• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرا وی آئی پی دوست ایئر پورٹ پر نہیں، جہاز کی سیڑھیوں کے پاس میرے استقبال کیلئے موجود تھا۔ عام مسافر ایک ایک کر کے پی آئی اے کی بس میں سوار ہونے لگے، میرے دوست نے ذرا فاصلے پر کھڑی اپنی لیموزین کی طرف اشارہ کیا۔ کار کے قریب پہنچ کر میں نے ہاتھ دروازے کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ باوردی ڈرائیور دوڑا ہوا میرے پاس آیا۔ خاصا خوش اخلاق آدمی تھا ، مجھ سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا مگر میرے ہاتھ بڑھانے پر اس نے جس طرح کھسیانا سا ہو کر مجھ سے مصافحہ کرتے ہی کار کا دروازہ جس برق رفتاری سے کھولا اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ صاحب کے دوست سے ہاتھ ملانے کی گستاخی وہ نہیں کر سکتا تھا، بلکہ وہ بچارا تو صرف دروازہ کھولنے کیلئے میری طرف اندھا دھند بڑھا تھا۔دفتر چلو میرے دوست نے شوفر کو حکم دیا۔شوفر نے کچھ کہے بغیر روبوٹ کی طرح سر ہلایا اور گاڑی دفتر کے راستے پر ڈال دی۔ راستے میں ٹریفک پولیس گاڑیاں روک کر کاغذات چیک کر رہی تھی ۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی تو سارجنٹ نے کھڑکی کے پاس جھک کر ڈرائیور سے کاغذات طلب کیے۔ اس کے جواب میں ڈرائیور نے کاغذات دکھانے کی بجائے پچھلی سیٹ پر بیٹھے اپنے صاحب کی طرف اشارہ کر کے ان کا تعارف کرایا ۔ سارجنٹ نے ایک نظر پچھلی سیٹ پر ڈالی اور بڑ بڑا کر سوری سر کہنے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ دفتر سے ملحقہ کمرے میں سائلوں کا ایک ہجوم تھا۔ ان میں خواتین بھی تھیں اور مرد بھی ۔ میرے دوست نے چٹوں پر لکھے ہوئے نام اور وزیٹرز کارڈ کی ڈھیری میں سے ایک چٹ اٹھائی اور چپراسی سے کہا’’انھیں بلاؤ‘‘۔ تھوڑی دیر بعد دو خواتین اپنی موجودگی کا پوری طرح احساس دلاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔ یہ ایک ممتاز گھرانے کی صاحبزادیاں تھیں ۔ جب وہ کمرے سے چلی گئیں تومیں نے حیرت سے اپنے دوست سے کہا’’میں انھیں جانتا ہوں مگر یقین نہیں آتا یہ وہی ہیں ۔ ‘‘ دوست کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھری اور اس نے کہا’’میں زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں اور یقین کرو یہ وہی ہیں۔‘‘دوپہر کو کھانے کیلئے پچھلے دروازے سے دفتر سے نکلے تو دس بارہ چپراسی اپنی جگہ مودب کھڑے ہو گئے ۔ صاحب کا بوجھ کیسے ہلکا کریں۔ صاحب سے مایوس ہو کر چپراسیوں نے مجھے امید بھری نظروں سے دیکھا۔ میرے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھ کر انکی آنکھوں میں چمک آ گئی ۔ ان میں سے دو چپراسی میری طرف دیوانہ وار لپکے اور ان میں سے ایک نے میرے نہ نہ کہنے کے باوجود کتاب میرے ہاتھ سے لے لی۔ ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ رکھی ہوئی تھی۔ ہمیں آتا دیکھ کر وہ پھرتی سے کار میں سے باہر نکلا اور پوری کار کے گرد گھوم کر بایاں دروازہ کھول کر کھڑا ہو گیا۔ بریف کیس والے چپراسی نے اپنی رفتار تیز کر دی اور آگے بڑھ کر دوسرا دروازہ اس نے کھول دیا۔

سنو میرے دوست نے منمناتے ہوئے کہا۔اس پر تینوں اس تیزی سے اپنے صاحب کی طرف بڑھے کہ آپس میں ٹکراتے ٹکراتے بچے۔’’میں واپس دفتر نہیں آؤں گا۔‘‘ میرے دوست کی منمناہٹ سنائی دی۔ ٹھیک ہے۔کار میں بیٹھنے کے بعد میں نے دروازہ بند کرنے کیلئے ہینڈل کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر مجھے یہ زحمت نہ اٹھانا پڑی ، دروازہ اس سے پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا۔صاحب کی کار کا ہارن سن کر ملازمین کوٹھی کا دروازہ کھولنےکیلئے اس طرح دوڑےجیسے یہ ساتواں در تھا جسکے کھلتے ہی ان کے نصیب جاگ اٹھیں گے۔ ایک لمبی ڈرائیو کےبعد کار پورچ میں آ کر رکی تو ڈرائیور ایک دفعہ پھر برق رفتاری سے باہر نکلا اور کار کے گرد گھوم کر بائیں دروازے تک پہنچا۔ ایک ملازم نے دایاں دروازہ کھولا اور یوں ہم دونوں باہر آ گئے ۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ان عزت کرنے والوں کی بہتات سے میرے اندر کوئی کمی واقع ہو رہی ہے۔ملازموں کی خدمت طلب نظروں سے لگتا تھا کہ انھیں ہمارا کمرے تک پیدل جانا اچھا نہیں لگ رہا، اگر ان کا بس چلے تو ہمیں کاندھوں پر اٹھا کر اندر کرسیوں تک چھوڑ آئیں لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔’’تم جب ریٹائر ہوئے تو اس وقت کیا کرتے تھے؟‘‘ دوست نے اچانک بے موقع سا سوال پوچھا۔’’میں اس وقت کالج میں پڑھاتا تھا۔‘‘اس کے ساتھ ہی اس نے سب ملازموں کو کمرے سے نکل جانے کا حکم دیا۔’’تم نے اچانک انھیں کمرے سے جانے کیلئے کیوں کہا ؟‘‘میں نے پوچھا ۔’’ یہی لیکچررشپ والی بات جو تم نے ان کے سامنے کر دی ہے ۔‘‘تو اس میں کیا حرج ہے؟، ”حرج تو کوئی نہیں ۔“ اس نے کہا ” مگر اس سے ان خدمت گزاروں کے جذبات یہ سوچ کر مجروح ہوئے ہوں گے کہ اتنی دیر سے جس شخص کی وہ ناز برداریاں کر رہے تھے وہ بچارا ماشٹر ہے۔‘‘ اور اسکے ساتھ ہی دوست نے قہقہہ لگایا اور بولا’’میں تو تمہیں بیسیوں دفعہ ڈھنگ کی نوکری کی پیشکش کر چکا ہوں مگر تمہارے دماغ سے خوئے سلطانی ہی نہیں جاتی ۔“کھانے کے بعد دوست مجھے گیسٹ روم میں لے آیا۔ ’’ گھر میں آج کوئی بھی نہیں ہے لہٰذا ایزی ہو جاؤ تم کچھ دیر آرام کرو، میں اتنی دیر میں کچھ کام کر لیتا ہوں ۔“چار بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا میرے جوتے آئینے کی طرح چمک رہے تھے اور جو سوٹ میں نے اتارا تھا وہ استری شدہ پڑا تھا۔ ملازم نے ہولے سے دروازہ کھولا اور جھانک کر اندر دیکھا۔ میری نیند کے دوران وہ شاید کتنی ہی دفعہ اس طرح جھانک کر گیا تھا کہ ممکن ہے کہ صاحب جاگ گئے ہوں اور انہیں بلانے کیلئے آواز نہ دینا پڑے ۔ مجھے جاگتا دیکھ کر وہ الٹے پاؤں مڑا اور تھوڑی دیر بعد ٹرے میں چائے لے آیا۔ شام کو میرے دوست نے اپنے اور میرے چند مشترکہ دوستوں کو ہوٹل میں کھانے پر مدعو کیا تھا۔ گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے اپنے سیکرٹری کو بلایا اور اسے اپنی انکم ٹیکس اسٹیٹ منٹ تیار کرنے ، پاسپورٹ پر امریکہ کا ویزا لگوانے ، جہاز کا ٹکٹ خریدنے اور ایسے کتنے ہی چھوٹے بڑے کاموں کے بارے میں ہدایات دیں اور پھر ہم کار میں آکر بیٹھ گئے ۔ کار تک پہنچتے پہنچتے میں نے ان تمام آسائشوں اور عزت افزائیوں کا ایک دفعہ پھر نظارہ کیا جو میں صبح سے اب تک متعدد بار کر چکا تھا۔

اس کالم میں صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک زندگی یہ بھی ہے اور ایک زندگی وہ جو کروڑوں پاکستانی گزارتے ہیں۔

تازہ ترین