• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب انفارمیشن کمیشن کا آر ٹی آئی شکایات خارج کرنے کا فیصلہ

لاہور(آصف محمود بٹ ) پنجاب انفارمیشن کمیشن کا آر ٹی آئی شکایات خارج کرنے کا فیصلہ، پنجاب انفارمیشن کمیشن نے سابق وزراء اعلیٰ عثمان بزدار، محسن نقوی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے ادوار میں ہونے والے وزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات اور پنجاب حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی ہیں سعدیہ مظہر نے شناختی کارڈ کی کاپی فراہم نہیں کی، شہریت کا ثبوت دینا ضروری ہے۔ “جنگ” کو حاصل دستاویزات کے مطابق پنجاب میں معلومات تک رسائی کے قانون پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت آر ٹی آئی ایکٹوسٹ سعدیہ مظہر نے پنجاب سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو دو الگ الگ درخواستیں بھجوائی تھیں۔ پہلی درخواست میں انہوں نے مختلف ادوار کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس کی تزئین و آرائش، مرمت اور دیکھ بھال پر ہونے والے مجموعی اخراجات کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ درخواست میں 20 اگست 2018 سے لے کر موجودہ دور تک مختلف وزرائے اعلیٰ کے ادوار کو الگ الگ ظاہر کرتے ہوئے بڑے کاموں کی نوعیت، ان پر آنے والی لاگت اور کام کرنے والی کمپنیوں، ٹھیکیداروں یا وینڈرز کے نام فراہم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔دوسری درخواست میں پنجاب حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال سے متعلق جامع معلومات مانگی گئی تھیں۔ اس میں سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار، حمزہ شہباز، نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ادوار میں ہیلی کاپٹر کے کل دوروں کی تعداد، ایندھن پر اٹھنے والے اخراجات، مرمت اور دیکھ بھال کی مد میں خرچ ہونے والی رقم اور ہیلی کاپٹر کے آپریشن، انتظام اور تکنیکی دیکھ بھال کے لیے تعینات پائلٹس، انجینئرنگ اسٹاف، گراؤنڈ کریو اور دیگر عملے کی مجموعی تعداد شامل تھی۔ درخواست گزار نے سال وار بنیاد پر بھی ان تمام تفصیلات کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔درخواست گزار کے مطابق یہ تمام معلومات براہِ راست عوامی مفاد سے وابستہ ہیں اور قانون کے تحت انہیں مقررہ مدت کے اندر فراہم کیا جانا لازم تھا۔ تاہم متعلقہ محکمے کی جانب سے معلومات فراہم نہ کیے جانے پر سعدیہ مظہر نے پنجاب انفارمیشن کمیشن میں شکایات دائر کیں۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن نے دونوں شکایات پر الگ الگ فیصلے جاری کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔ فیصلوں میں کہا گیا کہ پنجاب شفافیت و حقِ معلومات ایکٹ 2013 کی شق 2(اے) کے تحت معلومات طلب کرنے کا حق صرف پاکستانی شہریوں کو حاصل ہے، اس لیے درخواست گزار کی شہریت کا ثبوت فراہم کیا جانا ضروری تھا۔ کمیشن کے مطابق قواعد و ضوابط کے تحت سعدیہ مظہر سے قومی شناختی کارڈ کی کاپی طلب کی گئی، تاہم انہوں نے ذاتی معلومات کے تحفظ کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے صرف شناختی کارڈ نمبر فراہم کیا، جسے کمیشن نے شہریت ثابت کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔ کمیشن کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری درخواست گزار پر عائد ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری کمیشن یا متعلقہ سرکاری ادارے پر منتقل نہیں کی جا سکتی۔ فیصلے کے مطابق جب تک درخواست گزار کی شہریت باضابطہ طور پر ثابت نہ ہو، اس وقت تک متعلقہ سرکاری محکمے پر معلومات فراہم کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، لہٰذا شکایات کو خارج کیا جاتا ہے۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے ان فیصلوں کے بعد شفافیت، گورننس اور حقِ معلومات کے لیے کام کرنے والے حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق عوامی اخراجات سے متعلق معلومات تک رسائی جمہوری نظام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس نوعیت کے فیصلے آر ٹی آئی قوانین کے عملی نفاذ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری مؤقف یہ ہے کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن نے موجودہ قانون اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی روشنی میں فیصلہ دیا ہے جس پر عمل درآمد لازم ہے۔
اہم خبریں سے مزید