پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے، تاہم مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بہترین کارکردگی دکھائی، آئی ایم ایف سے ایکسٹینڈڈ فنڈز فیسیلیٹی قرض پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدے پر نہ پہنچ سکے، پاکستان اور آئی ایم ایف ٹیم کے اقتصادی جائزہ مذاکرات مزید جاری رکھے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 25 فروری سے 11مارچ تک ورچوئل مذاکرات ہوئے، خطے کی کشیدگی کی وجہ سے مذاکرات کے مزید دور ہوں گے، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہداف پر پاکستان کی کارکرگی بہتر رہی، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پاکستان نے آئی ایم ایف کا 28 ماہ کا آر ایس پروگرام بھی لیا ہوا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ خطے کی کشیدہ صورتِ حال پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہے، خطے کی کشیدگی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام کے اہداف پر اثر انداز ہو رہی ہے، تاہم آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان اقتصادی مذاکرات جاری رہیں گے، آئی ایم ایف کے پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام کے تیسرے جائزے پر مشاورت ہو گی۔
آئی ایم ایف کے وفد کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی اور مذاکرات کراچی اور اسلام آباد میں ہوئے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر وعدوں کے مطابق رہا، پاکستان کے مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور پبلک فنانس مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔
اعلامیے میں منہگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے پر بھی مذاکرات ہوئے، سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے اخراجات بڑھانے پر معاشی ٹیم سے گفتگو ہوئی، حکام کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات میں پیشرفت ہوئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر تشویش ہے، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات آئندہ چند دنوں میں جاری رہیں گے۔