• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کی قدر و قیمت (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں)

مولانا محمد راشد شفیع

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں اور راحتوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے: یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے لگو تو انہیں پورا شمار نہیں کر سکو گے۔ (سورۃالنّحل:18)

یقیناً اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت اپنی جگہ بڑی عظیم اور قدر و قیمت کی حامل ہے، تاہم ان نعمتوں کے درجات بھی ہیں، کچھ نعمتیں قیمتی ہیں، کچھ نہایت اہم اور قیمتی، اور کچھ ایسی ہیں جو کسی خاص اعتبار سے سب سے زیادہ فوقیت رکھتی ہیں، جبکہ بعض الگ پہلو سے زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر نعمتِ ہدایت کو دیکھیے، جو انجام اور آخرت کی کامیابی کے لحاظ سے سب سے بڑی نعمت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اور نعمت ایسی ہے جس پر دنیا کی تمام نعمتوں کا دار و مدار ہے، اور وہ نعمتِ حیات، یعنی زندگی ہے۔ انسان جب تک زندہ ہے، تب تک وہ مختلف چھوٹی بڑی نعمتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن اگر زندگی ہی باقی نہ رہے تو دنیا کی کوئی نعمت اس کے لیے قابلِ استفادہ نہیں رہتی۔

یہ ممکن ہے کہ کسی شخص کو ہدایت، دولت، اولاد یا علم جیسی نعمتیں حاصل نہ ہوں، اس کے باوجود وہ دوسری کئی نعمتوں سے مستفید ہو سکتا ہے، لیکن جب زندگی کی نعمت ختم ہو جائے تو پھر کسی نعمت کا وجود اس کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ اسی اعتبار سے دیکھا جائے تو زندگی انسان کے پاس سب سے زیادہ قیمتی، عزیز اور بے مثل نعمت ہے۔

اگرچہ زندگی کی قدر و قیمت کا اجمالی احساس سب کو ہے، لیکن یہ بات کہ زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے اور خود زندگی کس چیز کو کہتے ہیں؟ اس پر بہت کم لوگ غور و فکر کرتے ہیں۔ عام طور پر زندگی کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ جسم میں روح کا ہونا، انسان کا چلنا پھرنا، بولنا اور سننا زندگی ہے، حالانکہ یہ سب زندگی کی ظاہری علامات ہیں، خود زندگی کی حقیقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی دراصل وقت کا نام ہے۔ زندگی گزرنے والے برسوں، مہینوں، دنوں، ساعتوں، لمحوں اور ثانیوں کا مجموعہ ہے۔ انسان کی حیات فی الحقیقت وقت ہی سے عبارت ہے، اور وقت ہی اس کی اصل عمر ہے۔

اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اے ابنِ آدم! تم حقیقت میں دنوں کا مجموعہ ہو۔‘‘اور مزید ارشاد فرماتے ہیں:"جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تمہارا ایک حصہ بھی کم ہو جاتا ہے۔‘‘(کتاب الزھد للامام أحمد بن حنبل، ص:225)

اس کائنات میں انسان کے پاس جو سب سے زیادہ قیمتی اور گراں بہا دولت ہے ،وہ وقت ہے۔ جن لوگوں نے وقت کی اہمیت کو سمجھا، اس کی قدر کی اور اسے درست سمت میں استعمال کیا، وہی لوگ زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنے اور تاریخ میں اپنا نشان چھوڑنے میں کامیاب ہوئے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ وقت انسان کی زندگی کا سب سے عظیم سرمایہ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، مگر افسوس کہ غفلت اور لاپروائی کے باعث آج امّتِ مسلمہ میں اس نعمت کی ناقدری اور ناشکری عام ہوتی جا رہی ہے۔

بالخصوص موجودہ دور میں امّت کو وقت کی قدر و قیمت کا احساس دلانا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اور افراد وقت کو ضائع کرتے رہے، بالآخر وقت ہی نے انہیں زوال، پشیمانی اور عبرت کی مثال بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے جس سے وقت کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل کبھی بھی کسی کمتر چیز کی قسم نہیں کھاتے۔

1۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں ’وقت فجر اور عشرۂ ذوالحجہ کی قسم کھائی ہے: ’’اس صبح کی قَسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) راتوں کی قَسم‘‘۔(سورۃالفجر، 89)

2۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی قسم بھی کھائی ہے، ارشاد ہوتا ہے :’’رات کی قَسم جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے) اور دن کی قَسم جب وہ چمک اٹھے‘‘۔(سورۃالليل)

3۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ میں چاشت کے وقت اور رات کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’قَسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے) اور قَسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے‘‘۔

4۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں ’زمانے کی قسم‘ کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’زمانےکی قَسم (جس کی گردش انسانی حالات پر گواہ ہے)بےشک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)‘‘۔

مذکورہ تمام آیاتِ مبارکہ میں اللہ رب العزت نے فجر، صبح، چاشت، رات، دن اور زمانے کی قسم کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ وہ ہمیشہ کسی خاص شے پر قسم کھاتا ہے۔ لہٰذا ان آیات میں جو اللہ نے مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے، کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ ان کے ذریعے درحقیقت ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اپنی زندگی کے اوقات کو معمولی اور حقیر نہ سمجھو، اس کے ایک ایک لمحے کا تم سے حساب ہونا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بھی احادیث مبارکہ میں جا بجا وقت کی اہمیت اور قدر کو واضح فرمایا ہے۔ حضرت عبدﷲ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔‘‘( صحيح بخاری، کتاب الرقاق، باب لا عيش إلا عيش الآخرۃ)

اللہ تعالیٰ جب انسان کو جسمانی صحت اور فراغت کے اوقات جیسی بیش قیمت نعمتیں عطا فرماتا ہے تو عموماً انسان اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ یہ نعمتیں ہمیشہ قائم رہیں گی اور ان پر کبھی زوال نہیں آئے گا، حالانکہ یہ محض شیطان کا دھوکا اور نفس کا فریب ہوتا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ جس ربِّ کائنات نے اپنی رحمت سے یہ عظیم نعمتیں عطا کی ہیں، وہ جب چاہے انہیں واپس لینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کی قدر پہچانے، ان پر شکر ادا کرے اور انہیں نیکی، اصلاح اور اطاعتِ الٰہی کے بہترین مصرف میں لائے۔

حضرت ابو بَرزَہ اَسلمی ؓسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن بندہ اس وقت تک (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا رہے گا جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے گا۔ : 1۔ اس نے اپنی زندگی کیسے گزاری، 2۔ اس نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا، 3۔ اس نے مال کہاں سے کمایا اور کیسے خرچ کیا۔ 4۔ اس نے اپنا جسم کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘(ترمذی)

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو تو اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ حساب کے لئے کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا لے گا تو اسے ضرور لگانا چاہئے۔‘‘(مسندأحمد بن حنبل)

حضرت مَعقل بن يَسارؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’اولاد آدم پر ہر نیا آنے والا دن (اسے مخاطب ہوکر) کہتا ہے: اے ابن آدم! میں نئی مخلوق ہوں، میں کل (یوم قیامت) تمہارے عمل کی گواہی دوں گا، پس تم مجھ میں عمل خیر کرنا کہ میں کل تمہارے حق میں اسی کی گواہی دوں، اگر میں گزر گیا تو پھر تم مجھے کبھی بھی دیکھ نہیں سکو گے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح کے کلمات رات بھی دہراتی ہے۔‘‘ (حليۃ الأولياء)

خلاصۂ تحریر یہ ہے کہ وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی کوئی قیمت متعین نہیں کی جا سکتی۔ انسان کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ وہ وقت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ 

قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں وقت کی قدر و منزلت پر بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔ جو لوگ وقت کی حفاظت کرتے ہیں، وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتے ہیں۔ غفلت، سستی اور ٹال مٹول وقت کے سب سے بڑی دشمن ہیں۔ 

ماضی ہاتھ سے نکل چکا، مستقبل غیر یقینی ہے، اصل سرمایہ حال کا وقت ہے۔ ہر لمحہ ایک امانت ہے جس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ وقت کو نیکی، علم اور خدمتِ دین میں لگانا ہی دانش مندی ہے۔ جو قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں، وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ وقت کی قدر کرے اور اسے ضائع ہونے سے بچائے۔

اقراء سے مزید