• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائیکورٹ، کے الیکٹرک کے تھرڈ پارٹی معاہدے کیخلاف انکوائری روک دی

کراچی ( محمد منصف ) سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی ، صوبائی اور شہری حکومتی اداروں کو جاری بجلی کے بلز ، بقایاجات سمیت دیگر واجباب کی وصولیوں کو یقینی بنانے کیلئے کے الیکٹرک کے تھرڈ پارٹی سے معاہدے کیخلاف ایف آئی اے کی انکوائری آئندہ ہفتے تک روک دی ہے۔ کے الیکٹرک نے ایف ائی اے کی جانب سے جاری انکوائری نمبر 86/2025کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت عالیہ نے ایف آئی اے کے نوٹس معطل کر کے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے 9فروری تک جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک نے وفاق و صوبے سمیت ایف آئی اے کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی اے کی نجی کمرشل معاملات میں بلاجواز مداخلت اختیارات سے تجاوز ہے۔ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے کے الیکٹرک اور اسکائی برج سروسز کے درمیان مشاورتی معاہدوں سے متعلق ریکارڈ طلب کیا ہے اور ریکارڈ طلبی سے متعلق کہا ہے کہ ایف آئی اے نے 4دسمبر کو معاہدے کی تفصیلات اور اس حوالے سے جتنے اجلاس ہوئے ہیں اس کے منٹس ، خریداری کی تفصیلات ، ادائیگیوں کی تفصیلات ، سرکاری و میونسپل اداروں کے ساتھ خط و کتابت اور مفاہمتی ریکارڈ ایف آئی اے نے ہنگامی طور پر طلب کیا تھا اس کے بعد 16 دسمبر کو ایف آئی اے نے دوسرا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جس پر قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی جبکہ کے الیکٹرک پبلک لسٹڈ اور نجی ملکیتی کمپنی ہے جو نجکاری کے بعد کمپنی کا انتظام اور مکمل کنٹرول نجی شعبہ کی حیثیت سے رکھتی ہے۔ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کی اقلیتی شیئر ہولڈر ہے۔ کمپنی کے نجی کمرشل معاملات کو وفاقی حکومت کے امور سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ کے الیکٹرک اور اسکائی برج سروسز کے درمیان معاہدہ معمول کے کاروباری معاملات کے تحت کئے گئے اور یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ معاہدے میں کسی قسم کا سرکاری اختیار کا استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی عوامی فنڈنگ استعمال کی گئی۔ لہذا ایف آئی اے کی انکوائری اور اس سلسلے میں جاری نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اہم خبریں سے مزید