• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی میں مہر مقرر کرنا ضروری نہیں ہے، یہ بات کہاں تک درست ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو قرآن پاک کی کس سورت میں لکھی ہوئی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سورۂ بقرہ آیت:237کے تحت اگر شوہر بیوی کو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دے دے تو نصف مہر ادا کرے گا، سوال یہ ہے کہ اگر مہر مقرر نہ کیا ہو تو نصف مہر کا تعین کیسے ہوگا؟ (ظفر الحق میمن، کراچی)

جواب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ:’’اور ان (بیان کردہ محرمات)کے سوا دیگر عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں کہ اپنے مال(مہر ) کے عوض ان کو طلب کرو، (مگر) نکاح کی حفاظت میں لانے کے لیے نہ کہ شہوت رانی کے لیے، سوجن سے تم (ازدواج کا) فائدہ اٹھاؤ، ان کا مقررہ مہر ادا کردو، (سورۃالنّساء: 24)‘‘ ۔

(۲)ترجمہ:’’اور عورتوں کو اُن کے مہر خوش دلی سے ادا کرو تو پھر اگر وہ خوشی سے اس (مہر) میں سے تم کو کچھ دے دیں تو اس کو شوق سے کھاؤ، (سورۂ نسا:4)‘‘۔

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اگر نکاح میں مہرمقرر نہ ہوا یا مہر کی نفی کردی گئی( تو نکاح ہوجائے گا) اورمیاں بیوی میں ازدواجی تعلق قائم ہوگیا یا شوہر وفات پاگیا تو عورت مہر مثل کی حق دار ہوگی،(البحرالرّائق، جلد3،ص: 256)‘‘۔

تنویرالابصار مع الدّرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اور آزاد عورت جس کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو، مہرِ مثل کی حق دار ہوگی، مہر مثل وہ ہے جو اُس کے باپ کے خاندان کی اسی جیسی عورتوں کا ہے، نہ کہ ماں (کے خاندان کی)، اگر ماں اُس کے باپ کی قوم سے نہ ہو، جیسے چچاکی بیٹی، (ورنہ خاندان ایک ہونے کی بنا پر اس کا بھی اعتبار ہوگا) ۔

’’خلاصۃ الفتاویٰ ‘‘ میں ہے : مہرمثل میں عورت کی بہنوں اور پھوپھیوں کا اعتبار ہوگا، پھر اگر وہ نہ ہوں تو سگی بھانجی اور چچاکی بیٹی کا اعتبار ہوگا، مطلب یہ ہے کہ باپ کی قوم میں بھی ترتیب کا اعتبار ہوگا، اس ضابطے کو یاد رکھو، اور عمر، جمال، مال ،شہر (یا علاقہ)، زمانے، عقل، دین، باکرہ اور ثیّبہ (شوہر دیدہ) ہونے، عفّت، علم، ادب اور اعلیٰ اخلاق(یعنی ان معیارات) کے اعتبار سے نکاح کے وقت مماثلت کا اعتبار ہوگا ،(جلد8،ص:458،دمشق)‘‘۔

ہمارے عرف کے مطابق نکاح کے بعد جس عورت کی رخصتی نہ ہوئی ہو، یعنی اس کے ساتھ نہ تو شوہر کا ازدواجی تعلق قائم ہوا ہو اور نہ ہی ایسی خَلوت ہوئی ہو، جس میں مباشرت سے کوئی شرعی یا طبعی مانع نہ ہو، اُسے فقہ میں ’’خَلوتِ صحیحہ ‘‘ کہتے ہیں، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ:’’ اور اگر تم نے (اپنی منکوحہ) عورتوں کو چھونے(یعنی مباشرت ) سے پہلے طلاق دے دی ہو حالانکہ تم اُن کا مہر مقرر کرچکے تھے، تو اُنہیں مقررہ مہر کا نصف ادا کردو، سوائے اس کے کہ وہ عورتیں (ازخود) کچھ چھوڑدیں یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے(یعنی شوہر) وہ ازخود کچھ زیادہ دے دے، (سورۃالبقرہ:237)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید