امریکا کے سب سے بڑے شہر نیو یارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی پاکستانی خاتون سے ملاقات کے دوران آبدیدہ ہوگئے۔
ثمینہ نامی خاتون جن کا اصل میں پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق ہے، اُنہوں نے ظہران مامدانی سے ’دی میئر از لسننگ‘ کے عنوان سے منعقد کیے جانے والے ون آن ون سیشن کے دوران ملاقات کی۔
اس ملاقات کے دوران ثمینہ نے ظہران ممدانی کی نیو یارک سٹی کے عام شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے تبدیلی لانے کی کوششوں اور ہمدردانہ اندازِ فکر کی تعریف کی۔
پاکستانی خاتون کی اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کی گفتگو نے نیو یارک سٹی کے میئر کے دل کو چھو لیا، وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے۔
ثمینہ نے ملاقات کے دوران سب سے پہلے انگریزی زبان پر اپنی محدود مہارت کے لیے معذرت کی اور پھر ظہران ممدانی کے لیے پہلے سے تیار کیا ہوا اپنا نوٹ پڑھا۔
اُنہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو آپ کو میئر بننے پر مبارکباد، آپ کی اس ہمدردی کو آگے بڑھنا چاہیے، آپ کا شکریہ کہ آپ نے ایک ایسی دنیا کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرمی پیدا کی جہاں کوئی متحد نہیں ہے۔
ثمینہ نے نیو یارک سٹی کے شہریوں میں مثبت سوچ کو اُجاگر کرنے پر ظہران ممدانی کی تعریف کرتے ہوئے ان سے کہا کہ آپ اس مشکل وقت کے دوران ایک روشنی اور امید بن کر رہیں۔
پاکستانی خاتون کی جانب سے اپنی تعریف سننے کے بعد ظہران ممدانی نے انہیں اردو زبان میں انتہائی گرمجوشی سے جواب دیا اور لاہور شہر کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔
اُنہوں نے ثمینہ کو بتایا کہ میں اپنی زندگی میں ایک بار لاہور کا دورہ کر چکا ہوں، وہ بہت خوبصورت شہر ہے۔