کراچی (اسد ابن حسن) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کراچی میں تعینات افسر کو ایک مرتبہ پھر اہم مقدمہ تفویض کر دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ماضی میں کراچی امیگریشن میں تعینات انسپیکٹر محمد اقبال جب کراچی ایئرپورٹ پر شفٹ انچارج تعینات تھا تو اس کی شفٹ میں مشہور قتل کیس کا ملزم شاہ رخ جتوئی دبئی جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس واقعے کی انکوائری کے بعد اس کی تنزلی کرتے ہوئے اس کو سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔ بعد میں کسی نہ کسی طرح اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے انسپکٹر اور اس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترقی پا گیا۔ بعد میں اس کی تعیناتی کاؤنٹر ٹیررزونگ میں ہو گئی اور وہاں اس پر کرپشن کا الزام لگا اور اس کے بعد پھر انکوائری ہوئی اور ڈائریکٹر جنرل نے اس کی تنزلی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے انسپیکٹر بنا دیا۔ اب گزشتہ ہفتے انہی ڈائریکٹر جنرل نے محمد اقبال کو ڈرائیوروں کی بھرتی کے دوران ایک ڈرائیور کا لائسنس نہ ہونے کے باوجود پاس کرنے کا الزام لگا جس کے بعد دوبارہ تحقیقات ہوئی اور اس کو انسپیکٹر سے سب انسپیکٹر بنا دیا گیا۔ اور اب وہ ایک بڑا مقدمہ نمبر 37/25 جو کراچی کاٹن ایسوسییشن کے خلاف درج ہوا ہے اس کا تفتیشی افسر ہے اور اس مبینہ کیس میں بھی کئی دہائیوں تک اربوں روپے کا ہیر پھیر موجود ہے۔ اس حوالے سے سرکل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسر کی تنزلی مقدمہ درج ہونے کے بعد ہوئی ہے۔