کراچی (اعجاز احمد /اسٹاف رپورٹر) پاکستان ریلوے کی تاریخ میں یکم جنوری انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس تاریخ کو مختلف سن میں متعدد ریلوے لائنز کا افتتاح ہوا ، جن کے ذریعے غیر منقسم ہندوستان یعنی موجودہ پاکستان میں شامل متعدد شہر وں اور علاقوں کے درمیان ریل رابطے قائم ہوئے اور مسافروں کے لیے آمد ورفت کی سہولتوں میں اضافہ ہوا۔ ریلوے حکام کے مطابق یکم جنوری 1880ء کو جہلم سے رتیال تک ریلوے لائن کا افتتاح ہوا، جب کہ اسی تاریخ کو 1880ء میں ہی لالہ موسیٰ سے منڈی بہاؤ الدین میٹر گیج (تنگ پٹڑی) ریلوے لائن کا آغاز ہوا، جسے بعد ازاں براڈ گیج (چوڑی پٹڑی) میں تبدیل کردیا گیا۔ یکم جنوری 1881ء کوراولپنڈی سے لارنس پور ( فقیر آباد ) تک ریلوے لائن کا افتتاح ہوا، پھر اسی تاریخ کو 1883ء میں پشاور سٹی سے پشاور کینٹ، جب کہ چالیسہ سے کھیوڑہ تک میٹر گیج ریلوے لائن کا آغاز ہوا، جسے بعد میں براڈ گیج میں تبدیل کردیا گیا۔ یکم جنوری 1884ء کووزیر آباد سے سیال کوٹ تک، یکم جنوری 1889ء کو شیر شاہ سے چناب ویسٹ بنک، یکم جنوری 1892ء کو قلعہ عبد الله سے چمن، یکم جنوری 1896ء کو سانگلہ ہل سے حافظ آباد اور یکم جنوری 1901ء کوپشاور کینٹ سے جمرود ریلوے لائن کا افتتاح ہوا، مگر اب یہ سیکشن بند ہے۔یکم جنوری 1901ء کو ہی نوشہرہ سے درگئی تک میٹر گیج ریلوے لائن کا آغاز ہوا، بعد ازاں اسے براڈ گیج میں تبدیل کردیا گیا ۔ یکم جنوری 1912ء کو میر پور خاص سے کھدرو تک میٹر گیج ریلوے لائن کا افتتاح ہوا، تاہم اب یہ سیکشن بند ہے۔