پروفیسر خالد اقبال جیلانی
ایمان کے لغوی معنی ہیں، یقین کرنا، تصدیق کرنا، مان لینا، قبول کرنا وغیرہ، اصطلاحِ شریعت میں ایمان کہتے ہیں اس حقیقت کے قبول و اعتراف کو کہ اللہ واحدہ لا شریک ہے، یعنی وہ یکتا و تنہا ہے، اس کا کوئی بھی شریک نہیں ، وہی معبودِ برحق ہے، عبادت صرف اسی ایک اللہ کی ہی کی جائے گی، وہی تمام کائنات کا خالق، مالک اور رب ہے، اس کے تمام کمالات ذاتی و صفاتی بر حق ہیں اور حضرت محمد ﷺ اس کے سچے اور آخری نبی و رسول ہیں اور آپ ﷺ اللہ کی طرف سے قرآن اور سنت کی شکل میں انسانوں کے لئے جو دین یعنی نظام حیات اور احکام شریعت لے کر دنیا میں تشریف لائے وہ تمام احکامات ہر طرح کے شک و شبہے سے بالاتر اور سچے ہیں، ہر وہ انسان جو کلمۂ طیبہ کی سچے دل سے اقرار و تصدیق کرتا ہے، وہ مومن ہے اور یہ اس پر اللہ کا بہت بڑا انعام اور احسانِ عظیم ہے کہ اسے اللہ کی بارگاہ سے کلمۂ طیّبہ پر ایمان لانے کی توفیق حاصل ہوئی۔
حقیقت یہ کہ انسان کی دین، دنیا اور آخرت کی کامیابی اسی کلمے کے اقرار و تصدیق سے وابستہ ہے، قرآن کریم اس بات پر گواہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں ایمان والوں سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے انفرادی طور پر پاکیزہ زندگی، اطمینانِ قلب، عزت و عافیت، رافت و رحمت، قبولیت دعا، بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کرنے اور اپنی مدد اور اجتماعی طور پر ایمان والوں کو زمین میں اپنی حکومت دینے کا وعدہ کیا ہے اور دنیا کے بعد آخرت میں جنت میں مقام عطا کرنے اور اپنی رضا کی سند عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے جو کہ ایمان والوں کے لئے بڑی اور ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی کی نوید و بشارت ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے تمام وعدے ، کامیابیاں ، بشارتیں ، انعامات اور جنتیں ایمان والوں کو صرف ایک کلمے کے محض اقرار سے ہی مل جائیں گی یا پھر اللہ اس کلمے کے نظام کے تحت ہماری زندگیوں میں انفرادی طور پر تبدیلیاں اور اجتماعی نظام میں ایک ہمہ گیر اور مکمل انقلاب چاہتا ہے۔ کیا اس کلمے کے عملی تقاضے اور مطالبے بھی ہیں کہ جن کا اللہ ہم سے تقاضا کرتا اور جو ہم سے عملاً مطلوب ہیں۔
اس سوال پر غور و فکر کرنے کے دو زاویے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ ہم نےاپنی دنیاوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے یہ انعامات حاصل کیےہیں یا نہیں اور رحمت الٰہی ہماری طرف متوجہ ہےیا نہیں؟ اگر ہم اس زندگی میں اللہ کی رحمت سے مستفیض اور نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں تو کسی حد تک قابل اطمینان بات ہے، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی عدم توجہی کو دو زاویوں سے دیکھنا اور غور کرنا ہوگا اوّلاً یہ کہ ہماری وہ کیا بد اعمالیاں ہیں کہ جن کی پاداش میں رحمتِ الٰہی ہم سے منہ موڑے ہوئے ہے۔ ثانیاً یہ کہ صحابۂ کرامؓ، تابعین ؒ، تبع تابعین ؒاور ہمارے اکابر و اسلاف کے وہ کون سے اعمال اور صفاتِ حسنہ تھیں کہ جن کے انعام کے طور پر رحمت الٰہی ان پر متوجہ و سایہ فگن رہتی تھی۔
اس صورتحال میں ہمیں قرآن و سنّت کی روشنی میں یہ دیکھنا ، سمجھنا اور عمل کرنا ہوگا کہ کلمۂ طیبہ کے عملی اور حقیقی تقاضے کیا ہیں؟ اس وقت عملاً ہماری کیفیت تو یہی ہے کہ ہم یہ سمجھ بیٹھے اور اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ کلمۂ طیبہ کا صر ف زبانی کلامی اقرار کر لینا ہی ہماری دنیاو عاقبت کو سنوارنے کے لئے کافی ہے۔
اس اقرار کے بعد نیک عمل کرنا نہ کرنا ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہم کلمہ طیبہ پر ایمان کے تقاضوں سے جتنے زیادہ بے خبر اور بے بہرہ ہیں ایسے تو عہد رسالت ؐکے کفار و مشرکین بھی نہیں تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دی ،تو وہ اس کلمے کے عملی تقاضوں کو سمجھ گئے ۔
ہم لوگ چونکہ نسلی مسلمان ہیں، اسی لئے نہ ہمیں فریضۂ شہادت حق کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور نہ ہی ہم نے ایمان کے تقاضوں پر غور کرنے کی کبھی ضرورت محسوس کی۔
قرآن و حدیث کے مطالعے سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصد ہی ایک ایسی امّت کی تشکیل تھا جو خاص صفات کی حامل ہو ، کیونکہ اس امّت کو خیر امّت کے لقب سے بھی نوازا جانا تھا۔ چناچہ قرآن مجید اور احادیث میں جا بجا ان صفات کا ذکر ملتا ہے جو ایمان والوں سے اللہ اور رسولﷺ کو مطلوب ہیں۔ ان تمام صفات کا احاطہ ایک مضمون میں کرنا دشوار ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
اپنے محاسبے کے لئے ہم یہاں قرآن کریم کی چند جامع آیات پر غور کریں گے اور معلوم کریں گے کہ ہمارے ایمان کی کیا ’’کیفیت‘‘ ہے؟ سورۂ انفال کی ابتدائی آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے، ’’مومن تو وہ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے، وہ اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں اور وہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور جو مال ہم نے انہیں دیا ہے، اسے ہمارے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور یہی حقیقی مومن ہیں ، ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں بڑے درجات اور بخشش اور با عزت روزگار ہے‘‘۔
مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سچے اور حقیقی ایمان والوں کی چند صفات کا ذکر علامتی انداز میں کیا ہے، ان میں پہلی صفت خشیت ِالٰہی ہے یعنی اللہ کے حقیقی مومن بندے وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا تذکرہ کیا جائے تو اس عظمت و جلالت، ہیبت والوہیت اور کبریائی کے تصوّر ہی سے ان کے دل دہل اور سہم جاتے ہیں۔
خاص طور سے اس وقت جب خلافِ تقویٰ کوئی عمل سرزد ہو رہا ہو اور قانون خداوندی کی خلاف ورزی کا امکان ہو اور ایسے موقع پر کوئی فرشتہ صفت انسان خوفِ خداوندی کے خطرے کے سائرن بجا دے تو حقیقی مومن وبندہ الٰہی کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ خشیتِ الٰہی سے ڈر کر قانون خداوندی کی خلاف ورزی سے باز رہے اور رجوع الیٰ اللہ ہو کر نیکی کے راستے پر لوٹ آئے۔
واضح رہے کہ قانون خداوندی کی خلاف ورزی اور تقویٰ کے خلاف اپنے غلط اعمال کو دلائل سے درست اور صحیح ٹھہرانا شیطانی صفت ہے جو اللہ کے غیظ و غضب کا موجب بنتی ہے۔
اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہوگی تو اللہ کا خوف بھی نہیں ہوگا، اگر اللہ کی معرفت حاصل ہوگی تو اس کا لازمی تقاضا خوف خدا وندی کی شکل میں سامنے آئے گا تو پھر ایسے ’’خاشعین‘‘ بندوں کے مومن حقیقی ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ اسی لئے خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی کے حامل بندوں کو اللہ نے قرآن کریم میں بلندی درجات اور مغفرت کی بشارت دی ہے۔
مذکورہ بالا آیت میں بندۂ مومن کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں ان کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے یعنی بندۂ مومن کی ایمانی کیفیات میں ترقی ہوجاتی ہے اور اگر قرآن کریم کی آیات کو سن کر ایمانی کیفیات میں اضافہ اور ترقی نہ ہو اور اعمال صالحہ کا شوق نہ ابھرے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ قرآنی آیات ابھی ہمارے دلوں میں نہیں سمائیں اور یہ کیفیت کمزور ایمان کی علامت ہے۔ مذکورہ بالا ابتدائی آیات میں مومن کا مل و حقیقی کی تیسری صفت ’’توکل علیٰ اللہ ‘‘ بتائی گئی ہے۔
جس کا مطلب ہے، ہر معاملے میں صرف اور صرف اللہ ہی پر بھروسا اور اعتماد کرنا۔ یہ صفتِ توکل بھی در اصل معرفتِ خداوندی و تو حید خالص ہی کا نتیجہ و تسلسل ہے۔ بندۂ مومن جب اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے کار ساز حقیقی، مکمل مالک و مختار اور تمام صفات و کمال میں واحد و یکتا تسلیم کرلیتا ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس سے ایسے اعمال سر زد ہوں جن سے اللہ پر توکل و بھروساظاہر ہو، اس کی علامت یہ ہے کہ یقین اسباب سے ہٹ کر مسبّب الاسباب پر جم جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب کو اختیار ہی نہ کیا جائے۔ اسباب شرعی کا اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں، بلکہ ان کا اختیار کرنا جبکہ اس پر قادر ہو، سنّت رسول ﷺ ہے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ جس طرح تمام اسباب اپنے وجود میں آنے کے لئے حکم خداوندی کے محتاج ہیں، بالکل اسی طرح نتائج بر آمد کرنے اور نفع یا نقصان پہنچانے میں بھی اللہ ہی کے حکم کے محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے کسی ارادےکو پورا کرنے میں کسی سبب کا محتاج نہیں۔
مومن کے اندر اس کیفیت کا ہونا لازمی و ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’اور ایمان والوں کو صرف اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے‘‘ ۔(سورۂ آل عمران) اسی طرح مزید فرمایاگیا ’’اورا پنا بھروسا صرف اللہ ہی پر رکھو، اگر تم واقعی مومن ہو‘‘ ۔اس کے ساتھ ہی متوکلین کو یہ خوشخبری بھی دی گئی ہے ’’اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے‘‘۔(سور ۂ آل عمران)
مومن کی چوتھی صفت ’’اقامتِ صلوٰۃ یعنی نماز قائم کرنا بتائی گئی ہے۔ نماز قائم کرنے سے مراد، اوقات نماز کی پابندی، کامل وضو، خشوع و خضوع، تعدیلِ ارکان کے ساتھ تمام سنن و آداب کا لحاظ و خیال کرتے ہوئے نماز ادا کرنا، اس فکر و اہتمام کے ساتھ نماز ادا کی جائے کہ ترکِ نماز کا تصور بھی ذہن میں نہ آنے پائے، یہ وہ فریضہ اور عباد ت ہے کہ قرآن کا تقریباً ہر صفحہ کسی نا کسی پیرائے میں اس حکم سے مزین نظر آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہی نماز کی فضیلت و اہمیت کے لئے کافی ہے کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ اس کے ترک پر صرف ایک یہی وعید نبوی حتمی ہے ’’بے شک، ایمان اور شرک و کفر کے درمیان نماز حائل ہے، ہمارے اور کافروں کے درمیان نماز ہے پس جس نے نماز کو ترک کر دیا اس نے کفرکیا‘‘۔(ترمذی ومسلم) افسوس کہ ہم نماز کے اہتمام سے غافل ہیں اور خود کو کامومن سمجھے بیٹھے ہیں۔ ہمیں اپنی اس حالت اور کیفیت ایمانی پر غور کرنا چاہیے۔
ایمان والوں کی پانچویں صفت ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ بتائی گئی یعنی اللہ نے انہیں جو کچھ اور جتنا بھی رزق دیا ہے، اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر تے رہتے ہیں۔ یہ انفاق فی سبیل اللہ زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے اللہ کے ان مستحق بندوں پر بھی خرچ کرنا ہے جنہیں اللہ نے اپنی حکمت و مشیت کے تحت مال و دولت نہیں دیا اور ان کا حصہ بطور حق مالداروں کے مال میں رکھ دیا جس کی تشریح اس فرمان رسولﷺ سے ہوتی ہے کہ مال داروں کو اللہ نے جو مال و دولت عطا کی ہے، یہ اللہ نے اپنے محروم بندوں کی وجہ سے دی ہے اور اس مال میں محروم بندوں کا حصہ بطور حق رکھ دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی اعانت اور اسے غالب و نافذ کرنے کے لئے مال خرچ کرنا بھی انفاق فی سبیل ہی ہے جو کہ ایک مالدار کا اوّلین فریضہ بموجب قرآن انفاق فی سبیل اللہ وہ عمل ہے کہ جس کو اللہ نے جنت کی قیمت قرار دیا ہے اور اسی کے بدلے جنت عطا کی جائے گی۔
ایمان والوں کی مذکورہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’سچے اورحقیقی مومن وہی ہیں جو ان صفات سے متصف ہوں اور ان ہی کے لئے ان کے ربّ کے پاس بلند درجات اور مغفرت (جنت) ہے۔ ان آیات کی روشنی میں ہر ایمان والے کو اپنا جائزہ لیتے ہوئے اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے کہ اس کے اندر یہ صفات کس حد اور درجہ تک موجود ہیں۔
کیا اللہ کا ذکر سن کر واقعی ہمارے دل کانپ جاتے ہیں؟کیا قرآن کی آیات و احکامات پڑھ کر ہمارا ایمان واقعی بڑھتا ہے؟ کیا ہم واقعی اللہ پر بھروسا کرتے ہیں؟ کیا ہم نماز کو قائم کرنے کی فکر کرتے ہیں یا کم از کم خود اس کا اہتمام کرتے ہیں؟ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کی رضا کے لئے اس کے بندوں اور اس کے دین کی سربلندی و غلبے کے لئے اپنا پسندیدہ و محبوب مال خرچ کرنے کا جذبہ موجود ہے؟
اگر ان سولات کا جواب اثبات میں ہے تو پھر ہمیں اللہ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ایمان کی حقیقت و حلاوت عطا فرمادی اور اگر جواب نفی میں ہے یا ان میں سے کسی صفت میں کمی یا عدم موجودگی ہے تو ہمیں اسے حاصل کرنے اور اس کمی کو پورا کرنے کی فکرمیں لگ جانا چاہیے کیونکہ یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔