• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنس داں خلا میں تحقیقات کرکے نت نئی چیزیں منظر ِعام پر لارہے ہیں۔ ماہرین نے خلا میں گیس کے ایک انتہائی گرم مجموعے کی نشان دہی کی ہے، جس سے متعلق ان کا خیال تھا کہ اس کو اس جگہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

گیس کا یہ مجموعہ کائنات کی ابتدائی دور میں دریافت ہوا ہے جو محققین کی توقعات سے زیادہ گرم ہے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والے ڈاژی ژو ن کے مطابق سائنس دانوں کو توقع نہیں تھی کہ کائنات کے ابتدائی دور میں وہ کوئی شدید گرم کلسٹر دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں کامزید کہنا تھا کہ پہلے ان کو اس سگنل پر شک تھا۔ لیکن مہینوں تک کی جانے والی تصدیق کے بعد اس بات کو قبول کر لیا گیا کہ یہ گیس توقع سے کم از کم پانچ گُنا زیادہ گرم ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس کلسٹر کے اطراف میں گرم ہوا بھر رہی تھی۔ ان کو اُمید نہیں تھی کہ کائنات کے ابتدائی دور میں اتنی طاقتور شے موجود ہوگی۔

ماہرین نے یہ دریافت SPT2349-56 نامی ایک بیبی گلیکسی کلسٹر کا مشاہدہ کرتے ہوئے، جس کے لیے سائنس دانوں نے تقریباً 12 ارب برس ماضی میں جھانکا۔ اگرچہ، اس جھرمٹ کی عمر کم ہے لیکن یہ بہت وسیع ہے اور اس میں 30 فعال کہکشائیں موجود ہیں اور اس کا مرکز 5 لاکھ نوری سال کا فاصلہ رکھتا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید