• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی ماہرین نے عام بیٹریوں کے مقابلے میں سستی اور محفوظ بیڑی تیا رکی ہے جو لیتھیم سیلز کا سستہ اور محفوظ متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ ایک نئ قسم کی سوڈیم او سلفر بیڑی ہے۔ برقی آلات کی بڑھتی تعداد میں لیتھیم کو بطور اہم بیٹری مٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن لیتھیم بیٹریوں کے گرم ہونے اور اس مٹیریل کے حصول میں مسائل کی وجہ سے یہ بیٹریاں سیفٹی کو خطرہ اور مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔

ان ابتدائی ڈیزائنز کو نارمل درجۂ حرارت پر بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار بنیادی کیمیائی عمل پیدا کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ سائنس دانوں کے مطابق اینوڈ میں سوڈیم دھات کی بھاری مقدار کا استعمال (جو عام لیتھیم اور سوڈیم بیٹریوں کے مقابلے میں عموماً درجنوں گنا زیادہ ہوتا ہے) نہ صرف حفاظتی خطرات اور لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ دستیاب توانائی اور پاور ڈینسٹی کو بھی متاثر کر کے کم کر دیتا ہے۔

محققین نے کیمیائی ردِعمل میں ترمیم کر کے ایک ہائی وولٹیج، اینوڈ فری بیٹری تیار کی جو کمرۂ درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔ ان کے مطابق نیا ڈیزائن 3.6 وولٹ کا ڈسچارج وولٹیج فراہم کرتا ہے، جو سابقہ ماڈلز کے تقریباً 1.6 وولٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید