اسرار خان
اسلام آباد …پاکستان کے ٹیکس ادارے نے جمعرات کے روز برآمد کنندگان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی قسم کی غیر منصفانہ ٹیکسیشن کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا بلکہ صرف فنانس ایکٹ 2024 کے تحت کی گئی تبدیلیوں کے اطلاق کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز کا جائزہ لے رہا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا ایک خط جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ برآمد کنندگان کے ریٹرنز کو اضافی ٹیکس عائد کرنے کے لیے جانچا جائے گا، جعلی اور گمراہ کن ہے اور اس سے کاروباری طبقے میں بلاوجہ خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔یہ وضاحت ایک بڑی قانونی تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت فنانس ایکٹ 2024میں برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر کم از کم ٹیکس رجیم میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کو ٹیکس سال 2025 کے انکم ٹیکس ریٹرنز میں درست طور پر ظاہر کرنا لازمی ہے۔حقیقی غلطیوں اور قانونی تضادات سے بچنے کے لیے ایف بی آر نے اپنے فیلڈ دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریٹرنز کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں بھی بے ضابطگیاں پائی جائیں انہیں قانون کے مطابق پراسیس کریں۔ ادارے نے واضح کیا کہ ڈیسک آڈٹ اور ریٹرنز کی جانچ معمول کی ذمہ داریاں ہیں، برآمد کنندگان کے خلاف کوئی خصوصی کارروائی نہیں ۔شفافیت کو یقینی بنانے اور بدعنوانی یا ہراسانی کے امکانات ختم کرنے کے لیے اس جائزہ عمل کی نگرانی براہِ راست ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کر رہا ہے۔برآمد کنندگان کو یقین دلاتے ہوئے ایف بی آر نے کہا کہ وہ منصفانہ اور شفاف ٹیکس وصولی، ٹیکس دہندگان کی سہولت اور ٹیکس قوانین کے پیشہ ورانہ نفاذ کے لیے پرعزم ہے، اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے کسی بھی تنازع سے بچنے کے لیے درست ریٹرنز فائل کریں۔