بھارت کی ریاست بہار میں ایک افسوسناک واقعے میں مبینہ طور پر ہجوم کے تشدد کا نشانہ بننے والی مسلمان خاتون روزے کی حالت میں دم توڑ گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کو ضلع مدھوبنی کے گاؤں میں اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک تنازع کے حل کے لیے گاؤں کے سربراہ کے پاس گئی تھیں۔
حملہ آوروں نے خاتون کو ایک کھمبے سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دورانِ تشدد خاتون کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اور جب انہوں نے پانی مانگا تو انہیں مبینہ طور پر پیشاب اور شراب ملے پانی کو پینے پر مجبور کیا گیا، بتایا جاتا ہے کہ اس وقت وہ روزے سے تھیں۔
شدید زخمی حالت میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ یکم مارچ کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔
پولیس کے مطابق گاؤں کے سربراہ کے بیٹے کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، واقعے کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
مقامی کمیونٹی رہنماؤں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمے دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر مزید شواہد سامنے آئے تو مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔