہ کا دن پورے ہفتے کی عید ہے، اس دن تمام مسلمان مرکزی مساجد میں جمع ہو کر نماز ادا کرتے اور اجتماعیت کا مظاہرہ کر تے ہیں، یہ دن تما م امتوں کو پیش کیا گیا لیکن بعض اقوام نے اپنے لئے ہفتہ کا دن اور بعض نے اتوار کے دن کو مخصو ص کر لیا، لیکن امّت ِمسلمہ نے جمعہ کا دن پسند کیا۔
رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہمیں بہت شدت سے احساس دلاتا ہے کہ یہ وہ ماہِ مقدس ہے جو اپنے جَلو میں ان گنت و بے شمار رحمتیں اور برکتیں لے کر آیا تھا، اب رخصت ہو رہا ہے۔ نہ معلوم اس کے بعد آئندہ سال یہ ماہِ مبارک ہمیں میسر ہو کہ نہ ہو۔ کتنے ہی لوگ گزشتہ سال اس ماہِ مبارک میں ہمارے ساتھ اس زمین پر موجود تھے مگر آج وہ موجود نہیں۔ وہ سب زمین کی پیٹھ سے زمین کے پیٹ میں جا سوئے۔
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا، اور انہوں نے ان قیمتی اوقات کو ضائع ہونے سے بچا لیا، روزہ رکھ کر، تلاوت ِ قرآن کر کے، روزہ اور قرآن کو اپنے حق میں شفاعت و سفارش کر نے والا بنالیا، عبادت سے رحمت و مغفرت کے طلبگار ہوئے، لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو زندہ کیا، تو اب یہ مہینہ جس میں سرکش شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے اور ند ا دینے والا ندا دیتا ہے کہ ’’اے خیر کے طلبگار آگے بڑ ھ ‘‘ صبر اور خیر خواہی کا مہینہ رخصت ہو رہا ہے۔
رمضان المبارک کے آخری ایام اور خصوصاً آخری جمعہ ہمیں احساس دلا رہا ہے کہ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اس مہینے میں کیا کمایا، کیا گنوایا، اللہ کی رضامندی حاصل کی یا اس کی ناراضی مول لے کر بغیر مغفرت الٰہی کے ہی رہ گئے اور اپنے لئے ہلاکت و بربادی مقدر کرلی۔ جن مسلمانوں نے اس کی عظمت اور مرتبے کو پہچانا وہ اپنے دامن میں کثیر رحمتیں سمیٹنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنے لئے بخشش کا پروانہ لکھوایا انہوں نے اپنی روح کو آلودگی سے پاک کر لیا۔
جو اس کی قدر ومنزلت کو نہیں پہچان سکے اور اس مہینے کو عام مہینوں کی طرح گزارا وہ خیر کثیر سے محروم رہے۔ حالانکہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں کدورتوں سے پاک کرنے آیا تھا، ہمارے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے آیا تھا، ایمان کی حلاوت سے سرفراز کرنے آ یا تھا، جسمانی نظام درست کرنے آیا تھا، ہمارے ذہنی انتشار کو یکسوئی دینے آیا تھا، ہمیں نفسانی خواہشات کی نجاست سے پاک کرنے آیا تھا، ہماری آلودہ روحوں کو شفاف کرنے آیا تھا، ہمارے خیالات کی پراگندگی کو صاف کرنے آیا تھا، ہمیں تقویٰ کے نور سے منور کرنے آیا تھا، پرہیز گاری کی دولت سے مالا مال کرنے آیا تھا، روحانی انقلاب بر پا کرنے آیا تھا، ہمیں مجاہدانہ زندگی کا خوگر بنانے آیا تھا، لیکن ہماری لا پروائی اور غفلت نے ہمیں اس با برکت مہینے کے فضائل و برکات سے محروم رکھا، ہم اس مہینے کا حق کما حقہ اد ا نہیں کر سکے۔
عہد رسالت میں جوں جوں ماہ رمضان کے ایام گزرتے جاتے، صحابۂ کرامؓ میں عبادات کاذوق و شوق بڑ ھتا جاتا۔ جیسے ہی ماہ رمضان کی آخری راتیں آتیں تو صحابہ کرام ؓرب کی بارگاہ میں آنسو بہا کر گڑگڑاتے ہوئے ان مبارک راتوں کو گزارتے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم بھی یہی تھی اور آپﷺ کا عمل مبارک بھی یہی تھا۔
آپ ﷺ کی عبادات میں اضافہ ہو جاتا، آپ اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لئے راتوں کو بیدار کرتے، لیکن بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ رمضان المبارک کے آخری ایام کو رجوع الیٰ اللہ سے منسوب کر نے کے بجائے و قت کا زیاں کرتا ہے اور قیمتی و قت شاہراہوں اور شاپنگ سینٹرز میں گزار دیتا ہے۔
لوگ نوافل تو کجا فرائض تک کو فراموش کر دیتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ماہِ رمضان عبادت کا مہینہ نہیں، شاپنگ اور خرید و فروخت کا مہینہ ہے۔ ہمارے معاشرے نے رمضان کے آخری ایام کے پُر نور لمحات کو خوشی و مسرت اور عید و تہوار کا سیزن بنا دیا ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اپنی کتاب غنیۃ الطالبین میں فرماتے ہیں کہ ’’رمضان کا مہینہ قلبی صفائی کا مہینہ ہے، ذاکرین، صادقین اورصابرین کا مہینہ ہے، اگر یہ مہینہ تمہارے دل کی اصلاح کرنے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے نکالنے اور اللہ کے باغیوں سے علیحدہ ہونے میں موثر نہیں ہوا تو پھر کون سی چیز تمہارے دلوں پر اثر اندا ز ہوگی؟ لہٰذا تم سے کس نیکی کی امید کی جاسکتی ہے؟ تمہارے اندر کیا باقی رہ گیا ہے؟
کیا تمہارے لئے کسی نجات کا انتظار کیا جا سکتا ہے؟ نیند اور غفلت سے بیدار ہوکر اس مہینے کے باقی رہ جانے والے چند آخری ایام توبہ، رجوع الی اللہ ، توجہ اور الحاوزاری کے ساتھ گزارو۔ اگر تمہارے لئے اس میں استغفار اور عبادت کے ساتھ نفع حاصل کرنا ممکن نہیں تو ان لوگوں کے ساتھ ہو جائو جن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی حاصل ہوتی ہے۔
آنسوؤں کے دریا بہا کر اس مہینے کو رخصت کرو، کیونکہ کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جو آئندہ سال روزے نہیں رکھ سکیں گے اور مزدور جب کام سے فارغ ہوتا ہے تو اسے مزدوری دی جاتی ہے۔ اب ہم اس عمل سے فارغ ہوچکے ہیں، مگر کاش کہ ہم یہ بھی جان سکتے کہ ہمارے روزے ، نمازیں قیام اور دیگر عبادتیں مقبولِ بارگاہ الہٰی ہوئیں یا نہیں‘‘
غور کرنے کا مقام ہے کہ اب سے بیس بائیس دن پہلے ہم ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے کہ بھئی مبارک ہو کہ اللہ نے رمضان پھر نصیب فرمایا آج وہ دن ہے کہ ہم رمضان کو الوداع کہہ رہے ہیں، لیکن جب تک اللہ کو منظور ہے، جب تک یہ دنیا قائم ہے رمضان تو آتا رہے گا، رمضان ہر سال آئے گا اور بڑی آن و شان سے آئے گا اور روزہ رکھنے والے روزہ رکھیں گے، تراویح ہوگی، مسجدیں آباد ہوں گی، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بھی ہوں گے یا نہیں ؟
اور ہوں گے تو کس حال میں ہوں گے۔ لہٰذا بردران عزیز رمضان کے بقیہ دنوں کاحق یہ ہے کہ جتنا وقت ملے وہ تنہائی میں مسجد کے کونے میں گزاریں، آنسو بہانے میں گزاریں، جو کچھ باقی ہے اس سے فائدہ اٹھائیں، جو کوتاہیاں ہوئیں ان پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور ندامت کا اظہار کریں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو بات کسی چیز کو سب سے قیمتی بناتی ہے اور جوخامی کو پورا کرتی ہے وہ ندامت ہے۔
رمضان کو اس طرح رخصت کریں کہ دل گواہی دے، زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں کہ اے اللہ ہم سے کچھ نہیں ہو سکا اور ہم نہ اس رمضان کے قابل تھے، نہ ان روزوں کے قابل اور نہ ہی ہمارا منہ تھا، بس اللہ تو نے نصیب فرمایا، توفیق عطا کر دی لیکن ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم سے تیرے اس مہمان کی کوئی قدر نہیں ہوسکی، ہم اس کی کما حقہ ، میزبانی کا فریضہ انجام نہیں دے سکے۔
آج جمعہ کا مبارک دن ہے، اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں دعاضرور قبول ہوتی ہے تو آ ج کا یہ پورا دن ایسا ہی برکت والا ہے۔ رمضان اور پھر رمضان کا جمعہ اور اس پر رمضان کا آخری جمعہ، توبہ، رحمت، مغفرت، جہنم کی آگ سے آزادی کے لئے آج سے بہتر دن نہیں ہوسکتا۔
آج کی مستجاب الدعوات ساعتوں میں اللہ سے اللہ کو مانگنے کے ساتھ اس سے یہ وعدہ بھی ضرور کریں کہ اب ہم اپنی بقیہ زندگی روزے کے حاصل و مقصود ’’تقویٰ ‘‘ یعنی تیرے حکم کی اطاعت و پابندی، تیرے حکم کی نگہداشت و حفاظت، تیرے حکم کی خلاف ورزی سے بچتے ہوئے اور تیرے حکم کی خلاف ورزی کے برے نتائج سے ڈرتے ہوئے گزاریں گے۔
اے ہمارے رب، ہمیں آئندہ سال پھریہ رمضان عطا کرنا ہم تجھ سے عہد کرتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں آئندہ سال یہ مہمان عزیز عطا کیا تو ہم اس کی میزبانی کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ آ ج کے دن امّتِ مسلمہ کو بھی اپنی دعائوں میں ضرور یاد رکھیں کہ اے اللہ امّت محمدیہ ﷺ کے حال پر رحم فرمایا، امّتِ مسلمہ کو متحد فرما، مسلمانوں، عالم اسلام کو فتح و نصرت عطا فرما اور اسلام کو غلبہ عطا فرما۔( آمین)