پروفیسر خالد اقبال جیلانی
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے رمضان المبارک کے روزے بہ خیرو خوبی منزل اختتام کی طرف رواں دواں ہیں۔ ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی اور سعادت کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی طاقت اور صحت سے رمضان کے روزے پورے کر سکے۔ اس ماہِ مبارک کی دیگر عبادات کی ادائیگی سے بھی سبکدوش ہو۔
اس سعادت کے حصول کے ساتھ ساتھ پوری امّتِ مسلمہ مسرت کے ان لمحات کی طرف تیزی سے گامزن ہے کہ جب روزے داربندے اپنے رب کی طرف سے مزدوری اور انعام والے دن کی تیاریوں میں اس دعا کے ساتھ مصروف ہیں کہ رمضان میں ہم جو عبادتیں کر رہے ہیں وہ عبادتیں ہماری عید کے سجدۂ شکر سے پہلے پہلے بارگاہ ِ خداوندی میں قبولیت سے سرفراز ہوں یعنی ہم عید الفطر منانے والے ہیں۔
یہ خوشی کا دن ہے لیکن عید کی ان تیاریوں اور خوشی میں اتنے منہمک اور مست نہ ہو جائیں کہ ہم اپنے غریب رشتے داروں اور غریب پڑوسیوں کو بھی بھول جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عید کی تیاریوں اور عید کی خوشیوں میں انہیں بھی شامل کریں اور یاد بھی رکھیں، ان غریب رشتے داروں اور پڑوسیوں کو اپنی عید کی خوشیوں اور تیاریوں میں شامل کرنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ ہمارے جو غریب رشتے دار اور پڑوسی ہیں، ان کی عید کی تیاری ہوئی ہے یا نہیں؟ ہمیں چاہیے کہ کسی باعزت طریقے سے غریبوں کی مالی مدد کی جائے، تاکہ یہ بھی اپنے بچوں کے لئے عید کی تیاری کرسکیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحب حیثیت مسلمانوں پر صدقۂ فطر اسی لئے واجب کیا گیا ہے کہ معاشرے کے غریب اور محروم لوگ بھی عید کی حقیقی خوشیوں اور مسرتوں سے محروم نہ رہیں۔
اسلام دین فطرت ہے، اس کا کوئی بھی حکم حکمت و مصلحت اور مقصد سے خالی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاحب نصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ اور صدقۂ فطر واجب کر کے یہ آفاقی پیغام دیا کہ غریبوں اور مصیبت زدہ انسانوں کو عام حالت میں اور بالخصوص عید کی خوشیوں میں اپنی زکوٰۃ و صدقۂ فطر کے ذریعے شامل کیا جائے۔ عام طور پر مسلمان اسی مبارک مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
یہی وہ حکم ہے جس کے ذریعے امیر لوگ اپنی آمدنی سے شریعت کے اصولوں اور احکام کے مطابق ایک خاص رقم نکال کر غریب مسلمان بھائیوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس سے بہت سارے غریب گھرانوں اور حاجت مندوں میں کھانے پینے کی چیزیں اور کپڑے خرید لئے جاتے ہیں اور یوں سب عید کی خوشیوں میں شریک ہوجاتے ہیں، اسی مبارک مہینے میں صدقۂ فطر دیاجاتا ہے جو ہر امیر، غریب اور غلام پر واجب ہے۔
علمائے امّت نے صدقۂ فطر کی بہت ساری حکمتیں بیان کی ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے جو دو حکمتیں ارشاد فرمائیں، وہ بہت ارفع و اعلیٰ ہیں: اولاً’’روزے میں ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی۔ ثانیاً امّت کے مسکینوں کے لئے عید کے دن رزق (اور ضروریات ِ عید) کا انتظام ہو ، تاکہ وہ بھی عید کے دن لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں‘‘۔ (سنن ابودائود)
اس لئے جن لوگوں پر صدقۂ فطر واجب ہے، انہیں چاہیے کہ وہ عید کا چاند نظر آنے کا انتظار نہیں کریں، بلکہ فوری طورپر احساس ذمہ داری اور ہمدردی، ایثار و مواسات کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ صدقۂ فطر ادا کردیں، تاکہ معاشرے کے محروم طبقات بھی اپنی عید کی تیاریاں عید کا چاند نظر آنے سے پہلے پہلے کر لیں۔ صدقۂ فطر کی ادائیگی میں ہمارا یہ طرز فکر وعمل اور طریقہ قطعاً درست نہیں کہ عید کا چاند نظر آنے کے بعد یہ صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا۔
عید کا چاند نظر آنے کے بعد بھلا چند گھنٹوں میں عید کی اچھی تیاری کیسے ممکن ہے اور وہ بھی کسی غریب کی۔ چاند رات کو اول تو مارکیٹوں، بازاروں میں بے پناہ رش ہوتا ہے اور دوسرے ہلال عید کے چڑھتے ہی ہر شے کی قیمت آسمان پر پہنچ جاتی ہے، بھلا صدقۂ فطر کی رقم سے خریداری کرنے والا کہاں عید کی شاپنگ کر سکتا ہے، دوسرے چاند رات کو مارکیٹوں میں تیسرے درجے کا ہی سامان باقی رہ جاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ صدقۂ فطر عید سے قبل رمضان کے اوائل یا درمیان ہی میں اپنے غریب رشتے داروں اور پڑوسیوں کو پہنچا دیا کریں، تاکہ ان کی عید کی خریداری آسانی اور احسن طریقے سے ہو سکے، جیسا کہ ہم نے اپنے گھر والوں کے لئے عید کی خریداری رمضان سے پہلے شعبان ہی میں کر لی تھی۔
بلاشبہ ہم عید کی خوب تیاریاں کریں، خوشیاں منائیں، مسرت کا اظہار نت نئے طریقوں سے کریں۔ ایک سے بڑھ کر ایک عید کی شاپنگ کریں۔ لیکن ان سب تیاریوں، خوشیوں اور مسرتوں کے ساتھ ہماری یہ اجتماعی دینی و اسلامی ذمہ داری بھی ہے کہ اس موقع پر اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو ہرگزنہ بھولیں۔ یہ لوگ ہمارے دائیں بائیں، ہمسائے، محلے، علاقے میں اور ملک میں ہر جگہ موجود ہیں۔ جس کی جتنی ہمت و سکت ہے، اس کو عید کی خوشیوں میں دوسروں کو شامل کر نے کے لئے اسی قدر حصہ لینا چاہئے۔
ایک عام متوسط طبقہ کا مسلمان اپنے قریبی رشتے داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے تو صاحبِ ثروت افراد ملک بھر کے غریب، مجبو ر اور محروم بھائیوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کر نے کو کوششیں کریں۔ ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ حسب توفیق غریب مسلمان بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں ضرور شریک کریں۔
مہنگائی نے انسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ عید کی خوشیاں خرید نے سے قاصر ہیں ان حالات میں محمد عربی ﷺکا سچا امتی اور اطاعت گزار بنتے ہوئے غریب مسلمانوں کو بھی اپنی ہر قسم کی خوشیوں میں شامل کر لینا چاہیے۔ ویسے بھی ایک غریب مسلما ن کی خوشی کے موقع پر بے لوث مدد اور خدمت کرنے سے جو روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے اور ایسی مدد کرنے پر اللہ اور رسولﷺ بھی خوش ہوتے ہیں۔ اگر ہوسکے تو ابھی سے ان کی مدد کر دیں، تاکہ وہ اپنے بچوں کے عید کے کپڑے اور عید کی خوشیاں کا سامان کر سکیں۔
یہ ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہوگا، بلکہ اللہ کی طرف سے ہم پر فرض ہے اللہ نے ہم کو مال دیا ہے تو ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے، ہم انہیں بھی اس میں سے دیں۔ اگر ہم اپنے بچے کو نیا سوٹ دلا سکتے ہیں تو ہمسائیگی میں موجود غریب بچے کو عید کا سوٹ پہنا سکتے ہیں۔ یہ ہم پر عید کی خوشی کے حوالے سے ایک اہم فرض عائد ہوتا ہے۔
یا د رکھیے کہ کسی انسان کو خوشی فراہم کرنا بڑی نیکی اور اللہ کوراضی کرنے کے مترادف ہے۔ عید کی تیاریوں میں غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو شامل کرنا ایک عظیم نیکی اور اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ جس سے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ صدقۂ فطر ، زکوٰۃ، اضافی راشن، کپڑے، تقسیم کر کے اور عید کی صبح انہیں اپنے گھر مدعو کر کے عیدی دے کر ان کی خوشیوں میں حصہ دار بنیں۔ عید کا اصل مقصد معاشرے کے محروم طبقے کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا ہے، تاکہ کوئی بھی عید کی صبح بھوکا نہ رہے۔