سہیل افضل
کراچی …فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ملک کے تمام بڑے برآمدکنندگان کے ٹیکس ریکارڈ کی چھان بین کے حکم کے بعد ملک کی ایکسپورٹ انڈسٹری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ‘ایف بی آر کے اس نئے اقدام نے برآمد کنندگان کی پوری کمیونٹی میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر دی کردی‘ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی ایسوسی ایشنز کے ہنگامی اجلاس طلب کر لئے ہیں‘ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ایکسپورٹرز کے ٹیکس ریکارڈکی چھان بین کے احکامات سے ایکسپورٹ کی حوصلہ شکنی کرنے کی سازش کی گئی ہے‘ یہ اقدام تما م کیس دوبارہ کھولنے کے مترادف ہے جس سےان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا ۔۔ تفصیلات کے مطابق 30 دسمبر کو ایف بی آر نے ملک کے تمام چیف کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ ایسے تمام ایکسپورٹرز جنہوں نےقابلِ ٹیکس آمدن مناسب جواز کے بغیر کم ظاہر کی ہے ان کے ٹیکس کی اسکروٹنی کی جائے‘ان کے گزشتہ سال کے گوشوارے چیک کئے جائیں اور اگر انہوں نے کسی مناسب جواز کے بغیر کم ٹیکس جمع کرایا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے،ایف بی آر نے ایل ٹی او کراچی،لاہور،اسلام آباد،سی ٹی او کراچی،لاہور ،اسلام آباد ،آر ٹی او فیصل آباد اور سیالکوٹ سے کہا ہے کہ ان کی حدود میں آنے والے ٹاپ 30 ایکسپورٹرز کے معاملات کی چھان بین کی جائے،اسی طرح ایل ٹی او ملتان،ایم ٹی او کراچی،آر ٹی او ون اور آر ٹی او 2 کراچی، آر ٹی او لاہور،اسلام آباد،سرگودھا اور گوجرانوالہ کو اپنی حدود میں آنے والی ٹاپ 20 کمپنیوں جبکہ آر ٹی او پشاور ایبٹ آباد، ملتان، سکھر،حیدرآباد،رواولپنڈی، کوئٹہ ، ساہی وال کو اپنی حدود کی ٹاپ 10 کمپنیوں کے ٹیکس کی سکروٹنی کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریکارڈکی چھان بین کے احکامات سے ایکسپورٹ کی حوصلہ شکنی کرنے کی سازش کی گئی ہے ،ایف بی آر ذرائع کے مطابق ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد ایکسپورٹرز (افراد، اے او پیز اور کمپنیاں) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے اپنی ظاہر کردہ قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی کی ہے۔ یہ کمی فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 154 میں کی گئی ترمیم کے بعد سامنے آئی، ایف بی آر کے مطابق، مذکورہ صورتحال کے پیشِ نظر تمام چیف کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں آنے والے بڑے برآمد کنندگان کی گوشواروں کی سکروٹنی کریں ، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ ترمیم کے بعد گوشواروں میں کسی غیر معمولی کمی، تضاد یا اعلان کے طریقۂ کار میں کسی تبدیلی کے آثار تو موجود نہیں۔ اور جن معاملات میں مناسب جواز کے بغیر قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی کی گئی ہو، وہاں قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے۔ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ یہ آرڈر تما م کیس دوبارہ کھولنے کے مترادف ہے ،ایف بی آر نے خط کے ساتھ منسلک ہدایت نامے میں کہا ہے کہ کہ ان کیسز کا سیکشن 177 کے تحت آڈٹ کیا جائے، سیکشن 122(5A) اور سیکشن 175C انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کیسز دوبارہ کھولے جائیں جبکہ برآمد کنندگان کے کاروباری مقامات پر افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائےایف بی آر نے چیف کمشنرز سے ہر کیس میں کی گئی کارروائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ اس رپورٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 177، 122(5A) اور/یا 175C کے تحت کی گئی کارروائی، سیکشن 177 اور 122(5A) کے تحت جاری کیے گئے احکامات، سیکشن 177 اور 122(5A) کے تحت عائد کی گئی ٹیکس ڈیمانڈ، نیز سیکشن 177، 122(5A) اور 147 کے تحت وصول کی گئی اضافی آمدن (ریونیو) کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ دوسری جانب کاروباری برادری نے اس فیصلے کوایکسپورٹ سیکٹرز کی ہراسانی کا اقدام قرار دیا ہے اس فیصلے سےایکسپورٹرز جو کہ پہلےہی بھاری ٹیکسوں ، مہنگی بجلی اور دیگر مسائل سے عالمی منڈی کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے انہیں مزید مشکلات کا شکار کر دے گا۔