• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وجود باری تعالیٰ کائنات کی سب سے روشن حقیقت

علّامہ ہشام الٰہی ظہیر

اسلام میں ایمان باللہ محض ایک فلسفیانہ قیاس یا ذہنی مفروضہ نہیں، بلکہ عقلِ سلیم، فطرتِ صحیحہ، مشاہدۂ کائنات، تاریخِ انسانی اور وحیِ الٰہی کے باہم متفق دلائل پر قائم ایک یقینی علم ہے۔ انسان کا سوال یہ نہیں کہ خدا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کی آواز کو دباکر انکار کیوں کرتا ہے۔

قرآنِ مجید بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کائنات و نفسِ انسانی میں پھیلی نشانیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے: "سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ" (حٰم السجدہ:53)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حق کسی فلسفیانہ مناظرے کا محتاج نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ انسان پر خود منکشف ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو شے خود ہر چیز پر گواہ ہو، اس کے وجود پر الگ سے گواہی طلب کرنا دراصل عقل کی کمزوری ہے، دلیل کی طاقت نہیں۔

سب سے بنیادی عقلی سوال یہ ہے کہ کیا کوئی چیز خود بخود عدم سے وجود میں آ سکتی ہے؟ عقلِ سلیم اس کی نفی کرتی ہے۔ کوئی بھی شے، کوئی بھی نظام، کوئی بھی قانون بغیر سبب کے وجود میں نہیں آتا۔ اگر کائنات پہلے نہیں تھی اور پھر وجود میں آئی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا وجود ضرور ہے جو خود عدم سے ماورا، ازلی اور واجب الوجود ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے متکلمین نے دلیلِ حدوث اور دلیلِ امکان کے ذریعے واضح کیا۔ امام غزالیؒ کے مطابق ہر حادث کے لیے مُحدِث لازم ہے، اور کائنات سراسر حادث ہے، لہٰذا اس کا ایک ازلی خالق ہے، اور وہ اللہ ہے۔

کائنات میں حیرت انگیز نظم، توازن اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اگر اس نظام کے پیچھے ایک سے زیادہ خود مختار طاقتیں ہوتیں تو تصادم ناگزیر تھا، جیسا کہ قرآن نے فرمایا: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا" (سورۃالانبیاء:22)

اللہ کے وجود کے منکرین سے ایک سادہ مگر گہرا سوال یہ ہے کہ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیٹی، بیوی اور شوہر جیسے رشتوں کا فرق کس نے متعین کیا؟ یہ محض سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ فطرت میں پیوست ایک باقاعدہ ڈیزائن ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام مذاہب بھی ان رشتوں کو مانتے ہیں، اور اللہ کے منکر بھی انہی رشتوں کے تقدس، احترام اور حدود کو تسلیم کرتے ہیں۔ 

کوئی معاشرہ ایسا نہیں جہاں ماں اور بیوی، بہن اور بیٹی کے فرق کو مٹا دیا گیا ہو اور وہ باقی رہ سکا ہو۔اگر خدا نہیں، تو یہ فرق کہاں سے آیا؟ یہ احترام کس نے سکھایا؟ یہ فطری حدود کس نے مقرر کیں؟ اس سوال کا جواب الحاد کے پاس نہیں، مگر دین کے پاس واضح ہے:"وَهُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ" (سورۃالانعام:98)

میڈیکل سائنس کے مطابق ایک شادی شدہ مرد اور عورت جسمانی اعتبار سے مکمل ہوتے ہیں، ان میں تولید کے تمام اجزا موجود ہوتے ہیں، پھر بھی بے شمار ایسے جوڑے ہیں جو اولاد سے محروم رہتے ہیں۔ اگر سب کچھ محض مادی قوانین کا نتیجہ ہوتا تو ہر صحت مند جوڑا لازماً صاحبِ اولاد ہوتا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ سائنس یہاں آ کر رک جاتی ہے، اور خود ڈاکٹر کہتے ہیں: ’’اب یہ اللہ کی مرضی ہے، دعا کیجیے‘‘۔ یہ اعتراف اس بات کی عملی گواہی ہے کہ سبب کے پیچھے ایک مسبّب الاسباب موجود ہے، جو چاہے تو قوانین کو نتیجہ دے، اور چاہے تو روک لے: "يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ" (سورۃ الشوریٰ:49)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ" (صحیح بخاری)ہر انسان پیدائشی طور پر خدا شناس ہے۔ انکار بعد میں آتا ہے، سیکھا جاتا ہے، ماحول سے منتقل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت، خوف اور بے بسی میں سب سے بڑا منکر بھی بے اختیار خدا کو پکارتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب فلسفہ خاموش اور فطرت بول رہی ہوتی ہے۔

سائنس نے جو کچھ دریافت کیا ہے، وہ انسان کو اللہ کی عطا کردہ محدود عقل اور علم کے ذریعے ملا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں، ارتقا کے مراحل طے کرتے ہیں، ایک مفروضہ کل درست اور آج غلط ثابت ہو جاتا ہے۔قرآن نے اس حقیقت کوپوری وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔

سائنس خالق کی نفی نہیں کرتی، بلکہ صحیح فہم کے ساتھ دیکھیں تو ہر نئی دریافت انسان کو پہلے سے زیادہ اللہ کی طرف لے جاتی ہے۔

شر کا وجود خدا کے انکار کی دلیل نہیں، بلکہ انسانی علم کی محدودیت کا اظہار ہے۔ اسلام یہ بتاتا ہے کہ بسا اوقات جسے انسان شر سمجھتا ہے وہ کسی بڑے خیر کا ذریعہ ہوتا ہے۔ (سورۃالبقرہ:216)۔

خدا کا وجود کسی ایک منطقی دلیل کا محتاج نہیں۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے، کائنات کا اعلان ہے، رشتوں کا نظم ہے، ضمیر کی پکار ہے، اور انبیاء کی متفقہ دعوت ہے۔قرآن کا آخری چیلنج آج بھی قائم ہے: "أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ" کیا وہ قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے؟(سورۃالنساء:82)

جو غور کرے، اس کے لیے دلیل ختم ہو جاتی ہے، اور جو ضد کرے، اس کے لیے دلیل کبھی کافی نہیں ہوتی‘‘۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

اقراء سے مزید