• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ایران مؤثر حملوں کیلئے چینی ’بیڈو سیٹلائٹ نظام‘ استعمال کر رہا ہے؟

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل حملوں کی بڑھتی ہوئی درستگی نے عالمی دفاعی ماہرین کو چونکا دیا۔ 

عرب میڈیا کے مطابق انٹیلیجنس ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر چین کے جدید سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ’بیڈو‘ کا استعمال کر رہا ہے جس سے اس کے میزائل پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں مقررہ ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب فرانس کی بیرونی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ الین ژویے نے ایک فرانسیسی پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں کی بہتر کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران نے ممکنہ طور پر امریکی جی پی ایس کے بجائے چینی نظام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

بیڈو نظام کیا ہے؟

’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق چین نے اپنا عالمی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام بیڈو 2020ء میں مکمل طور پر فعال کیا تھا، یہ نظام امریکی جی پی ایس، روسی گلوناس اور یورپی گیلیلیو کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔

بیڈو میں زیادہ سیٹلائٹس شامل ہیں جس کے باعث اس کی پوزیشننگ زیادہ درست سمجھی جاتی ہے۔

کیا ایران واقعی بیڈو استعمال کر رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق ایران نے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے تاہم ایران کئی برسوں سے چین کے ساتھ دفاعی و تکنیکی تعاون بڑھا رہا ہے۔

چین اور ایران کے تعلقات کے ماہر تھیو نینچینی کے مطابق ایران نے 2015ء میں بیڈو نظام کو اپنے فوجی ڈھانچے میں شامل کرنے کا معاہدہ کیا تھا، 2021ء میں چین ایران اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد ایران کو ممکنہ طور پر خفیہ سگنلز تک رسائی ملی جبکہ 2025ء تک ایران نے مرحلہ وار جی پی ایس پر انحصار کم کر دیا تھا۔

ہدف پر حملہ زیادہ درست کیسے ہوا؟

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی میزائل پہلے زیادہ تر انرشیل نیویگیشن سسٹم پر چلتے تھے جس میں وقت کے ساتھ غلطی بڑھ جاتی ہے، سیٹلائٹ سگنل شامل ہونے سے راستہ مسلسل درست ہوتا رہتا ہے، ہدف کی نشاندہی زیادہ صحیح ہوتی ہے اور جیمنگ یا سگنل جام کرنے کی کوششیں کم مؤثر ہو جاتی ہیں۔

بیڈو کا فوجی سگنل جدید اینٹی اسپوفنگ اور فریکوئنسی ہاپنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جسے تقریباً ناقابلِ جام آلہ قرار دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید