• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’مصنوعی ذہانت‘‘ دیگر شعبوں کی طرح سائنسی تحقیق، موسمیاتی سائنس اور توانائی کے شعبے میں بھی مؤثر انتظام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے

مصنوعی ذہانت اب تجرباتی مرحلے سے نکل کر معمول کے طبی استعمال تک پہنچ چکی ہے، جہاں یہ تشخیص دستاویزی کارروائی اور علاج سے متعلق فیصلوں میں معالجین کی معاونت کر رہی ہے۔ اس کے نمایاں فوائد میں رفتار ، درستگی اور ڈاکٹروں کے کام کے بوجھ میں کمی شامل ہے۔ 

ریڈیالوجی میں اے آئی پلیٹ فارمز حقیقی وقت میں فالج، خون بہنے اور سرطان کی نشاندہی کرتے ہیں، جب کہ اسٹروک ٹرائیج (Stroke Triage) کے نظام علاج میں تاخیر کم کر کے اے آئی کے ذریعے ڈاکٹرز کے نوٹس خودکار بنائے جا رہے ہیں اور پیتھالوجی (Pathology) میں ٹیومر کی اقسام کی درجہ بندی ماہرین جیسی درستگی سے ممکن ہو گئی ہے۔

حیاتیاتی علوم اور ادویات کی دریافت میں مصنوعی ذہانت نے ادویات کی تیاری کے اوقات کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، کیوںکہ اب مالیکیولز کے رویّے کی پیش گوئی ترکیب سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ اس سے لاگت میں کمی اور کلینیکل کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ 

اے آئی سے تیار کردہ ادویات انسانی آزمائش تک پہنچ چکی ہیں، جب کہ پروٹین اسٹرکچر کی پیش گوئی نے تحقیق میں انقلاب برپا کیا ہے۔ زہریلے اثرات اور بایو ایویلیبیلٹی (Bioavailability) کی ابتدائی پیش گوئی اور جنریٹو کیمسٹری نے نئی ادویات کی تیاری کو برسوں کے بجائے ہفتوں تک محدود کر دیا ہے۔

تعلیم میں مصنوعی ذہانت نے یکساں نصاب کے تصور کو بدل کر ذاتی نوعیت کی تعلیم کو فروغ دیا ہے۔ اب سیکھنے والے کی صلاحیت کے مطابق مواد خود بخود ایڈجسٹ ہوتا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ذاتی ٹیوشن ممکن ہوئی ہے۔ AI ٹیوٹرز طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں، جامعات میں چیٹ بوٹس (Chatbots) داخلوں اور طلبہ معاونت میں استعمال ہو رہے ہیں، جب کہ خودکار گریڈنگ نظام مضامین اور کوڈنگ اسائنمنٹس کی جانچ میں مدد دے رہے ہیں۔

سائنسی تحقیق میں مصنوعی ذہانت اب ایک معاون محقق کا کردار ادا کر رہی ہے، جو مفروضات کی تشکیل، ادبی مواد کے تجزیے اور تجرباتی ڈیزائن کو تیز کر رہی ہے۔ لٹریچر مائننگ کے جدید ٹولز پوشیدہ تحقیقی روابط سامنے لاتے ہیں، خودکار لیبارٹریاں کیمیائی ترکیب کو بہتر بناتی ہیں اور AI سمولیشنز آزمائش اور غلطیوں کو کم کر دیتی ہیں۔

سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں مصنوعی ذہانت نے پروگرامنگ کو دستی کوڈنگ سے انسان-AI اشتراک میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اے آئی اوزار کوڈ لکھنے، درست کرنے اور بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، خودکار یونٹ ٹیسٹس اور دستاویزات تیار ہوتی ہیں، جب کہ ڈیواپس (DevOps) نظام خرابی سے پہلے مسائل کی نشاندہی کر لیتے ہیں۔

مالیات اور بینکاری میں مصنوعی ذہانت رسک اسیسمنٹ (Risk Assessment)، دھوکہ دہی کی نشاندہی اور آپریشنل افادیت کو بہتر بنا رہی ہے۔ حقیقی وقت میں مشکوک لین دین کی شناخت، متبادل ڈیٹا پر مبنی کریڈٹ اسکورنگ، قانونی معاہدوں کا خودکار تجزیہ اور کسٹمر سروس چیٹ بوٹس روزانہ لاکھوں صارفین کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

صنعت اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ میں مصنوعی ذہانت جدید فیکٹریوں کی ذہانت کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ کمپیوٹر وژن باریک نقائص کی نشاندہی کرتا ہے، پیشگی دیکھ بھال مہنگی مشین خرابیوں کو روکتی ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئنز (Digital Twins) پیداوار کے عمل کو بہتر بناتے ہیں اور شیڈولنگ و انوینٹری خودکار طور پر منظم ہوتی ہے۔سائبر سیکیورٹی (Cyber security) میں مصنوعی ذہانت تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل خطرات کے خلاف دفاع کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

تخلیقی صنعتوں میں جنریٹو AI نے متن، آرٹ، موسیقی اور ویڈیو کی تخلیق کو تیز، کم لاگت اور معیاری بنا دیا ہے۔ اشتہارات اور ڈیزائن میں اے آئی امیج جنریشن، تربیتی اور مارکیٹنگ ویڈیوز کی تیز تیاری، فلم و گیمنگ کے لیے موسیقی کی معاونت اور اشاعتی اداروں میں ایڈیٹنگ و خلاصہ نویسی کے لیے اے آئی کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ کاروباری آپریشنز میں مصنوعی ذہانت ایک “ڈیجیٹل ملازم” کے طور پر معمول کے کام خودکار بناتی ہے اور نالج ورکرز (Knowledge Workers) کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔

رپورٹس، پریزنٹیشنز اور تجزیات کی تیاری، اندرونی دستاویزات کی تلاش و خلاصہ، کسٹمر سروس ٹکٹس کا خودکار حل اور ورک فلو آٹومیشن انتظامی اخراجات کم کر رہی ہے۔ قدرتی زبان کی پروسیسنگ اور ترجمہ میں پیش رفت نے عالمی رابطوں میں زبان کی رکاوٹیں تقریباً ختم کر دی ہیں۔ حقیقی وقت کا ترجمہ (Real-Time Translation) کثیر لسانی اجلاس ممکن بناتا ہے، طویل قانونی و سائنسی دستاویزات کا خلاصہ تیار ہوتا ہے اور اسپیچ ٹو ٹیکسٹ (Speech-to-Text) نظام پیشہ ورانہ معیار تک پہنچ چکے ہیں۔

روبوٹکس اور خودمختار نظام میں مصنوعی ذہانت نے اسکرپٹڈ آٹومیشن کو سیکھنے پر مبنی رویّوں میں بدل دیا ہے۔ لاجسٹکس میں بہتری، جراحی روبوٹس میں درستگی و حفاظت، خودمختار ڈرونز کی نیویگیشن اور ری اِنفورسمنٹ لرننگ کے ذریعے کام سیکھنا اس کی مثالیں ہیں۔ نقل و حمل میں مصنوعی ذہانت حفاظت، افادیت اور پائیداری کو بہتر بناتی ہے۔ 

رائیڈ ہیلنگ فلیٹس (Ride-Hailing Fleets) کی بہتر تعیناتی، ڈرائیور اسسٹنس سسٹمز (ADAS) کے ذریعے حادثات میں کمی، ٹریفک سگنلز کی اسمارٹ مینجمنٹ اور لاجسٹکس روٹس کی پیش گوئی پر مبنی اصلاح اس کے نمایاں فوائد ہیں۔ زراعت اور غذائی نظام میں مصنوعی ذہانت درست کاشتکاری کو فروغ دے رہی ہے۔ سیٹلائٹ امیجری سے پیداوار کی پیش گوئی، پودوں کی بیماریوں کی بروقت شناخت، اسمارٹ آبپاشی اور مویشیوں کی خودکار نگرانی وسائل کے بہتر استعمال میں مدد دے رہی ہے۔

موسمیاتی سائنس اور توانائی میں مصنوعی ذہانت موسمی نظاموں کی بہتر سمجھ اور قابلِ تجدید توانائی کے مؤثر انتظام میں کردار ادا کر رہی ہے۔ موسمی ماڈلز کی بہتر ریزولوشن، اسمارٹ گرڈز کے ذریعے طلب و رسد کا توازن، ونڈ اور سولر فارم کی اصلاح اور کاربن ٹریکنگ اس کی مثالیں ہیں۔

مٹیریلز سائنس اور نینو ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت جدید مواد کی دریافت کو تیز کر رہی ہے، جو توانائی اور الیکٹرانکس کے لیے اہم ہیں۔ نئی بیٹری میٹریلز کی شناخت، نیورل نیٹ ورکس سے مؤثر کیٹالسٹس کی ڈیزائننگ اور ترکیب سے پہلے خصوصیات کی پیش گوئی اور تحقیق میں انقلابی تبدیلی لا رہی ہے۔

قانونی اور ضابطہ جاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت نے قانونی تجزیے کی لاگت اور وقت کم کر کے درستگی بڑھا دی ہے۔ معاہدوں کی جانچ ، قانونی نظائر کی فوری تلاش، کمپلائنس مانیٹرنگ اور ای-ڈسکوری (E-Discovery) کے ذریعے بڑے پیمانے پر دستاویزات کی پروسیسنگ ممکن ہو گئی ہے۔میڈیا، صحافت اور معلوماتی تجزیے میں مصنوعی ذہانت تیز، ڈیٹا پر مبنی صحافت اور ذاتی نوعیت کے مواد کو فروغ دے رہی ہے۔ 

مالیاتی و اسپورٹس رپورٹس کی خودکار تیاری، فیکٹ چیکنگ ، AI کیوریٹڈ نیوز فیڈز اور تحقیقاتی صحافت میں ڈیٹا اینالیسس اس کے نمایاں استعمالات ہیں۔دفاع اور قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت جدید انٹیلیجنس اور لاجسٹکس کا مرکزی جز بن چکی ہے۔ سیٹلائٹ امیجری کا تجزیہ، خودمختار ڈرونز کی نگرانی، فوجی سپلائی چین کی اصلاح اور وار گیمنگ سمولیشنز میں اے آئی پر مبنی منظرنامے استعمال ہو رہے ہیں۔

معاشیات، پالیسی اور حکمرانی میں مصنوعی ذہانت ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی میں مدد دیتی ہے۔ ٹیکس چوری کی نشاندہی، فلاحی نظام میں شفافیت، پالیسی نتائج کی سمولیشن اور اسمارٹ سٹی مینجمنٹ کے ذریعے ریاستی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید