اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) غیر دستاویزی روئی کی تجارت روکنے کیلئے جننگ مرحلے پر ویڈیو مانیٹرنگ کا مطالبہ، اپٹما کا کہنا ہے کہ کپاس کی پیداواری اعداد و شمار میں پائی جانیوالی بے ضابطگیاں جننگ کے مرحلے پر جنم لیتی ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر زور دیا ہے کہ کپاس کی سپلائی چین کے جننگ مرحلے پر ویڈیو اینالیٹکس مانیٹرنگ نافذ کی جائے، کیونکہ ان کے مطابق یہی وہ اہم مرحلہ ہے جہاں غیر دستاویزی کپاس، جسے عام طور پر ’’گول مال‘‘ کہا جاتا ہے، مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ 31 دسمبر 2025 کو ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کو لکھے گئے ایک خط میں اپٹما نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کپاس کی پیداواری اعداد و شمار میں پائی جانے والی بے ضابطگیاں جننگ کے مرحلے پر جنم لیتی ہیں، نہ کہ اسپننگ ملز کے مرحلے پر۔ ایسوسی ایشن نے پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس (سی آر ایس) اور پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کپاس کی پیداوار اور جننگ فیکٹریوں تک پہنچنے والی کپاس کی مقدار کے درمیان نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ اپٹما نے زور دیا کہ اسپننگ ملز میں صرف دستاویزی کپاس کی گانٹھیں ہی پراسیس کی جاتی ہیں، اس لیے اس درمیانی مرحلے پر نگرانی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے غیر دستاویزی کپاس کے بہاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔