ایتھوپیا میں 1200سال بعد ایک مردہ آتشِ فشاں بیدار ہوا ہےجو اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی آتشِ فشاں مردہ نہیں ہوتا وہ کس وقت بھی بیدار ہوکر صرف اپنے ملک میں نہیں بلکہ اطرافی ممالک میں بھی اپنے اثرات مرتب کرتا ہے جو منفی بھی ہوتے ہیں اور مثبت بھی یہی وجہ ہے کہ آتشِ فشاں کے ماہرین اس بات سے مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مردہ آتشِ فشاں دھانہ (Crater) موجود ہے اسے ایک گھڑھا جاں کر اسے خطۂ کوڑا (Dum ping Ground) بالکل نہ بنایا جائے، کیونکہ یہ ہزاروں سال کے بعد بھی فعال ہوسکتا ہے جیسا کہ حالیہ دنوں ’’ایتھوپیا‘‘ میں رونما ہوا۔
اس سے پہلے بھی 400 سال پرانا آتشِ فشاں اچانک بھڑک اُٹھاتھا۔ اس کے پسِ پردہ جو عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ وہ زیرِ زمین موجود ٹیکٹونک پلیٹ کی مختلف قسم کی جنبش ہوتی ہے جو دنیا بھر میں لاگو ہوتا ہے۔ جہاں تک ایتھوپیا کا تعلق ہے۔تو یہ تین پلیٹوں کے جنکشن پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں پلیٹوں کی جنبش سے ایک افتراقی وادی پہلے سے موجود ہے۔
زمانۂ قبل از تاریخ سے بنی نوع انسان زمین پر مختلف اقسام کی قدرتی قوتوں کا حیرت انگیز مظاہرہ دیکھتا چلا آرہاہے جن میں سے ایک آتشِ فشاں کا عمل ہے جو دھرتی کے اندر کے راز کو باہر لیکر آتا ہے اور اس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ زمین کی عمیق گہرائی میں حرارتی توانائی کی نوعیت اس قدر شدید ہے کہ ٹھوس چٹانی تہیں پگھل کر مائع حالت میں تبدیل ہورہی ہیں۔
یہی گرم مائع جب سطح زمین پرامنڈ آتا ہے تو ابتداء میں خوفناک آواز سنائی دیتی ہے۔ اس کے بعد زمین پر پہلے سے موجود خاموش اور پرسکون پہاڑ آگ، خاک اور چنگاریوں کا آماج گاہ بن جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وسیع وعریض علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیکر تہہ وبالا کردیتے ہیں۔
سائنس کی ایک شاخ ’آتشِ فشنیات ’’(Volcanology)کے حوالے سے اس قسم کی آتشِ فشانی مظاہروں کا سرچشمۂ ’’قلب‘‘ یا مرکزہ (Core) بتایا جاتا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حرارت۔ اندرونی قلب کا درجۂ حرارت 500سے 400 ڈگری سی زیادہ ہوتا ہے اور گرم آگ کے گولے کی طرح ٹھوس ہوتا ہے جب کہ پیروں قلب مائع کی طرح ہوتا ہے،جس کا درجۂ حرات 3700 ڈگری سی کے قریب ہوتا ہے جو لوہا، نکل اور دوسری دھاتوں پر مشتمل پتھر کو پگھلا کر سیال بنادیتا ہے۔
یہ ارضی سیال یا میگما کہلاتا ہے۔ یعنی پگھلا ہوا زیرِ زمین پتھر۔ اسی کے توسط سے چٹانی تہوں کے اطراف ’’ارضی تپشی توانائی‘‘ کا ارتکاز ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ جب یہ توانائی حد سے تجاوز کرجاتی ہے تو میگما زبردست قوت کے ساتھ اپنے اوپر موجود چٹانی تہہ کے کمزور حصوں کو چیرتا ہوا مائع کی شکل میں سطح زمین پر امنڈ آتا ہے جسے ’’لاوا‘‘ کہتے ہیں لزوجیت (Viscosity) میں گرم سیمنٹ ملے پانی کی طرح وادی اور پہاڑی علاقوں میں پھیل جاتا ہے۔ یہ زیرِ زمین ایک طویل ’’پروسس‘‘ ہوتا ہے جسے آتشِ فشانی (Volcanism) کا عمل کہتے ہیں۔ اسی کے توسط سے نیچے سے لیکر زمین کے اوپر تک نکاسی کاراستہ تشکیل پاتا ہے جو زمین کی سطح پر کھلتا ہے۔
یہ وہ راستہ ہے جس کے تحت ’’میگما‘‘ آتشِ فشانی کے دوران زمین کے بالائی جانب اپنا سفر جاری رکھتا ہے جب کہ دھانہ (Crater) وہ پیالہ نما شکل ہوتا ہے جہاں سے آتشِ فشانی مادے مثلاً راکھ ، خاک ، گرم آب تپشی محلول اور دوسرے سوختہ اور نیم سوختہ (Pyroclastic) چٹانی مادے اور دھواں و آبی بخارات کا ایک مہیب بادل اوپر کی طرف ہزاروں فٹ بلند ہوکر (ایتھوپیا میں یہ 45000 فٹ کی بلندی تک ریکارڈ کیا گیا) پورے علاقے اور اطرافی ممالک کو بھی اپنی زد میں لیتا ہے جب کہ اوپر موجود پیالہ نما دہانے سے ’’لاوا‘‘ نکلتا رہتا ہے اور اس کے اطراف ایک مخروطی ساخت والی شکل کا پہاڑ نمودار ہوتا ہے جو کسی وقت متحرک ہوکر پھٹ سکتا ہے یہی آتشِ فشاں (Volcano) ہوتا ہے، جس کے معنی آگ اگلنے والا اور چنگای چھوڑ نے والا آتشِ چٹانی ساخت جو سیارہ زمین کا یقیناً ایک پر جلال اور حیران کن مظاہرہ ہوتا ہے، جس کی ابتداء ’’اٹلی‘‘ کے ایک شہر ’’سسلی‘‘ کے شمال میں واقع پہاڑی سلسلے میں موجود ایک آتشِ فشاں ’’ایٹنے‘‘ (Etna) میں رونما ہونے والی دہشت ناک آواز کی گونج کے فوراً بعد اس کے بالائی کناروں سے گہرے بادل، راکھ اور آگ سے خارج ہوتی ہوئی چنگاریوں سے ہوا۔
جسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زمین کے نیچے کوئی چٹانی اجسام کو پگھلانے والی بھٹی چل رہی ہو جسے لاطینی زبان میں ویلکینس (Vulcanus) یعنی دیوتا کا ورک شاپ قرار دیا گیا جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوکر’’ ولکینو‘‘ (Volcano) ہوگیا جو ابتداء میں ’’ایٹنے‘‘ کے پہاڑ سے منسوب تھا لیکن گذرتے زمانے کے ساتھ ہر طرح کے آتشِ فشانی کرنے والے آتشِ فشاں کے لئے استعمال ہونے لگا۔
گویا آتشِ فشانی زیرِ زمین آگ کے پھیلاؤ کا ایک طاقتور’’میکینزم‘‘ ہےاور اسی کے ردّعمل کے نتیجہ میں آگ اور چنگاریوں کو پھیلانے والی چٹانی ساخت نے جنم لیا جسے ’’آتشِ فشاں کہتے ہیں۔ جب کہ اس کے نوک دار کناروں سے لاوا کے سرد ہوکر منجمد ہونے سے آتشِ یا جوالامکھی پہاڑ معروض وجود میں آئے آتشِ فشانی عمل اور آتشِ فشاں کے بیرونی مظاہر اور مشاہدوں کا دور بہت قدیم ہے۔
1960کے عشرے میں ’’الفرڈویگنر‘‘ (Alfred Wegener) سائنس دان نے ان تمام حیرت انگیز قدرتی مظاہر کا تقریباً درست کھوج لگاتے ہوئے ابتدائی طور پر زمین کے اس راز کو فاش کیا کہ زمین کے نیچے موجود چٹانی تہیں چلتی پھرتی رہتی ہیں جو سائنسی حلقوں میں نظریہ’’متحرک براعظم‘‘ (Continental) کے نام سے متعارف ہوا، جس کی بازگشت طول و عرض میں سنائی دے رہی تھی ،جس کی روشنی میں آتشِ فشاں، زلزلے اور دیگر ساختی تبدیلیوں کی وجوبات بڑی حدتک سامنے آگئے تھے ’’الفرڈویگنر‘‘ کے اس نظریہ کو جدید دور میں نسبتاً جدید نظریہ پلیٹ ٹیکٹونکس کے نام سے وسعت حاصل ہوئی ہے، جس کے مطابق ٹوس مادوں سے تشکیل شدہ زمین کا وہ حصہ جو سطح زمین سے 100 کلو میٹر گہرائی تک موجود ہے۔ جسے’’لیتھوسفیر‘‘ کہتے ہیں اکائی کی صوررت میں موجود نہیں ہے بلکہ چھوٹے بڑے پلیٹ نما ٹکڑوں پر مشتمل ہے جسے ارضی علوم کے حوالے سے ’’پلیٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
یہ پلیٹ نیچے موجود بلند کثافت(5.5) کی حامل استھینو سفیر پر تیر رہا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح برف یا آئس برگ کے کئی کئی ٹن کے تودے سمندر میں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب تک تقریباً 20 مختلف جسامت اور ساخت کی لیتھو سفیر (Lithosphere) پلیٹوں کی نشاندھی کی گئی ہیں، جس میں نمایاں نام کوکس، بحرالکاہل، نازکا، فلپائن اور انڈین پلیٹس کا آتا ہے۔ زیرِ زمین 350 کلو میٹر کی گہرائی میں زمین کا ایسا حصہ بھی موجود ہے جہاں پر بلند تپش کی وجہ سے چٹانی پتھر پلاسٹک خصوصیت کی طرح ہوجاتے ہیں جو آسانی کے ساتھ حرکت کرسکتے ہیں گویا یہ 1 سے 10فی صد پگھلی ہوئی حالت میں ہوتا ہے۔ زمین کا یہ کرہ ایتھینوسفیر (Asthenosphere) کہلاتا ہے جو لیتھوسفیر کے مقابلے میں کمزور کم ولایٹی اور بلند کثافت کی حامل ہوتی ہے۔
دونوں میں سے ایک کا زیریں حصّہ (لیتھوسفیر) اور دوسرے کا بالائی حصّہ (ایتھنوسفیر) ایک دوسرے سے منسلک ہوتا ہے۔ اندرونِ زمین کروں کی یہ حدبندی موہو غیر مطابقت کہلاتی ہے یہاں پہ تپش بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زیرِ زمین لیتھوسفیر کا وہ حصہ جو اس زون سے ٹکراتا ہے وہ دوبارہ پگھل کر’’میگما‘‘ میں تبدیل ہوجاتا ہے گویا میگما زیرِ زمین پتھروں کی پگھلی ہوئی شکل ہے جو سطح زمین پر امنڈکر آتش فشاں کی تخلیق کرتا ہے۔
یہ جاننے کے لئے کہ میگما کہاں اور کیسے آتشِ فشاں کی تخلیق کرتا ہے تو دورِ حاضر میں آتشی کارکردگی والے علاقوں کا مشاہدہ خصوصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، کیونکہ آٹشی علاقے پلیٹوں کی حرکات اور تصادم سے براہِ راست منسلک ہوتے ہیں۔ مثلاً وسطی سمندری ٹیلے ( Riges Mid oceanic) میں نئے ’’بسالٹک‘‘ سمندری فرش کی تشکیل ہوتی ہے۔
بعض مقامات پر وسطی سمندری ٹیلے سطح سمندر سے اوپر آگئی ہے، اس طرح نئے جزیروں کی تخلیق بھی ہوئی ہے۔ جو اگن چٹانوں پر مشتمل پائی گئی ہیں۔ مثلاً آئس لینڈ اور فلپائن جہاں آتشِ فشاں سے منسلک چٹانوں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ علاقے بلند تپش کے بہاؤ والے زون ہوتے ہیں۔ یہاں حرارت کے بہاؤ کی پیمائش کی گئی ہے اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان علاقوں میں حرارت کے بہاؤ کی توانائی پورے سمندر کے مقابلے میں دو گنی ہوتی ہے۔
دائرہ بحرالکاہل پٹی (Circam Pacific Belt) وہ علاقہ ہے جہاں زیرِ آب آتش فشاں ،جزیرہ آرک (I sland Arch) زیرِ آب آتشی چٹانی سلسلے اور گرم اسپاٹ کا خصوصی طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایسے ساحلی علاقے ہیں جن کے کناروں پہ ایک طرف امریکا اور دوسری طرف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک ہیں۔
جدید تحقیق کی روشنی میں یہاں زیرِ زمین بحرالکاہل پلیٹ بلند کثافت کی وجہ سے یوریشین پلیٹ کے نیچے جارہی ہے ،جس سے کئی تپشی خانے کی بھی تشکیل ہوئی ہے، جس کی گرمی کی وجہ سے نیچے موجود پلیٹ پگھلتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں ’’لاوا‘‘ مسلسل ساحلی علاقوں کے اطراف سے باہر آکر منجمد ہوکر نئے جزیروں کی تشکیل کرتا ہے جو آتشِ فشانی اور پھر اس سے وجود میں آنے والے آتشِ فشاں کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
تمام تر خطرناک منفی اثرات کے باوجود دنیا نے آتشِ فشانی عمل اور اس کے توسط سے وجود میں آنے والے آتش فشاں کی معاشی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے سود مند پہلوؤں کو برائے کار لاکر کئی گراں قدر مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے ۔مثلاً ’’اٹلی ‘‘ میں’’لارڈیلریلو‘‘ (Larderello) ساحلی سلسلوں کے اطراف موجود آتش فشاں سے خارج ہونے والی دھونی بخارات (Fumarole) فیلڈ سےبھاپ کی بڑی مقدار کو پاور پلانٹ میں استعمال کرکے بجلی پیدا کررہے ہیں۔ اور میتھین گیس کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جارہاہے۔
ہیلیم گیس جو کہیں غیر عامل گیس ہے جسے ہلکی دھات کو پگھلانے اور صاف کرنے کے لئے کار آمد ہوتاہے ہوا سے ہلکی گیس ہونے کی وجہ سے اسے غباروں میں بھی استعمال کیا جارہاہے ’’اٹلی‘‘ میں امونیم کارپورنیٹ سوڈیم کا ربونیٹ اور بورک ایسڈ کو بھی آتشِ فشاں کے اطراف موجود بھاپ سے حاصل کیاجاتا ہے جب کہ ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس ہوا میں تکسید ہوکر پانی اور سلفر کے ذخائر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ذیلی کیمیائی محاصل پھٹکری اور’’بورکس‘‘ کو بھی آتشِ فشاں کے اطرافی علاقوں سے حاصل کیاجارہاہے جب کہ بعض آتشِ فشاں سے حاصل ہونے والی چٹان رگڑنے اور پالش کے لئے بھی استعمال میں آتا ہے۔ مثلاً پیومس(Pumice) لاوا اور آتشی خاک (Ashes) خاص طور پر بہت ہی زرخیز تیزاب کو جنم دیتے ہیں، جس سے زرعی فارم کی پیداوریت کو تقویت حاصل ہوتی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایتھوپیا کے ماہرین آتشِ فشاں اس کے مثبت پہلوؤں کو کس طرح اُجاگر کرتے ہیں۔