آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال:1.کیا سونے کے زیورات میں موجود کھوٹ (impurity) اور پالش زکوٰۃ کے حساب میں کل وزن میں شامل کی جائے گی یا نہیں؟
2.زکوٰۃ سونے کی خریداری قیمت (purchase value) پر واجب ہے یا فروخت/بازار قیمت (selling or resale value) پر؟جیسا کہ دوبارہ فروخت کی قیمت میں اصل یا خریداری کی قیمت کا 1/4 کٹوتی کر لی جاتی ہے۔
3.کیا زکوٰۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب سونا 85 گرام تک پہنچ جائے، یا کوئی مختلف وزن کی حد مقرر ہے؟
4.اگر خالص سونے کا کل وزن 85 گرام سے کم ہو، لیکن نقد رقم موجود ہو جو زکوٰۃ کے قابل ہے، تو زکوٰۃ صرف نقد رقم پر واجب ہوگی یا دونوں پر ، یعنی کم وزن والا سونا اور نقد رقم دونوں پر؟
جواب:1. احکامِ زکوٰۃ میں سونے، چاندی کے زیورات کے وزن میں غالب کا اعتبار ہوتاہے، اگر زیورات میں سونا ، چاندی غالب ہو اور کھوٹ، پالش کم ہو تو پالش اور کھوٹ سونے اور چاندی کے وزن میں شمار ہوگا۔
2. سونے کے زیورات یا خالص سونے کی زکوۃ کی ادائیگی میں قیمتِ فروخت معیار ہے،قیمتِ خرید نہیں، لہٰذا جب زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت ہو، اس وقت زیورات کی قیمتِ فروخت معلوم کرکے اسی حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
3. اگر ملکیت میں صرف سونا ہو اور اس کے علاوہ نقدی،چاندی،یا مالِ تجارت نہ ہو تو اس صورت میں ساڑھے سات تولہ (87.48گرام )سونا یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔
4. اگر سونے کے ساتھ ساتھ بنیادی ضرورت سے زائد نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت میں سے بھی کچھ ملکیت میں ہو تو ساڑھے سات تولہ کا اعتبار نہیں، بلکہ ان مملوکہ اموال کی مجموعی مالیت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی، اور سال پورا ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا، بشرطیکہ اتنا قرض ذمے میں نہ ہو جسے منہا کرنے کے بعد نصاب کے بقدر مالیت باقی نہ رہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الزکاۃ،الباب الثالث،ج:1،ص: 179، ط:دار الفکر)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk