دنیا ایک ایسے غیر معمولی دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سائنسی و تکنیکی ترقی کی رفتار انسانی تاریخ کے کسی بھی زمانے سے کئی گنا تیز ہو چکی ہے۔ وقت کے گھوڑے نے نہ صرف رفتار پکڑ لی ہے بلکہ وہ سمتیں بھی بدل رہا ہے۔
گزشتہ دہائی میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایوٹیکنالوجی، نینو سائنس، خلائی تحقیق اور ڈیجیٹل معیشت جیسے میدانوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں، وہ محض سائنسی ایجادات نہیں بلکہ انسانی طرزِ زندگی، معیشت، سیاست اور حتیٰ کہ شعور تک کو نئی شکل دینے کا پیش خیمہ ہیں۔
اس مضمون میں عصرِ حاضر کے چند بنیادی رجحانات اور پیش رفتوں کا تجزیہ کریں گے جو آنے والے کل کی دنیا کو نہ صرف ممکن بلکہ ناقابلِ پیش گوئی بنا رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا عالمی انقلاب
مشینوں کا عروج مصنوعی ذہانت (AI) اب محض لیبارٹریوں یا کارپوریٹ سافٹ ویئر کا کھیل نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی کا مرکزی جزو بن چکا ہےGPT-4، Gemini ، Claudeاور دیگر ملٹی ماڈل AI ماڈلز نے نہ صرف تعلیم، صحت، عدلیہ اور صحافت جیسے شعبوں کو نئی سمت دی ہے بلکہ انسانی فیصلہ سازی کے بنیادی خدوخال کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔
اےآئی نہ صرف مواد تخلیق کر سکتا ہے بلکہ جذبات، لہجےاور معاشرتی تناظر کو بھی سمجھنے کے قابل ہو چکا ہے۔ بعض یورپی ممالک میں ڈاکٹروں کے AI اسسٹنٹس مریضوں کی تشخیص میں 90 فی صد درستی سے کامیاب ہو چکے ہیں۔
یہی نہیں، 2026 کے وسط تک دنیا کی بڑی معیشتوں میں 40 فی صد ملازمتیں AI سے متاثر ہونے کی پیش گوئی کی جا چکی ہے۔ مسئلہ صرف روزگار اور معیشت تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی شناخت، تخلیقی صلاحیتوںاور خود مختاری کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ
سائنسی اُفق پر نئی سحرکوانٹم کمپیوٹنگ وہ میدان ہے جو روایتی کمپیوٹنگ کی حدود کو یکسر بدل رہا ہے۔ گوگل، IBM اور چینی کمپنیوں نے حالیہ دنوں میں ایسے کوانٹم کمپیوٹرز کی کامیاب آزمائش کی ہے جو ایک سیکنڈ میں وہ حسابات کر سکتے ہیں جن میں سپر کمپیوٹرز کو ہزار سال لگتے ہیں۔
کوانٹم برتری (Quantum Supremacy) اب ایک نظریاتی تصور نہیں رہا بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔2026 کے وسط میں IBM نے 1000 سے زائد کیوبٹس پر مشتمل کوانٹم سسٹم لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو دوا سازی، موسمیاتی ماڈلنگ اور انکرپشن کے میدانوں میں انقلابی کردار ادا کرے گا۔ کوانٹم سائبر سیکیورٹی اب ریاستوں کے لیے نیا میدانِ جنگ ہے۔
موجودہ انکرپشن تکنیکوں کو کوانٹم کمپیوٹرز کے ذریعے توڑا جا سکتا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں ڈیٹا سیکیورٹی کا نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کی تجارتی تطبیقات بھی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہیں۔
فارما سیوٹیکل کمپنیاں کوانٹم کمپیوٹرز کے ذریعے نئی ادویات کی دریافت میں تیزی لا رہی ہیں، جب کہ فنانشل انسٹی ٹیوٹس اسٹاک مارکیٹ کے پیٹرن اور معاشی بحران کے ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔
خلائی تحقیقی
مریخ سے چاند اور اس سے آگےاس وقت انسانیت کے پاس ایسے راکٹ موجود ہیں جو چاند پر واپسی، مریخ کی کالونائزیشن اور دیگر سیاروں کی طرف سفر کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اسپیس ایکس، بلو اوریجن، چین کی CNSAاور بھارت کی ISRO خلائی تحقیق میں اہم سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔2026 کے اوائل میں ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر دوبارہ انسان بھیجنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔
اس کے ساتھ ہی مریخ مشن پر بسا اوقات انسان کی بجائے AI روبوٹس ہی بھیجے جا رہے ہیں جو زمینی تحقیق، نقشہ نگاری، اور پانی کے آثار تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ جیف بیزوس کی بلو اوریجن اور ایلون مسک کی اسپیس ایکس خلائی سفر کو عام افراد کے لیے قابل رسائی بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ آنے والے دس سالوں میں خلائی ہوٹلز اور چاند پر پہلی انسانی آبادی کے منصوبے حقیقت کا روپ لے سکتے ہیں۔
انسانی دماغ اور مشین کا ملاپ
نیورلنک (Neuralink) جیسے پراجیکٹس انسان اور مشین کے باہمی انضمام کو حقیقت بنا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایلون مسک کی کمپنی نے انسان کے دماغ میں پہلا کامیاب کمپیوٹر چپ ایمپلانٹ کیا ہے جو نہ صرف دماغی افعال کو براہِ راست پڑھ سکتا ہے بلکہ اعصاب کے ذریعے مشینوں کو کنٹرول بھی کر سکتا ہے۔
یہ ترقی نہ صرف معذور افراد کے لیے انقلابی ہے بلکہ ایک ایسا اخلاقی سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ اگر انسان اور مشین کا فرق مٹنے لگے تو پھر ’’انسانی شناخت ‘‘کا مفہوم کیا رہ جائے گا؟ کیا وہ وقت آنے والا ہے جب انسان اپنی یادداشت کو بیک اپ کر سکے گا یا اپنی سوچ کو کلاؤڈ پر محفوظ کر سکے گا؟
اس ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوؤں میں فالج اور اعصابی بیماریوں کا علاج اور یادداشت کی بحالی شامل ہیں۔ لیکن منفی پہلوؤں میں ذہنی غلامی، خیالات کی چوری اور ایک نئی قسم کی انسانی تقسیم کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ڈیجیٹل معیشت اور کرپٹو کا مستقبل
کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور Web3 نے دنیا بھر کے معاشی نظاموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ کئی ممالک نے کرپٹو کو غیر قانونی قرار دیا، مگر ڈیجیٹل کرنسی کی اپنانے کی دوڑ جاری ہے۔ چین نے اپنی سرکاری ڈیجیٹل کرنسی ’’ڈیجیٹل یوآن ‘‘کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ امریکا اور یورپ بھی اپنے CBDCs پر کام کر رہے ہیں۔
بلاک چین کی شفافیت اور ناقابلِ تبدیل ریکارڈ رکھنے کی صلاحیت اسے صرف کرنسی ہی نہیں، بلکہ الیکشن، تعلیم، جائیداداور میڈیکل ریکارڈ جیسے حساس شعبوں میں بھی لاگو کر رہی ہے۔ 2025 میں متعدد ممالک نے بلاک چین پر مبنی ووٹنگ سسٹمز کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے انتخابی دھاندلی کے امکان کو کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے والے ممالک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جب کہ روایتی معیشتوں والے ممالک پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
بایوٹیک اور جینیاتی ترمیم
کرسپر-کاز 9 (CRISPR-Cas9) اور جین ایڈیٹنگ کی جدید ٹیکنالوجی انسان کو نہ صرف بیماریوں سے پاک کرنے کی صلاحیت دے رہی ہے بلکہ ’’ڈیزائنر بیبیز‘‘ کا تصور بھی اب تحقیق سے حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 2025 کے آخر میں چین نے جینیاتی ترمیم کے ذریعے تھیلسیمیا اور سکل سیل انیمیا جیسے موروثی امراض کا کامیاب علاج کیا، جس سے عالمی سطح پر اخلاقی و سائنسی بحث شروع ہو چکی ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ بایوٹیکنالوجی مستقبل کی میڈیکل دنیا کو یکسر بدل دے گی۔
حالیہ برسوں میں مصنوعی اعضاء اور بایونک آنکھیں بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ سائنس دان ایسے مصنوعی پٹھے تیار کر رہے ہیں جو انسانی پٹھوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ بایونک آنکھیں نابینا افراد کو جزوی بینائی فراہم کر رہی ہیں۔ یہ تمام ترقیات ایک ایسی دنیا کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں معذوری کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔
موسمیاتی تبدیلی اور سائنسی جوابات
عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ، قطبی برفباری کا پگھلاؤ اور شدید موسمی مظاہر اب انسنیت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2026 میں دنیا کے 2.5 ارب افراد پانی کی شدید قلت کا شکار ہوں گے۔اس کا جواب سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے دیا جا رہا ہے، جن میں "کلاؤڈ سیڈنگ"، مصنوعی بارش، کاربن کیپچر ٹیکنالوجیز، اور شمسی توانائی کے نئے ماڈلز شامل ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کو بھی ان ٹیکنالوجیز میں جلد سرمایہ کاری کرنی ہوگی، تاکہ ماحولیاتی بحران کے اثرات سے بچا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی پھیپھڑوں (Artificial Lungs) اور کاربن صاف کرنے والی عمارتوں کا تصور بھی سامنے آیا ہے۔ سنگاپور میں ایسی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں جو نہ صرف اپنی توانائی خود پیدا کرتی ہیں بلکہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی جذب کرتی ہیں۔
روبوٹکس، ڈرونز اور خودکار جنگیں
گذشتہ برس یوکرین روس جنگ اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے حملوں میں ڈرونز، روبوٹ، اور AI اسلحہ کا استعمال بڑھا۔ امریکا، چین، اسرائیل اور ترکی خودکار جنگی نظاموں میں سبقت لے جا رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے جنگ کا میدان انسانوں سے زیادہ مشینوں کا بن چکا ہے۔
یہ رجحان ایک خطرناک سمت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر انسان نے خودکار ہتھیاروں پر ضابطہ نہ لگایا، تو آنے والے وقت میں جنگیں محض ایک ’’کوڈ‘‘ سے لڑی جائیں گی اور انسان کی جان کی قدر کم ہو جائے گی۔
خودکار ہتھیاروں کے اخلاقی پہلوؤں پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2026 کے آخر تک دنیا بھر میں 50 سے زائد ممالک کے پاس خودکار جنگی نظام موجود ہوں گے۔ اس طرح کی جنگوں میں سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جہاں دشمن ملک کے بجلی کے گرڈ، پانی کی فراہمی اور ہسپتالوں کے نظام کو ہیک کر سکتا ہے۔
مستقبل کی تعلیم
نئے چیلنجز، نئے مواقع ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے تعلیم کے شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ ورچوئل رئیلٹی (VR) اور آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) کے ذریعے طلباء اب تاریخی مقامات کا دورہ کر سکتے ہیں یا سائنسی تجربات کر سکتے ہیں۔ AI کے ذریعے ہر طالب علم کے لیے ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کی جا سکتی ہے۔
تاہم، یہ ترقیات ایک بڑے سوال کو بھی جنم دے رہی ہیں۔ کیا انسانوں کی ضرورت ختم ہو جائے گی؟ کیا AI اساتذہ انسانی اساتذہ کی جگہ لے لیں گے؟ تعلیمی اداروں کو نہ صرف نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ہوگا، بلکہ طلباء میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور جذباتی ذہانت جیسی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوگا۔
عالمی سیاست اور طاقت کا نیا توازن
ٹیکنالوجی کی دوڑ نے عالمی سیاست کے توازن کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ ایک نئی سرد جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چین مصنوعی ذہانت، 5Gاور کوانٹم کمپیوٹنگ میں امریکا کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یورپی یونین ٹیکنالوجی کے معاملے میں ایک متوازن راستہ اختیار کر رہی ہے، جہاں وہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ان پر مناسب ضوابط بھی عائد کر رہی ہے۔
اخلاقیات اور انسانی مستقبل
ان تمام ترقیات کے باوجود، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت اخلاقی طور پر ان تبدیلیوں کے لیے تیار ہے؟ کیا ہماری اخلاقی اقدار، قوانین، اور معاشرتی ڈھانچہ اتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں جتنی تیزی سے ٹیکنالوجی بدل رہی ہے؟
مصنوعی ذہانت کے ذریعے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھنے کا خطرہ ہے۔ جن ممالک کے پاس یہ ٹیکنالوجیز ہوں گی، وہ ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئیں گے، جب کہ دوسرے ممالک پیچھے رہ جائیں گے۔
انتخاب کا لمحہ
انسانی تاریخ کے اس اہم موڑ پر، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ان ایجادات کو انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کریں گے یا تباہی کے لیے۔ کیا ہم ایسی دنیا بنائیں گے جہاں انسان اور مشین مل کر کام کریں، یا پھر ایسی دنیا جہاں انسان مشینوں کا غلام بن جائے؟ فیصلہ ہماری اجتماعی عقل، اخلاقی اقدار اور تعلیمی و تحقیقی ترجیحات پر منحصر ہے۔
ہمیں نہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی پر توجہ دینی ہوگی، بلکہ انسانی اقدار، اخلاقیات اور روحانی ترقی پر بھی کام کرنا ہوگا۔ صرف توازن ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو ترقی کی بلندیوں تک لے جاسکتا ہے، ورنہ یہی ترقیات ہمارے لیے تباہی کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
مستقبل ہمارے انتخاب پر منحصر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسا مستقبل تخلیق کریں جہاں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بن جائیں۔ یہی عصرِ نو کا اصل چیلنج ہے اور یہی ہماری اُمیدوں اور خوابوں کا محور ہونا چاہیے۔