آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ہماری مسجد کے امام صاحب نے دو سال قبل رمضان کے بعد فجر کی نماز میں قرآن پاک ترتیب سے پڑھنا شروع کر دیا، وہ ہر روز صرف فجر کی نماز میں ایک سے دو رکوع روزانہ قرأت کرتے، جس طرح رمضان میں تراویح پڑھائی جاتی ہے، انہوں نے ایک سال میں رمضان سے پہلے قرآن پاک ختم کر لیا، جس کی ختم القرآن کے نام پر مٹھائی بھی بانٹی۔
انہوں نے دوبارہ رمضان کے بعد اسی ترتیب سے دوبارہ قرآن پڑھنا شروع کر دیا اور چند روز قبل دوبارہ ختم کیا ہے، مجھے اس سلسلے میں کسی نے بتایا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں، کیوں کہ رسولِ پاک ﷺ نے اپنی حیاتِ پاک میں چوں کہ ایسا کچھ نہیں کیا تو یہ درست فعل نہیں ہے۔ آپ راہ نمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح نماز پڑھانا درست فعل ہے جو احادیث سے ثابت نہیں؟
جواب: پنج وقتہ فرض نمازوں میں تلاوت کی مسنون مقدار یہ ہے کہ فجر اور ظہر میں طِوالِ مفصّل (سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ بروج تک) میں سے کوئی سورت یا اتنی مقدار کہیں سے بھی تلاوت کی جائے، اور عصر اور عشاء کی نماز میں اَوساطِ مفصّل (سورۂ طارق سے سورۂ بیّنہ تک) میں سے کوئی سورت یا اتنی مقدار پڑھی جائے، اور مغرب کی نماز میں قِصارِ مفصّل (سورۂ زلزال سے سورۂ ناس تک) میں سے کوئی سورت یا اتنی مقدار پڑھی جائے۔
نیز رسول اللہ ﷺ عام طور پر فجر کی نماز میں ساٹھ (60) سے لے کر سو (100) آیات تک تلاوت فرمایا کرتے تھے، اور کبھی "سورۂ واقعہ" اور "سورۂ قاف" اور جمعہ کے دن فجرکی نماز میں "الم تنزیل" اور "سورۂ دھر" کی تلاوت بھی فرماتے تھے، اور عذر کی بنا پر معوذتین کی قراءت بھی فرمائی ہے، جیسے کہ کسی خاتون کے بچے کی رونے کی آواز سنی تو معوذّتین (سورہ فلق، سورۂ ناس ) پڑھیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر امام صاحب فجرکی نماز میں مسنون مقدار میں تلاوت کرتے ہوئے ترتیب وار قرآنِ مجید پڑھ کرختم کرتے ہیں تو شرعاً یہ جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فرض نمازوں میں مکمل قرآنِ کریم شروع سے آخر تک تلاوت کرتے تھے۔
تاہم اس اَثر کے راوی سہیل بن ابی حزم پر ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے، بعض نے اس کی توثیق کی ہے، اور بعض نے ضعیف قرار دیا ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے بظاہر اس راوی کے تفرد کی وجہ سے اس روایت کو منکر کہا ہے، جب کہ مجمع الزوائد میں علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں، البتہ سہیل بن ابی حزم کو محدثین کی ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام یحیٰ بن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق (بھی) کی ہے۔
بہرحال فرض نمازوں میں قرآنِ کریم ختم کرنے کے جائز ہونے میں کلام نہیں ہے۔ نیز ختمِ قرآن کے موقع پر لازم اور ضروری سمجھے بغیر کبھی مٹھائی تقسیم کردی تو اس میں بھی مضائقہ نہیں ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:541، ط:ایچ ایم سعید - مصنف ابن شیبۃ، کتاب الصلاۃ، باب ما يقرء فی الفجر، ج:1، ص:310/311، ط:مکتبۃ الرشيد)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk