• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریائوں کے رنگ نیارے ہیں۔ اونچے پہاڑوں کی بل کھاتی ترائیوں سے کہیں جھرنے اور کہیں چشمے کی صورت نکلتی آبی لکیریں ناچتی گاتی میدانوں کی جانب بہتی ہیں۔ پاکستان تو وادی سندھ ہے۔ دریائے سندھ قراقرم کے جنوب میں گلگت کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ کالا باغ سے قریب ایک سو کلومیٹر دور اٹک کے مقام پر سندھو کی شفاف نیلگوں لہریں مغربی کنارے پر دریائے کابل میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ چترال سے نمودار ہونے والا دریائے کابل دریائے سوات اور اس کے معاون ندی نالوں سے ہم آغوش ہوتا ایک گدلے دھارے کی صورت دریائے سندھ میں آ گرتا ہے۔ یہ دو دھارے پاکستان کے کل دریائی نظام کا سرچشمہ ہیں۔ یہیں پر دریائے سندھ کے کنارے اٹک کا وہ تاریخی قلعہ موجود ہے جسے سولہویں صدی میں مغل حکمران اکبر نے تعمیر کرایا تھا۔ جس کی سنگین دیواروں میں پاکستان کے سرکش سیاسی رہنمائوں کو قید رکھا گیا۔ اسیروں کی اس فہرست میں نواز شریف، آصف علی زرداری اور شہباز شریف سمیت بے شمار جمہوری کارکنوں کے نام آتے ہیں۔ اس منطقے کی جغرافیائی اہمیت محض یہ نہیں کہ یہاں پانی کا ایک نیلا اور ایک گدلا دھارا ملتے ہیں، یہاں سیاسی تاریخ کے دو دھارے بھی بارہا ایک دوسرے کے مقابل آئے ہیں۔ یہ قصہ یوں یاد آیا کہ گزشتہ ہفتے محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر مسلم لیگ نواز کا ایک وفد بھی شہید رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے گڑھی خدا بخش بھٹو پہنچا۔ اس موقع پر وفد کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بیان دیا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی مل کر لمبے دورانیے کا سیاسی کھیل کھیلنا چاہتی ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں ہماری تاریخ کے دو دھاروں کی نمائندہ رہی ہیں۔ ان کی سیاست کا نقطہ اتصال 14 مئی 2006 کو وقوع پذیر ہوا تھا جب دونوں سیاسی قوتوں نے ماضی کو فراموش کرتے ہوئے قومی تاریخ کے نادیدہ قومی نقشے پر موجود گدلے دھارے سے راستہ الگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 1973 کے دستور کی منظوری کے بعد یہ پاکستان کی جمہوری قوتوں کا اہم ترین قدم تھا۔ تاریخ کے حقائق مگر انمٹ روشنائی سے تحریر کیے جاتے ہیں اور جغرافیہ اپنا راستہ اس آسانی سے نہیں بدلتا۔ میثاق جمہوریت طے پائے دو عشرے گزر چکے۔ اس دوران آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری امنگوں کو پروان چڑھانے کا خواب کچی نیند میں آنکھ پر اترنے والے ڈرائونے مناظر سے عبارت رہا ہے۔ سیاسی دھاروں میں جمہوری مفاہمت کے باوجود مشرقی سمت میں گدلے دھارے نے پسپائی اختیار نہیں کی۔ اقبال نے کہا تھا۔ ’تو شب آفریدی، چراغ آفریدم‘۔ ہماری تاریخ میں اقبال کے اس مصرعے کی ترتیب منقلب ہو گئی۔ جمہوری چراغ کی لو کو اپنی ہتھیلیوں کا حصار دینے والوں پر بار بار لمبے دورانیے کی تمثیل یلغار کرتی رہی۔ کبھی مغربی محاذ پر سرگرم دہشت گرد قوتوں کی نادیدہ پشت پناہی کی گئی تو کبھی دبئی میں بیٹھ کر این آر او مرتب کرنے والے کرداروں ہی نے این آر او کو ہتھیار بنا لیا۔ کبھی عدلیہ کی بحالی کے نام پر سیاسی عمل کو مفلوج کیا گیا تو کبھی کیری لوگر بل کو قومی سلامتی کے منافی قرار دیا گیا۔ میثاق جمہوریت پر محررہ دو ناموں میں سے ایک پر خونی انگوٹھا ثبت کیا گیا اور جمہوری مفاہمت کو اقتدار کی الٹ پھیرکا نام دیا گیا۔ بہت برس بعد عدالت عظمیٰ نے میمو گیٹ کی جعلی دستاویزات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا لیکن دسمبر 2011 میں منصور اعجاز نامی ایک مہرے کی مدد سے ایسی گرد اڑائی گئی کہ ملک کا منتخب صدر دو ہفتے تک جلاوطن رہا۔ کبھی چار حلقوں پر خنجر کی نوک رکھی گئی تو کبھی سوئس بینکوں میں موجود مبینہ رقوم کے نام پر منتخب وزیراعظم کو غیر آئینی طریقے سے معزول کیا گیا۔ کبھی بلوچستان میں سیاسی پیوندکاری کی گئی تو کبھی لندن کے ہوٹلوں میں دھرنوں کی بساط بچھائی گئی۔ کبھی پاناما گیٹ میں اقامہ کی بارودی سرنگ چھپائی گئی تو کبھی ڈان لیکس کے نام پر رائی سے پہاڑ بنایا گیا ۔ کبھی ’ریاست بچائو‘کے نعرے سے سیاست کی بھد اڑائی گئی تو کبھی فیض آباد چوک میں پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا گیا۔ لمبے دورانیے کی تمثیل کے مناظر ایک کے بعد ایک بدلتے رہے لیکن گدلے دھارے کی زور آوری پر پردہ نہیں گرایا جا سکا۔ ہمارا اجتماعی حافظہ کمزور ہے۔ آج شاید ہی کسی کو نومبر 2017 اور مارچ 2018 کے مناظر یاد ہوں۔ کسی کو استحضار نہیں کہ فروری 2018 میں لمبے دورانیے کے ہدایت کار نے کیا مکالمے ادا کیے تھے۔ 26 جولائی کی شام قرآنی آیات ٹویٹ کرنے والا قلم وہی تھا جس نے 29 اپریل 2017 کو یک لفظی ٹویٹ سے جمہوری حکومت کو ایسی چنوتی دی تھی جسے بالآخر 10 مئی 2017 کو واپس لینا پڑا۔ یہ محض واقعات کی تقویم کا اعادہ نہیں۔ مقصود یہ ہے کہ سیاسی دھاروں کی لمبے دورانیے کے کھیل کی خواہش اپنی جگہ، شمال مغرب سے پیش قدمی کرتے گدلے اور نادیدہ دھارے سے خبردار رہنا چاہیے۔ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی/ نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی۔

شیخ ایاز صادق دھیمے مزاج کے سیاسی رہنما ہیں۔ یہ باور نہیں ہوتا کہ لاڑکانہ میں ان کا جمہوری قوتوں میں گہری مفاہمت پر مبنی نپا تلا بیان سنجیدہ غور و فکر کے بغیر داغ دیا گیا ہو۔ سیاست کے نیلگوں شفاف دھارے اس قوم کی شریانوں میں دوڑتا حیات بخش لہو ہیں لیکن ہمارے دلوں پر داغ خنجر کی تحریر کچھ اور کہتی ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں اسلام آباد کی فضائوں میں بہت کچھ کہا اور سنا گیا ہے۔ اس دام شنیدن کا خلاصہ یہ ہے کہ طویل دورانیے کا جو ارادہ ایاز صادق نے ظاہر کیا ہے اس کی تفصیل میں تیسرے دھارے کے ڈرامائی کردار کا ذکر موجود نہیں۔ اگر ایاز صادق کا اشارہ موجودہ پارلیمانی بندوبست کی طرف ہے تو انہیں یاد دلانا پڑے گا کہ ابھی آئین میں دو اہم ترامیم ہوئی ہیں اور کچھ ترامیم کے ارادے بدلیوں کے مانند فضا میں تیر رہے ہیں۔ ابھی جمہوریت کی تمثیل میں وہ وقفہ نہیں آیا جسے مصوری کی اصطلاح میں Pentimento کہتے ہیں جہاں کسی قدیم تصویر کی بیرونی پرتیں گردش وقت کے ساتھ اکھڑنے لگتی ہیں اور نیچے کینوس پر مصور کا حقیقی خیال جھلک دینے لگتا ہے۔

تازہ ترین