• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ٹیکنالوجی کی دنیا کو مزید وسیع کرنے کے لیے رواں سال حیران کن دریافتیں، علم و حکمت، ایجادات اور مصنوعی ذہانت کے درخت میں متعدد شگوفے پھوٹے۔یہ حقیقت ہے کہ تحقیق اور ایجادات کسی بھی ملک کی ترقی کے دو اہم پہلو ہیں۔

ان کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ماہرین نے رواں سال فلکیات کی دنیا میں نت نئے سیارے دریافت کیے، مصنوعی ذہانت کے متعدد فیچرز متعارف کروائے۔ انسانی جسم میں شریانوں کی صفائی کے لیے ننھا روبوٹ تیار کیا اور بہت کچھ منظر عام پر آیا۔ 2025ء میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں مزید کیا کیا ہوا، اس کا اندازہ آپ کو ایجادات کی جائزہ رپورٹ پڑھ کر ہو جائے گا ۔‘‘

دنیا کی تیز ترین رفتار یو ایس بی

چینی محققین نے 2025ء میں دنیا کی تیز رفتار ترین یو ایس بی تیار کی ہے۔ یہ ایک شاندار فلیش میموری ڈیوائس ہے جو ڈیٹا کو غیر معمولی رفتار سے محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک بٹ فی 400 پیکوسیکنڈز کی رفتار سے، ڈیوائس نے سیمی کنڈکٹر اسٹوریج کی کارکردگی کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔

ڈبڈ PoXنامی یہ میموری ٹیکنالوجی نمایاں طور پر تیز ترین کمپیوٹر میموری کی اقسام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جیسے کہ اسٹیٹک رینڈم ایکسس میموری اور ڈائنامک رینڈم ایکسس میموری، جس میں عام طور پر ایک بٹ ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے کے لیے 1 سے 10 نینو سیکنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک پیکوسیکنڈ ایک سیکنڈ کا ٹریلینواں یا نینو سیکنڈ کا ایک ہزارواں حصہ ہوتا ہے۔

اگرچہ کمپیوٹر میموری بہتر ہوتی ہے لیکن یہ ایک بار بجلی منقطع ہونے کے بعد ڈیٹا کھو دیتی ہے، جس سے یہ حساس ایپلی کیشنز کے لیے غیر موزوں ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس یو ایس بی جیسے روایتی فلیش میموریز بغیر طاقت کے ڈیٹا کو برقرار رکھتی ہے لیکن جدید ٹیکنالوجیز خاص طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سسٹمز کی تیز رفتار ڈیٹا تک رسائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

پلاسٹک کو’ ’پین کلر‘‘ میں بدلنے والا بیکٹیریا

2025ء میں سائنس دانوں نےتحقیق سے معلوم کیا کہ ایک عام بیکٹیریا کی ایک قسم پلاسٹک فضلے کو پیر اسیٹا مول میں بدل سکتی ہے۔ یہ دریافت ری سائیکلنگ کے نئے طریقوں تک لے جانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ پلاسٹک کے باریک ذرات جن کو مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے، صحت کے متعدد مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔

سائنس داں پائیداری کے ساتھ پلاسٹک فضلے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے متعدد طریقوں کی آزمائش کر رہے ہیں۔ مختلف صنعتوں میں مائیکروبز اور انک اے میٹابولک کیمیکلز کو استعمال کر کے کیمیکل پیداوار کے موجودہ طریقوں کو کم کیا جا سکتا ہے جن کا انحصار فاسل ایندھن پر ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں محققین نے پولی ایتھائلین ٹیریفتھیلیٹ (PET) پلاسٹک کی بوتلوں کو تحلیل کرنے کے متعدد طریقوں کا استعمال کیا، تاکہ لوسین ری ارینجمنٹ کیمیکل ری ایکشن کے لیے ضروری اسٹارٹنگ مالیکیول بنایا جا سکے۔ 

خلیوں کے اندر یہ میٹابولک عمل PET کی شکل بدل سکتا ہے۔ محققین کے مطابق پلاسٹک سے بنایا گیا یہ مالیکیول ای کولی میں پیراسیٹامول بنانے کے لیے بطور اسٹارٹنگ مٹیریل 92 فی صد پیداوار کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مصنوعی روشنی سے بجلی پیدا کرنے والا سولر پینل

گزشتہ سال سائنس دانوں نے ایک نئی قسم کا سولر پینل ایجاد کیا ہے جو کمرے کے اندر موجود مصنوعی روشنی سے بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ نئی قسم کے سولر سیلز پیرووسکائٹ کا استعمال کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں، جس کو قابلِ تجدید توانائی کو بدل کر رکھ دینے کی صلاحیت کے لیے سراہا جاتا ہے۔

سلیکون سے تیار کردہ سولر پینلز کے مقابلے میں سورج کی روشنی کو بجلی میں بدلنے کی شرح بہترین ہونے کی وجہ سے اس مواد کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مٹیریل کو ایڈجسٹ کر کے کمرے میں موجود بلب یا دیگر مصنوعی روشنیوں سے بھی توانائی بنائی جاسکتی ہے۔

تائیوان کی نیشنل یینگ منگ چیاؤ ٹنگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم نے ایک کیمیکل طریقہ استعمال کرتے ہوئے مسئلے کو حل کیا ہے، جس سے یہ سولر سیلز روزانہ کے استعمال کے قابل ہوگئے ہیں۔

بینڈ گیپ ایڈجسٹمنٹ نامی اس طریقے کا استعمال سلیکون سولر سیلز میں ممکن نہیں ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ریموٹ کنٹرول اور پہننے والی ڈیوائس کو چارج کیا جا سکتا ہے۔

شہد کی مکھیوں کا دماغ کنٹرول کرنے والی ڈیوائس

چینی سائنس دانوں نے2025 ء میں شہد کی مکھیوں کا دماغ کنٹرول کرنے کے لیے سب سے کم وزن ڈیوائس تیار کی ہے۔ یہ چھوٹی سی دماغ کنٹرول کرنے والی ڈیوائس صرف 74 ملی گرام وزنی ہے۔ پروفیسر ژاؤ جیلیانگ کی رہنمائی میں کام کرنے والی بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ٹیم کے مطابق ڈیوائس کا سسٹم سیدھا مکھی کے دماغ سے جڑتا ہے۔

جب ڈیوائس کو شہد کی مکھی کی پشت پر رکھا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والی تین سوئیاں مکھی کے دماغ میں لگا دی جاتی ہیں، جس کے بعد آپریٹرز مکھی کے دماغ میں برقی پلسز بھیج سکتے ہیں اور مطلوبہ سمتوں میں اڑنے کی ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔

اسمارٹ واچز کو بیٹریوں سے چھٹکارا دلانے والا مٹیریل

چینی سائنس دانوں نے گزشتہ سال ایک پولیمر بنایا ہے جو اس کے کھینچے جانے سے پیدا ہونے والی حرارت کو بجلی میں بدل دیتا ہے۔ یہ پیشرفت ایسی اسمارٹ واچز بنانے میں مدد دے سکتی ہے جو خود کو توانائی فراہم کر سکیں۔

چین کی پیکنگ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کے مطابق یہ جدید مٹیریل (جو کہ کہ ربر بینڈ کی طرح ہے) مؤثر طریقے سے اپنی الاسٹیسٹی (وہ خصوصیت جس میں مٹیریل ساخت بگڑنے کے بعد واپس اپنی شکل میں آجاتا ہے) کو بجلی میں بدل دیتا ہے۔ یہ مٹیریل تھرمو الیکٹرسٹی کے اصول پر کام کرتا ہے، جس کے مطابق حرارت بجلی میں ڈھل جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک تمام اعلیٰ معیاری تھرمو الیکٹرک مٹیریل میں الاسٹسیٹی کے بجائے فلیکسیبلیٹی (ایسی خصوصیت جس میں مٹیریل ٹوٹے بغیر کسی دوسری شکل میں ڈھل جاتا ہے) خصوصیت سمجھی جاتی تھی۔ فی الوقت اسمارٹ واچز جیسی پہننے والی ڈیوائسز کو بیٹریوں یا باقاعدگی کے ساتھ چارجنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نیا مٹیریل ڈیوائسز کو چارجنگ کے بغیر مسلسل توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

بیٹر ی کو تیزی سے چارج کرنے کا نیا طریقہ

ایم آئی ٹی کے محققین نے2025ء میں برقی گاڑیوں اور ڈیوائسز کو تیزی سے چارج کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔ یہ دریافت تمام لیتھیم آئن بیٹریوں کے بنیادی ری ایکشن سے تعلق رکھتی ہے۔ 

اسمارٹ فون سے لے کر برقی گاڑیوں تک کو توانائی فراہم کرنے والی یہ بیٹریاں لیتھیم آئنز نامی ذرات کو سولِڈ الیکٹروڈز کے اِن اور آؤٹ میں حرکت دے کر کام کرتی ہیں۔ 

یہ عمل بیٹری کی زندگی میں ہزاروں بار ہوتا ہے۔ اس ری ایکشن کی رفتار اس بات کا تعین کرتی ہے کہ بیٹری کتنی جلدی چارج ہوتی ہے اور کتنی توانائی فراہم کر سکتی ہے۔

تاہم، ایم آئی ٹی کے محققین نے تحقیق میں یہ مشاہدہ کیا کہ یہ ری ایکشن کپلڈ آئن-الیکٹرون ٹرانسفرنامی عمل پر انحصار کرتا ہے۔ اس طرح لیتھیئم آئنز الیکٹروڈ میں مؤثر انداز میں حرکت کرتے ہیں۔

فضا سے پانی اخذ کرنے والا پینٹ

یونیورسٹی آف سڈنی کے محققین نے گزشتہ سال ایک نئی قسم کا آؤٹ ڈور پینٹ تیار کیا ہے جو فضا سے تازہ پانی اخذ کرکے درجہ ٔ حرارت کو 6 سینٹی گریڈ تک کم کرسکتا ہے۔ آسڑیلیوی ٹیم اور کمپنی ڈیو پوائنٹ انوویشنز کی طرف سے وضع کردہ یہ ایجاد شدید موسم میں عمارتوں کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ بنجر علاقوں میں پانی کی کمی سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مواد کی چھ ماہ کی آزمائش سے یہ بات سامنے آئی کہ کوٹنگ ہر روز 390 ملی لیٹر پانی فی مربع میٹر حاصل کر سکتی ہے، یعنی ایک شخص کی روزانہ پینے کی ضروریات کو 12 مربع میٹر سطح پر پینٹ سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے نینو انسٹی ٹیوٹ سے پروفیسر چیارا نیٹو نے کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ٹھنڈی چھتوں کی کوٹنگز کی سائنس کو آگے بڑھاتی ہے بلکہ تازہ پانی کے پائیدار اور کم لاگت ذرائع کے دروازے بھی کھولتی ہے۔

جو موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر ایک اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیےمرطوب حالات مثالی ہوتے ہیں، پینٹ کے ذریعے پانی بنجر اور نیم خشک علاقوں میں بھی بن سکتا ہے۔ 

جہاں رات کے وقت نمی بڑھ جاتی ہے۔ جب دوسرے ذرائع محدود ہو جائیں گےتو یہ پانی مہیا کرےگا۔ یہ پینٹ 97 فی صد تک سورج کی روشنی کو منعکس کرکے اور ارد گرد کی ہوا میں حرارت پھیلا کر کام کرتا ہے۔

ایک اور سیارے پر زندگی کے ٹھوس ترین آثار دریافت

گزشتہ سال سائنس دانوں نے ہماری دنیا کے علاوہ ایک اور دور دراز سیارے پر زندگی کے اب تک کےسب سے بڑے آثاردریافت کیے ہیں۔ محققین کی ٹیم کے مطابق یہ ہماری زمین کے علاوہ زندگی کے بارے میں اب تک کا سب سے مضبوط اشارہ ہے۔

ماہرین کے مطابق زندگی کے یہ آثار ہمارے اپنے نظام شمسی میں نہیں ہیں بلکہ ایک سیارے پر ملے ہیں جسے K2-18b کہا جاتا ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے 120 نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک ستارے کے گرد زیر گردش ہے۔ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے K2-18b کے ماحول میں 2 گیسوں ڈائمتھائل سلفائیڈ اور ڈائمتھائل ڈسلفائیڈکا پتا لگایا ہے۔

زمین پر یہ گیسز بنیادی طور پر مائکروبیل حیات جیسے سمندری فائٹوپلانکٹن جیسےجاندار عناصر سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کی دریافت حقیقی جانداروں کے بجائے حیاتیاتی عمل کی طرف اشارےکر رہی ہے اور اس حوالے سے مزید مشاہدات کی ضرورت ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے فلکیاتی طبیعیات دان اور ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت کرنے والے مصنف نکو مدھوسودھن کے مطابق یہ وہ پہلے اشارے ہیں جو ہمیں اجنبی دنیا کے بارے میں ملے ہیں جو ممکنہ طور پر وجود رکھتی ہے۔ 

یہ نظام شمسی سے باہر زندگی کی تلاش میں تبدیلی کا لمحہ ہے جہاں ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ سہولیات کے ساتھ ممکنہ طور پر قابل رہائش سیاروں میں حیاتیاتی نشانات کا پتا لگانا ممکن ہے، ہم فلکیات کے مشاہداتی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

انسانی جسم میں شریانوں کی صفائی کے لیے ننھاروبوٹ

2025 ء میں سوئس یونیورسٹی، ای ٹی ایچ زیورخ کے ماہرین نے 2 ملی میٹر سے بھی چھوٹا ایسا مائیکر و روبوٹ تیار کیا ہے جو انسانی جسم میں خون کی شریانوں اور رگوں میں گھوم کر جمی چکنائی کوصاف کرتا ہے۔ ڈاکٹر اس روبوٹ میں دوا بھر کرجمی چکنائی تک پہنچائیں گے ،تا کہ وہ ترنت ختم ہوسکے۔ 

یوں انسان کو مہنگے وپیچیدہ آپریشنوں سے نجات ملے گی۔روبوٹ کا ڈھانچا خصوصی فولادی نینو ذرّات سے بنا ہے، تاکہ باہر بیٹھے ڈاکٹر مقناطیسی آلے کی مدد سے اسے انسانی جسم کے اندر کنٹرول کر یں اور منزل تک پہنچا دیں۔

  ’’ایچ ایس۔ ون ‘‘پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ

 پاکستان نے چینی سیٹلائٹ اسٹیشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنا پہلا ’’ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ‘‘ خلا میں بھیجا ہے۔ اس سیٹلائٹ کو ’’ایچ ایس۔ ون ‘‘(HS-1) کا نام دیا گیا ہے۔ خلائی شعبے میں تحقیق کرنے والی پاکستانی ادارے ’’سپارکو ‘‘ کے مطابق اسے چین کے شمال مغربی علاقے جیوچوان لانچ سینٹر سے کام یابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔ ایچ ایس۔ ون سیٹلائٹ جدید ہائپر اسپیکٹرل ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اس سے زراعت، موسمیاتی تبدیلیوں اور زمینی ساخت سے متعلق تفصیلی ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

علاوہ ازیں اس سے شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات کے دوران مینجمنٹ میں بھی مدد ملے گی۔ ہائپرل اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ ایچ ایس ون 130 بینڈ پر مشتمل ہے۔ جدید سیٹلائٹ سیکڑوں نوری بینڈز میں درست تصاویر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی عام سیٹلائٹ کیمروں سے مختلف ہے، کیوں کہ عام کیمرے صرف چند رنگوں (جیسے سرخ، سبز، اور نیلا) کو قید کرتے ہیں، جب کہ ہائپر اسپیکٹرل کیمرے سیکڑوں انتہائی باریک رنگ کے بینڈز کو ریکارڈ کرتے ہیں، اس سے وہ نوری فرق معلوم کیے جا سکتے ہیں جو انسانی آنکھ یا عام سیٹلائٹ نہیں دیکھ سکتے۔

جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس یہ سیٹلائٹ سیکڑوں باریک اسپیکٹرل بینڈز میں ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایچ ایس ون انفرا اسٹرکچر میپنگ اور شہری منصوبہ بندی کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ پاکستان کا یہ مشن قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید