• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ایکوسسٹم‘‘ جاندار اور غیرجاندار اشیاء کے توازن اور ماحول کا ایک قدرتی وسیلہ

ایکوسسٹم یا ماحولی نظام سے مراد سیارہ زمین کے اطراف سے مختلف کروں خصوصی طور پر آبی حیات اور حجریاتی کرہ میں بودوباش اختیار کرنے والے کسی بھی خاندان کے نامیوں اور اس کےعارضی طبعی اور کیفیاتی ماحول کے لیے بے جان اشیاء کے درمیان موجود باہمی تعلق سے ہوتا ہے جب کہ مختلف اقسام کے جانداروں کی آبادی پر مشتمل ایک بڑا گروہ جوکہ ایک ہی قسم کے مسکن میں اکھٹے رہتے ہوں اور ایک ہی ماحول کے تحت زندگی گزارتا ہو ’’ کمیونٹی‘‘ (Community)کہلاتا ہے جسے ’’ ایکو سسٹم‘‘ کے مختلف جاندار اور غیر جاندار باہم ملکر انجام دیتے ہیں۔

جدید تحقیق اور تجزیوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس سسٹم میں بنیادی کردار ترب (Soil) اور پانی کا مشترکہ طور پر ہوتا ہے جب کہ دیگر بے جان اشیاء مثلاً روشنی، آکسیجن وغیرہ سے اس سسٹم کو یقیناً زندگی کی گہماگہمی، توازن اور تقویت حاصل ہوتی ہے ہاں! البتہ اگر ان اجزاء کو آلودہ کیا گیا تو ’’ ایکو سسٹم‘‘ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے آبی زندگی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

اس سسٹم کی سنگ بنیاد رکھنے والے پیداواریے(Producers) کہلاتے ہیں جو نباتات یا نباتاتی جیسے نامیوں سے متعلقہ ہوتے ہیں جو اپنی غذا ماحول میں موجود خام اشیاء سے بذات خود ضیافی تالیف سے حاصل کرتے ہیں جب کہ حیوان یا حیوانی جیسے نامیے وہ ہوتے ہیں جو اپنی غذائیت خود تیار نہیں کرسکتے بلکہ ان کا انحصار دوسرے جاندار اجسام پر ہوتا ہے۔

یہ صارفین ہوتے ہیں۔ تمام صارفین (چاہے وہ ابتدائی، ثانوی یا اعلیٰ صارفین ہو) کاغذائی دارومدار پیداواریوں اور کوایک دوسرے پر ہوتا ہے۔ صارفین میں عام طور پر حیوانیہ شمار کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے جاندار اجسام جو اپنی غذا خود تیار نہیں کرسکتے اور نہ ہی دوسرے جاندار اجسام کو کھا سکتے ہیں بلکہ ان کی غذائی ضروریات مردہ اجسام کے گلے، سڑے اور ان کی تحلیل ہونے کے سبب پوری ہورہی ہوتو اس قسم کے حیوانیہ کو تحلیلہ (Decomposer) کہتے ہیں۔ 

یہ تمام نباتیہ اور حیوانیہ ’’ ایکو سسٹم‘‘ کے حیاتی اجزاءہوتے ہیں جب کہ تراب، پانی، غذا ہوا، آکسیجن اور روشنی غیر جاندار اشیاAbiotic Components کہلاتے ہیں جن میں سب سے زیادہ ابتدائی اہمیت تراب اور پانی کو حاصل ہے۔ جہاں تک تراب یا مٹی کا تعلق ہے تو زمین کی تخلیق کے ابتدائی دور(پرلی کیمبرین دور) میں تراب بالکل ناپید تھی، البتہ ایک جانب غذائیت سے بھرپور ٹھوس منجمد لاوائی چٹانیں۔

مثلاً بسالٹ اور گرینائیٹ موجود تھیں تو دوسری طرف آگ اور خاک اُگلتا ہوا آتش فشاں چونکہ اگن چٹانیں( لاوا سے بنی ہوئی) پیدائشی طور پر نبایاتی تالابوں کی دیوار پر برسات کے زمانے میں اکثر جمی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں یہاں پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بیشتر ماہرین اس تھیوری پر متفق نظر آتے ہیں کہ زندگی کی ابتداء سمندر میں ایک’’ جھاگ‘‘ نما شے سے ہوئی ہے۔ 

چنانچہ یہ نباتاتی سمندری انواع غذائیت کی تلاش میں براہ راست تراب کے بغیر چٹائی سطح پر چسپاں ہوگئے۔ بعض حیواناتی نامیہ نے چٹانوں کے نمودار حصوں پر چسپاں ہونے کے لئے اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کرلی، تاکہ پانی کا بہاؤ کا مقابلہ کرسکیں۔

پانی چونکہ ایک ہمہ گیر محلل ہے اسی وجہ سے تراب میں موجود نمکیات ،معدنی اجزاء اور تمام غذائیت محلول میں تبدیل ہوکر پانی کے ذریعہ منتقلی کے عمل کے تحت کسی نشیب( سمندر یا جھیل) میں تہہ نشین ہوتے گئے۔ محلول میں موجود حل شدہ نمکیات اور غذائیت کو تیرنے والے تیراکئے پودے( فائیٹوپلنگٹون) فوری طور پر استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ یہ زیادہ گہرائی میں جاکر غذائیت حاصل نہیں کرسکتے۔ قدرت کے ان تمام حالات کا باقاعدہ مشاہدہ کرنے والے ماہرین کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کردیا۔

چنانچہ(1853-1879)) کے دوران سابقہ چٹانوں سے حاصل شدہ تراب کے ارضی کیمیائی تجزیوں کو بڑی فوقیت دی گئی، جس کے نتیجے میں1966میں جرمنی کے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں’’ ایکو سسٹم‘‘ کے حوالے سے تراب اور پانی کے مشترکہ عمل سے کئی انکشافات سامنے آئے جن میں دوپہلوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ پہلے مرحلہ میں یہ بات سامنے آئی کہ جو غذائیت براہ راست تراب میں ملے آبی محلول سے حاصل کرتے ہیں، اس سے غذا کی تشکیل ہوتی ہے۔ 

کیلشیم نباتات کا ایک اہم جُز ہے۔ کیلشیم کاربونیٹ(چونا پتھر) بہت سے حیوانیات اپنے نشوونما میں استعمال کرتے ہیں۔ آئرن بھی نباتیات کی نشونما میں حصہ لیتا ہے۔ 

یاد رہے کہ ایک اوسط درجے کے تراب میں تقریباً4.5 فیصد چٹانی ومعدنی ذرات بشمول چکنی مٹی 5 فیصد، گلے سڑے نامیاتی مواد اور 50 فیصد مسامی خلاء ہوتے ہیں جو الگ الگ اپنے امور ’’ایکو سسٹم‘‘ میں بڑی خوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔

تراب میں موجود مسامی خلاء حتمی اور ضروری ترکیبی ہوتا ہے، اس کے ذریعہ تراب میں موجود مسامی خلاء حتمی اور ضروری ترکبیی ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ تراب میں موجود پانی ’’ایکوسسٹم‘‘ میں چکر لگاتا رہتا ہے۔ جو حل پذیر غذائیت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔

آبی ذخائیر کا وہ حصہ جو سطح آب سے ایک میٹر گہرائی تک ہوتی ہے وہ روشنی سے منور ہوتا ہے اگر حل شدہ معلق اجزا کی تعداد کم ہو تو روشنی کا دخول 200 میٹر تک بھی ہوجاتا ہے یہاں پر پیداور ایسے پرورش چاہتے ہیں اور یہاں پر غذائی زنجیر قائم ہوجاتی ہے۔

اسی وجہ سے یہ ’’پیداواراں زون‘‘کہلاتا ہے۔ جبکہ 200 میٹر سے زیادہ گہرا زون روشنی سے ناپید ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسے اختتامی پیدواری زون کہا جاتا ہے تمام آبی نباتیہ کو شعائی ترکیبی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بہت ضرورت ہوتی ہے، یہ گیس فضاء سے بھی براہِ راست پانی میں حل ہوجاتی ہے اور کوئلہ کا تیزاب یعنی کار بونک ایسڈ تیار کرتی ہے جو زمین پر موجود تمام کاربورنیٹ کی نمکیات کو بانی کاربونیٹ میں تبدیل کردیتا ہے جو پانی میں حل پذیر ہوتا ہے اسی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ پانی میں موجود کیلشیم، میگشیم اور دوسرے نمکیات کے کاربونیٹ اور بائی کار پونیٹ میں موجود ہوتی ہے۔

نباتیہ مثلاً ڈائی ایٹمز اور حیوانیہ مثلاً روڈیو لیرین غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی وافر مقدار کی موجودگی ان کے لئے مہلک ثابت ہوتی ہے آکیسجن بھی ایکو سسٹم کا ایک اہم کیمیائی جز ہے جو آبی نباتات سے بھی حاصل ہوتی ہے جو شعابی ترکیب کے نتیجے میں خارج ہوتی ہے، جس کا انحصارکاربن ڈائی آکسائیڈ اور روشنی کی شدت پر ہوتا ہے۔

تراب ملے پانی کا دارومدار اس میں آکسیجن کی مقدار اور حل پذیر غذائی اشیاء پر ہوتا ہے۔ عام طور پر(Littoral Zone) میں آکسیجن پیداوریوں سے فضاء کے حوالے سے پانی میں حل ہوکر وہاں کے خاندانوں کو مہیا ہوتی رہتی ہے۔ اور غذائی زنجیر بنتی رہتی ہے۔ 

اگر ’’ایکوسسٹم ‘‘ میں موجود اس غذائی زنجیر کی بقا مقصود ہے تو سسٹم کے تمام اجزاء کو تحفظ دینا ہوگا، جس کے لئے ضروری ہے کہ یہ ہر قسم کے صنعتی وتابکاری فضلات (چاہے وہ ٹھوس، مائع یا گیس فضلات ہو) کو حفظانِ صحت کے عین مطابق زیرمین آلودگی روک چٹانی تینوں میں ٹھکانے لگایا جائے۔ مثلاً بہت زیادہ بلند ارتکاز والے جوہر عناصر کے لئے زیرِ زمین نمک کی تہوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو دنیا بھر میں استعمال کیا جارہا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید