پاکستان میں گوگل اے آئی پلس پلان متعارف
2025ء میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی جانب سے پاکستان میں گوگل اے آئی پلس پلان متعارف کرایا گیا، جو ملک میں ڈیجیٹل ترقی، تعلیم اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس پلان کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ٹولز تک آسان رسائی فراہم کرنا اور نوجوانوں کی تخلیقی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
اس پلان میں Gemini 2.5 Pro، Veo 3 Fast ویڈیو ماڈل اور Gemini انٹیگریشن جیسی جدید سہولیات شامل ہیں۔ صارفین کو 200 جی بی اسٹوریج اور دیگر خصوصیات فراہم کی جائیں گی، جو ایک ہی پلان کے تحت پانچ افراد کے ساتھ شیئر کی جا سکتی ہیں۔
یہ پلان پاکستان اور گوگل کی شراکت سے تعلیمی شعبے میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب اہم قدم ہے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ملک میں ٹیکنالوجی، تعلیم اور تخلیقی شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھلنے کی اُمید ظاہر کی جا رہی ہے۔
جی میل پر’’ اے آئی‘‘ فیچر
2025ء میں گوگل کمپنی نے اپنی ای میل سروس میں صارفین کی سہولت کے لیے جدید اے آئی فیچر متعارف کرایا ہے۔ اس فیچر کے تحت طویل ای میل تھریڈز کی سمری خودکار طور پر تیار ہوگی اور یہ ایک ہی کلک پر ایک ساتھ نظر آئے گی۔
گوگل کی جانب سے مئی 2025 میں یہ فیچر سب سے پہلے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایاگیا تھا، جس کی کامیابی کے بعد اب یہ سہولت ویب صارفین کوبھی فراہم کی گئی ہے۔
نئی اپ ڈیٹ کے ساتھ طویل ای میل تھریڈز کی سمری براہ راست ای میل کے اوپر نمایاں طور پر دکھائی دے گی، جس سے صارفین کو اہم معلومات تک فوری رسائی ملے جائے گی۔ گوگل کا اے آئی اسسٹنٹ طویل ای میل تھریڈز میں موجود متعدد پیغامات کے کلیدی نکات کو سمیٹ کر ایک جامع انداز میں بناکر پیش کرے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے نئے پیغامات شامل ہوں گے تو سمری خود بہ خود اپ ڈیٹ ہوگی اور صارفین کو تازہ ترین معلومات بھی ملتی رہے گی۔ علاوہ ازیں گوگل نے اپنے اے آئی جیمنائی میں سائیڈ پینل کا اضافہ بھی کردیا ہے ،جس کے ذریعے صارفین کسی بھی ای میل کی سمری ایک کلک پر بناسکیں گی۔
یوٹیوب شارٹس میں مصنوعی ذہانت کا نیا فیچر
گزشتہ سال یوٹیوب پر ویڈیو شارٹس بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایک فیچر متعارف کرایا گیا۔ اس ٹول کا استعمال ایسی فوٹیج شامل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے، جو خیال کو حقیقت میں بدلنےکا سبب بن سکتی ہیں۔
ڈریم اسکرین پہلے صرف تخلیق کاروں کو اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیو پس منظر یا بیک گراؤنڈ شامل کرنے کی اجازت دیتا تھا، تاہم اب یوٹیوب شارٹس میں بھی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز بنائی جا سکیں گی۔
یوٹیوب کے مطابق وہ گوگل ڈیپ مائنڈ کے تازہ ترین ویڈیو جنریشن ماڈل ’ویو 2 ’کو ڈریم اسکرین کے ساتھ ضم کر رہا ہے، جس کا استعمال کرتے ہوئے صارفین شارٹس میں ’’اسٹینڈ الون‘ ‘ویڈیوز تیار کرسکتے ہیں۔ اس فیچر کا مقصد پلیٹ فارم پر تخلیق کاروں کو فوٹیج بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
’’ویو2‘‘ ٹول ایک ’’ٹیکسٹ ٹو ویڈیو جنریٹر‘‘ ہے، لہٰذا صارفین آسانی سے لکھ کر وہ ویڈیو تخلیق کرواسکیں گے، جو خیال ان کا تخیل ہو، جب کہ ویڈیو تخلیق کرنے کا کام ویو 2 اے آئی ماڈل کرے گا۔ ڈیپ مائنڈ کا دعویٰ ہے کہ ویو 2 سے تیار کردہ ویڈیوز حقیقت سے زیادہ قریب ہیں۔
گوگل فوٹوز میں مصنوعی ذہانت سے آراستہ جدید فیچرز
2025 ء میں گوگل فوٹوز کی 10 ویں سالگرہ پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں، یہ فیچرز پہلے صرف پکسل ڈیوائسز پر دستیاب تھے لیکن اب انہیں تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جارہا ہے۔ پہلا فیچر’’ جنریٹیو AI ‘‘ہے، جس کو استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنی تصاویر میں باآسانی تبدیلیاں کرسکیں گے۔
اس کا دوسرا فیچر’’ آٹو فریم‘‘ ہے، یہ فیچر تصویر کی کمپوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کرتا ہے، جیسے کہ تصویر کو اوپر یا نیچے سے کم یا زیادہ کرنا، تصویر کو چوڑا کرنا، یا خالی جگہوں کو AI کی مدد سے بھرنا۔
علاوہ ازیں AI اینہانس نامی فیچر بھی شامل کیا گیا ہے، جو مختلف AI اثرات کو یکجا کرکے تین خودکار ایڈٹس پیش کرتا ہے، اس میں تصویر کی روشنی کو کم یا زیادہ کرنا، غیر ضروری اشیاء کو ہٹانا اور دیگر تبدیلیاں شامل ہیں۔
صارفین مخصوص حصوں پر ٹیپ کر کے ان کے لیے موزوں ایڈیٹنگ ٹولز کی تجاویز بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ مزید برآں گوگل نے ایک نیا فیچر بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنے البمز کو کیو آر کوڈ کے ذریعے دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔
AI سرمایہ کاری نے عالمی ٹیکنالوجی کا رُخ تبدیل کردیا
عالمی ٹیکنالوجی کا رخ تبدیل، AI سرمایہ کاری نے تاریخی ریکارڈ توڑ دئیے۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2013-2024 کے دوران AI میں 448 کھرب روپے ( 1.6 ٹریلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کی گئی، بیشتر ڈیٹا سینٹرز، انفراسٹرکچر اور چپس پر مرکوز رہی، بڑے ادارے جیسے Microsoft اور Nvidia اور اسٹارٹ اپس دونوں آرٹیفیشل انٹیلی جنس بوم میں حصہ لے رہے ہیں۔ سرمایہ کاری کا زیادہ تر پیسہ ایک دوسرے پر منحصر مالیاتی سرکلز میں گردش کر رہا ہے، جس سے ممکنہ مالیاتی بلبلے کے خدشات ہیں۔
اے آئی سرمایہ کاری ہیلتھ کیئر، گاڑیوں، فنانس، مینوفیکچرنگ و دیگر شعبوں میں پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری نے گزشتہ دہائی کے دوران تاریخی ریکارڈ قائم کر دیے ہیں، جس میں 2013 سے 2024 کے دوران مجموعی طور پر 1.6 ٹریلین ڈالر لگائے گئے۔
زیادہ تر سرمایہ کاری ڈیٹا سینٹرز، انفراسٹرکچر، توانائی کے ذرائع اور چپس میں مرکوز رہی، جبکہ AI کی مختلف ایپلیکیشنز جیسے ہیلتھ کیئر، خود مختار گاڑیاں، فنانشل ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں پیداوار بڑھانے میں مدد کر رہی ہیں۔ بڑے ادارے جیسے Microsoft، Nvidia اور اسٹارٹ اپس دونوں AI کے بوم میں حصہ لے رہے ہیں اور اسٹارٹ اپس نے صرف پہلی سہ ماہی میں 70 ارب ڈالر اکٹھے کیے۔
مارکیٹ ویلیو میں زبردست اضافہ ہوا ہے، لیکن آمدنی اس کے پیچھے نہیں رہی، جس سے سرمایہ کاروں میں مالیاتی بلبلے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ کچھ سرمایہ کاری سرکلر مالیاتی معاہدوں کے ذریعے گردش کر رہی ہے، جہاں کمپنیاں ایک دوسرے سے خریداری اور قرضوں کے ذریعے مالی مدد فراہم کر رہی ہیں۔
ٹیک کے سب سے بڑے سات ادارے (Magnificent Seven) 2025 میں AI پر 300 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو عالمی ٹیکنالوجی کے نقشے کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔