• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا میں نکاح کے نظام میں قانونی و صحت سے متعلق سنگین خامیاں بے نقاب

پشاور ( ارشدعزیز ملک)خیبر پختونخوا میں کیے گئے ایک جامع پروفائلنگ مطالعے نے نکاح کے اندراج اور ادائیگی کے نظام میں قانونی آگاہی، صحت سے متعلق پابندیوں اور عملدرآمد کے حوالے سے سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور قبل از شادی صحت کے تحفظات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔مطالعے کے مطابق 109 نکاح خواں اس سروے میں شریک ہوئے، جو مقررہ 100 افراد کے نمونے سے زیادہ ہیں۔یہ مطالعہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے ذریعے بچوں کے تحفظ اورفلاح کے فروغ کے منصوبے کے تحت کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ نکاح خواں تعلیمی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے نسبتاً مضبوط پس منظر رکھتے ہیں، تاہم قانونی تربیت کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔ 41 فیصد نکاح خواں پوسٹ گریجویٹ ہیں اور 74 فیصد کو پانچ سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے، لیکن صرف 8 فیصد نے نکاح کے قانونی پہلوؤں سے متعلق باضابطہ تربیت حاصل کی ہے۔رپورٹ میں کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین پر شدید ابہام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صرف 39 فیصد نکاح خواں لڑکیوں کی قانونی عمرِ نکاح درست طور پر بتا سکے۔ مزید یہ کہ 94 فیصد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے عمر کی بنیاد پر کبھی نکاح پڑھانے سے انکار نہیں کیا، جو کم عمری کی شادی کے قوانین پر کمزور عملدرآمد کو ظاہر کرتا ہے۔صحت سے متعلق حفاظتی اقدامات بھی بڑی حد تک نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ مطالعے کے مطابق صرف 48 فیصد نکاح خواں نکاح سے قبل تھیلیسیمیا سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرتے ہیں، حالانکہ اس حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں۔ کمیونٹی مزاحمت کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے، جہاں 78 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو وسیع پیمانے پر قبول نہیں کیا جاتا۔ ہری پور میں اس حوالے سے قبولیت کی شرح سب سے کم بتائی گئی۔رپورٹ کے وسیع تر نتائج کے مطابق نکاح رجسٹرارز اور مقامی انتظامیہ میں بھی نظامی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید